Arabic & English  link    |  زیارت کے بارے میں مزید معلومات      |   آڈیو ایم پی تھری

 کیفیتِ زیارتِ امام علی رضا علیہ السلام

            واضح ہو کہ امام علی رضا علیہ السلام کیلئے بہت سی زیارتیں ہیں آپکی مشہور زیارت وہی ہے جو معتبر کتب میں ہے اور اسکو شیخ محمد بن حسن بن ولید کیطرف نسبت دی گئی ہے جو شیخ صدوق کے اساتذہ میں سے تھے، ابن قولویہ کی کتاب المزار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زیارت ائمہ سے بھی روایت ہوئی ہے اور کتاب من لا یحضرہ الفقیہ کے مطابق اسکی کیفیت اسطرح ہے کہ جب امام علی رضا - کی زیارت کا ارادہ ہو تو گھر سے سفر زیارت پر جانے سے قبل غسل کرے اور غسل کرتے وقت یہ پڑھے:

اللّٰھُمّ طہِّرْنِی وطہِّرْ لِی قلْبِی واشْرحْ لِی صدْرِی، وأجْرِ علی لِسانِی مِدْحتک والثّناء علیْک،

اے معبود! مجھے پاک کر دے میرا دل پاک کر دے اور میرے سینے کو کھول دے میری زبان پر اپنی مدح و ستائش جاری کر دے کیونکہ نہیں ہے قوت مگر تجھی سے

فإِنّہُ لا قُوّة إِلاّ بِک۔اللّٰھُمّ اجْعلْہُ لِی طھُوراً وشِفاءً۔

 جب گھر سے سفر زیارت پر روانہ ہو تو یہ کہے

 اے معبود اس غسل کومیرے لیے پاکیزگی وشفا کا ذریعہ بنا خدا کے نامسے خدا کی ذات کے واسطے

:بِسْمِ اللهِ وبِاللهِ وإِلی اللهِ وإِلی ابْنِ رسُولِ اللهِ حسْبِی اللهُ توکّلْتُ علی اللهِ اللّٰھُمّ إِلیْک توجّھْتُ وإِلیْک

 سے چلا ہوں خداکی طرف اور رسول خدا کے فرزند کی طرف میرے لیے خدا کافی ہے بھروسہ کیا ہے میں نے خدا پر اے معبود میں نے تیری طرف رخ کیا اور

قصدْتُ وما عِنْدک أردْتُ۔اپنے گھر کے دروازے سے باہر آکر یہ دعا پڑھے:اللّٰھُمّ إِلیْک وجّھْتُ وجْھِی

 تیری طرف چلا ہوں اور جو کچھ تیرے ہاں ہے اسکی خواہش رکھتا ہوں۔ اے معبود میں نے اپنا رخ تیری طرف کیا

وعلیْک خلّفْتُ أھْلِی ومالِی وما خوّلْتنِی وبِک وثِقْتُ فلا تُخیِّبْنِی یا منْ لا یُخیِّبُ منْ أرادھُ ولا

اور میں نے اپنا مال اپنا کنبہ اور جو کچھ تو نے دیا ہے سب کچھ تیرے سپرد کیا اور تجھ پر بھروسہ کیا ہے پس تہی دست نہ کر اے وہ جو تہی دست نہیں کرتا جو اسکی طرف

یُضیِّعُ منْ حفِظہُ صلِّ علی مُحمّدٍ وآلِ محُمّدٍ واحْفظْنِی بِحِفْظِک فإِنّہُ لا یضِیعُ منْ حفِظْت۔

 آئے وہ گم نہیں ہوتا جسکی وہ حفاظت کرے حضرت محمد اور آل محمد پر رحمت فرما اور مجھ کو اپنی نگرانی میں رکھ کیونکہ جو تیری حفاظت میں ہو وہ ضائع نہیں ہوتا۔

جب خیریت کیساتھ مشہد مقدس پہنچ جائے اور زیارت کرنے کا قصد کرلے تو پہلے غسل کرے اور اس وقت یہ پڑھے:

اللّٰھُمّ طہِّرْنِی وطہِّرْ لِی قلْبِی واشْرحْ لِی صدْرِی وأجْرِ علی لِسانِی مِدْحتک ومحبّتک و

اے معبود مجھے پاک کر دے میرے دل کو پاک کر دے اور میرے سینے کو کھول دے میری زبان پر اپنی ستائش محبت اور

الثّناء علیْک فإِنّہُ لا قُوّة إِلاّ بِک وقدْ علِمْتُ أنّ قِوام دِینِی التّسْلِیمُ لاِمْرِک والاتِّباعُ لِسُنّةِ

 تعریف جاری فرما دے کہ یقینا نہیں کوئی قوت مگر جو تجھ سے ملتی ہے اور میں جانتا ہوں کہ میرے دین کی اصل تیرے حکم کا ماننا تیری

نبِیِّک والشّھادةُ علی جمِیعِ خلْقِک اللّٰھُمّ اجْعلْہُ لِی شِفاءً ونُوراً إِنّک علی کُلِّ شیْءٍ قدِیرٌ۔

 نبی کی سنت کی پیروی کرنا اور تیری مخلوقات پر گواہ بننا ہے اے معبود اس غسل کو میرے لیے شفا و روشنی کا ذریعہ بنا کیونکہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

            اسکے بعد پاک و پاکیزہ لباس پہنے اور خدا کو یاد کرتے ہوئے ننگے پاؤں آرام ووقار سے حرم کیطرف یہ پڑھتاہوا چلے

اللهُ اکْبرُ لا اِلٰہ اِلاّ اللهُ و سُبْحان اللهِ والْحمْدُ للهِ چلتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے اور روضہ اقدس میں

خدا بزرگتر ہے خدا کے سواء کوئی معبود نہیں خدا پاک تر ہے اور ہر تعریف خدا کے لیے ہے۔

داخل ہو تو یہ پڑھے:بِسْمِ اللهِ وبِاللهِ وعلی مِلّةِ رسُولِ اللهِ أشْھدُ أنْلا إِلہ إِلاّ اللهُ وحْدھُ لا شرِیک لہُ

 خدا کے نام سے خدا کی ذات کے واسطے سے اور رسول خدا کے طریقے پر خدا رحمت کرے ان پر اور انکی آل پر میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواء کوئی

وأشْھدُ أنّ مُحمّداً عبْدُھُ ورسُولُہُ وأنّ علِیّاً ولِیُّ اللهِ ۔پھر ضریح پاک کے قریب جائے پشت بہ قبلہ ہو کرحضرت

 معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اسکا شریک نہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اسکے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ علی خدا کے ولی ہیں

امام رضا - کیطرف رخ کرے اور کہے:أشْھدُ أنْ لا إِلہ إِلاّ اللهُ وحْدھُ لا شرِیک لہُ وأشْھدُ أنّ مُحمّداً

 میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سواء کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد

عبْدُھُ ورسُولُہُ وأنّہُ سیِّدُ الْاوّلِین والْاخِرِین وأنّہُ سیِّدُ الْانْبِیاءِ والْمُرْسلِین اللّٰھُمّ صلِّ علی مُحمّدٍ

 اسکے بندے اور رسول ہیں وہ اولین کے اور آخرین کے سردار ہیں اور وہ سب نبیوں اور رسولوں کے سردار ہیں اے معبود حضرت محمد پر رحمت کر

عبْدِک ورسُولِک ونبِیِّک وسیِّدِ خلْقِک أجْمعِین صلاةً لا یقْوی علی إِحْصائِہا غیْرُک

جو تیرے بندے تیرے رسول تیرے نبی اور تیری ساری مخلوق کے سردار ہیں ایسی رحمت جس کا حساب تیرے سوا کوئی

اللّٰھُمّ صلِّ علی أمِیرِ الْمُؤْمِنِین علِیِّ بْنِ أبِی طالِبٍ عبْدِک وأخِی رسُولِک الّذِی انْتجبْتہُ

نہ لگا سکے اے معبود! حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب پر رحمت فرما جو تیرے بندے اور رسول کے بھائی ہیں کہ انہیں

بِعِلْمِک وجعلْتہُ ہادِیاً لِمنْ شِئْت مِنْ خلْقِک والدّلِیل علی منْ بعثْتہُ بِرِسالاتِک ودیّان الدِّینِ

 خاص کیا تو نے علم دے کر اور انکو رہبر بنایا اس کیلئے جسے تو نے اپنی مخلوق میں سے چاہا اور رہنما بنایا اسکی طرف جسکو تو نے اپنا پیغام دے کر بھیجا اور انکو مقرر

بِعدْلِک وفصْلِ قضائِک بیْن خلْقِک والْمُھیْمِن علی ذلِک کُلِّہِ والسّلامُ علیْہِ ورحْمةُ اللهِ

 کیا کہ تیرے عدل کے مطابق جزائے عمل دیں اور تیری مخلوق میں تیری مرضی سے فیصلے دیں اور وہ ان تمام کاموں کے ذمہ دار ہیں سلام ہو ان پراور خدا کی

وبرکاتُہُ۔اللّٰھُمّ صلِّ علی فاطِمة بِنْتِ نبِیِّک وزوْجةِ ولِیِّک وأُمِّ السِّبْطیْنِ الْحسنِ والْحُسیْنِ

رحمت ہو اوراسکی برکات ہو اے معبود فاطمہ پر رحمت نازل کر جو تیرے نبی کی دختر اور تیرے ولی کی زوجہ ہیں نیز وہ نبی کے دو نواسوں حسن و حسین کی ماں ہیں

سیِّدیْ شبابِ أھْلِ الْجنّةِ الطُّھْرةِ الطّاھِرةِ الْمُطہّرةِ التّقِیّةِ النّقِیّةِ الرّضِیّةِ الزّکِیّةِ سیِّدةِ نِساءِ

جو جوانان جنت کے سردار ہیں وہ بی بی پاک پاکیزہ پاک شدہ پرہیزگار باصفا پسندیدہبے عیب نیز جنت میں

أھْلِ الْجنّةِ أجْمعِین صلاةً لا یقْوٰی علی إِحْصائِہا غیْرُک اللّٰھُمّ صلِّ علی الْحسنِ والْحُسیْنِ

 تمام عورتوں کی سردار ہیں اتنی رحمت فرما جسے تیرے سواء کوئی شمار نہ کر سکتا ہو اے معبود! دونوں بھائیوں حسن اور حسین پر رحمت فرما

سِبْطیْ نبِیِّک وسیِّدیْ شبابِ أھْلِ الْجنّةِ الْقائِمیْنِ فِی خلْقِک والدّلِیلیْنِ علی منْ بعثْت

جو تیرے نبی کے دو نواسے اور جوانان جنجنت کے سید و سردار ہیں تیری مخلوق میں قائم و نگران ہیں اور رہنمائی کرتے ہیں اس ذات کی طرف جسے تو نے پیغمبر

بِرِسالاتِک ودیّانیِ الدِّینِ بِعدْلِک وفصْلیْ قضائِک بیْن خلْقِک۔ اللّٰھُمّ صلِّ علی علِیِّ بْنِ

 بنا کے بھیجا وہ تیرے عدل کے تحت اعمال کی جزا دینے والے اور تیری مخلوق میں تیرے احکام کے مطابق فیصلے دینے والے ہیں اے معبود علی بن الحسین پر

الْحُسیْنِ عبْدِک الْقائِمِ فِی خلْقِک والدّلِیلِ علی منْ بعثْت بِرِسالاتِک ودیّانِ الدِّینِ بِعدْلِک

رحمت فرما جو تیرے بندے ہیں تیری مخلوق کی نگہداری اور رہنمائی کرتے ہیں اس ذات کی طرف جسے تو نے پیغمبر بنا کے بھیجا

وفصْلِ قضائِک بیْن خلْقِک سیِّدِ الْعابِدِین۔اللّٰھُمّ صلِّ علی مُحمّدِ بْنِ علِیٍّ عبْدِک وخلِیفتِک

وہ تیرے عدل کے تحت اعمال کی جزا دینے والے اور تیری مخلوق میں تیری مرضی سے فیصلے دینے والے عبادت گزاروں کے سردار ہیں اے معبود! محمد بن علی

فِی أرْضِک باقِرِ عِلْمِ النّبِیِّین۔اللّٰھُمّ صلِّ علی جعْفرِ بْنِ مُحمّدٍ الصّادِقِ عبْدِک وولِیِّ دِینِک

 پر رحمت فرما جو تیرے بندے اور تیری زمین میں تیرے نائب ہیں نبیوں کے علوم کی اشاعت کرنے والے اے معبود جعفر صادق بن محمد پر رحمت

وحُجّتِک علی خلْقِک أجْمعِین الصّادِقِ الْبارِّ اللّٰھُمّ صلِّ علی مُوسی بْنِ جعْفرٍ عبْدِک

 فرما جو تیرے بندے ہیں تیرے دین کے مددگار اور تیری مخلوق پر تیری طرف سے حجت ہیں وہ صادق اور نیک ہیں اے معبود موسیٰ بن جعفر پر رحمت

الصّالِحِ ولِسانِک فِی خلْقِک النّاطِقِ بِحُکْمِک والْحُجّةِ علی برِیّتِک۔ اللّٰھُمّ صلِّ علی علِیِّ

 فرما جو تیرے نیک بندے اور تیری مخلوق میں تیرے حکم سے بولنے والی زبان ہیں اور تیری مخلوق پر تیری حجت ہیں اے معبود! علی بن موسیٰ پر

بْنِ مُوسی الرِّضا الْمُرْتضیٰ عبْدِک وولِیِّ دِینِک الْقائِمِ بِعدْلِک والدّاعِی إِلی دِینِک

رحمت فرما جو تجھ سے راضی ہیں تیرے پسندیدہ بندے ہیں تیرے دین کے مددگار تیرے عدل پر کاربند اور تیرے دین کی طرف بلانے والے ہیں

ودِینِ آبائِہِ الصّادِقِین صلاةً لایقْوٰی علی إِحْصائِہا غیْرُک۔ اللّٰھُمّ صلِّ علی مُحمّدِ بْنِ

جو ان کے صاحب صدق بزرگوں کا دین ہے اتنی رحمت کر جس کا شمار سوائے تیرے کوئی نہ کر سکتا ہو اے معبودمحمد بن علی پر رحمت فرما

علِیٍّ عبْدِک وولِیِّک الْقائِمِ بِأمْرِک والدّاعِی إِلی سبِیلِک۔ اللّٰھُمّ صلِّ علی علِیِّ بْنِ

جو تیرے بندے اور تیرے ولی ہیں تیرا حکم پہنچانے والے اور تیرے راستے کی طرف بلانے والے اے معبود! علی بن محمد پر رحمت

مُحمّدٍ عبْدِک وولِیِّ دِینِک۔ اللّٰھُمّ صلِّ علی الْحسنِ بْنِ علِیٍّ الْعامِلِ بِأمْرِک الْقائِمِ

نازل کر جو تیرے بندہ اور تیرے دین کے ولی ہیں اے معبودحسن بن علی پر رحمت نازل فرما جو تیرے حکم پر عمل کرنے والے

فِی خلْقِک وحُجّتِک الْمُؤدِّی عنْ نبِیِّک وشاھِدِک علی خلْقِک الْمخْصُوصِ

تیری مخلوق میں نگران تیرے نبی کی طرف حجت پیش کرنے والے تیری مخلوق پر تیرے گواہ تیری طرف سے بزرگی

بِکرامتِک الدّاعِی إِلی طاعتِک وطاعةِ رسُولِک صلواتُک علیْھِمْ أجْمعِین۔ اللّٰھُمّ

میں منتخب شدہ تیری اطاعت اور تیرے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دینے والے تیری رحمتیں ہوں ان سب پر اے معبود

صلِّ علی حُجّتِک وولِیِّک الْقائِمِ فِی خلْقِک صلاةً تامّةً نامِیةً باقِیةً تُعجِّلُ بِہا فرجہُ

اپنی حجت اور اپنے ولی پر رحمت نازل فرما جو تیری مخلوق میں نگہبان ہیں وہ رحمت جو کامل بڑھنے والی باقی رہنے والی ہے اس سے انہیں کشادگی دے

وتنْصُرُھُ بِہا وتجْعلُنا معہُ فِی الدُّنْیا والْاخِرةِ۔ اللّٰھُمّ إِنِّی أتقرّبُ إِلیْک بِحُبِّھِمْ

اور انکی مدد فرما اور ہمیں انکے ساتھ رکھ دنیا اور آخرت میں اے معبود!میں تیرا قرب چاہتا ہوں انکی محبت کے واسطے سے انکے

وأُوالِی ولِیّھُمْ وأُعادِی عدُوّھُمْ فارْزُقْنِی بِھِمْ خیْر الدُّنْیا والْاخِرةِ واصْرِفْ عنِّی بِھِمْ شرّ

دوستوں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں پس عطاکر ان کے صدقے دنیا کی بھلائی اور آخرت کی فلاح اور ان کے واسطے

الدُّنْیا والْآخِرةِ وأھْوال یوْمِ الْقِیامةِ۔ پھر حضرت کے سرہانے کی طرف بیٹھ جائے اور کہے:

سے دنیا و آخرت کی تنگی سے مجھے بچائے رکھ اورقیامت میں ہر خوف سے محفوظ فرما۔

السّلامُ علیْک یا ولِیّ اللهِ السّلامُ علیْک یا حُجّة اللهِ السّلامُ علیْک یا نُور اللهِ فِی

آپ پر سلام ہو اے خدا کے ولی آپ پر سلام ہو اے حجت خدا آپ پر سلام ہو اے وہ جو زمین کی تاریکیوں میں

ظُلُماتِ الْارْضِ السّلامُ علیْک یا عمُود الدِّینِ السّلامُ علیْک یا وارِث آدم صفْوةِ اللهِ

نور خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے دین کے ستون آپ پر سلام ہو اے آدم کے وارث جو خدا کے برگزیدہ ہیں

السّلامُ علیْک یا وارِث نُوحٍ نبِیِّ اللهِ السّلامُ علیْک یا وارِث إِبْراھِیم خلِیلِ اللهِ

آپ پر سلام ہو اے نوح کے وارث جو نبی خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے ابراہیم کے وارث جو خدا کے خلیل ہیں

السّلامُ علیْک یا وارِث إِسْماعِیل ذبِیحِ اللهِ السّلامُ علیْک یا وارِث مُوسی کلِیمِ اللهِ

آپ پر سلام ہو اے اسماعیل کے وارث جو ذبیح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے موسیٰ کے وارث جو خدا کے کلیم ہیں

السّلامُ علیْک یا وارِث عِیسی رُوحِ اللهِ السّلامُ علیْک یا وارِث مُحمّدٍ رسُولِ اللهِ

آپ پر سلام ہو اے عیسیٰ کے وارث جو خدا کی روح ہیں آپ پر سلام ہو اے محمد کے وارث جو خدا کے رسول ہیں

السّلامُ علیْک یا وارِث أمِیرِ الْمُؤْمِنِین علِیٍّ ولِیِّ اللهِ ووصِیِّ رسُولِ ربِّ الْعالمِین

آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین علی  کے وارث جو خدا کے ولی اور رب کائنات کے رسول کے جانشین ہیں

السّلامُ علیْک یا وارِث فاطِمة الزّھْراءِ السّلامُ علیْک یا وارِث الْحسنِ والْحُسیْنِ

آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہرا کے وارث آپ پر سلام ہو اے وارث حسن وحسین جو جوانان بہشت کے

سیِّدیْ شبابِ أھْلِ الجنّةِ السّلامُ علیْک یا وارِث علِیِّ بْنِ الْحُسیْنِ زیْنِ الْعابِدِین السّلامُ

سید و سردار ہیں سلام ہو آپ پر اے علی بن الحسین کے وارث جو عبادت گذاروں کی زینت ہیں آپ پر

علیْک یا وارِث مُحمّدِ بْنِ علِیٍّ باقِرِ عِلْمِ الْاوّلِین والْاخِرِین السّلامُ علیْک یا وارِث

سلام ہو اے محمد بن علی کے وارث جو ظاہر کرنے والے ہیں اولین و آخرین کے علم کو سلام ہو آپ پر اے

جعْفرِ بْنِ مُحمّدٍ الصّادِقِ الْبارِّ السّلامُ علیْک یا وارِث مُوسی بْنِ جعْفرٍ السّلامُ علیْک

جعفر بن محمد کے وارث جو صاحب صدق اور نیک ہیں آپ پر سلام ہو اے وارث موسیٰ بن جعفر آپ پر سلام ہو

أیُّھا الصِّدِّیقُ الشّھِیدُ السّلامُ علیْک أیُّھا الْوصِیُّ الْبارُّ التّقِیُّ أشْھدُ أنّک قدْ أقمْت

اے صاحب صدق شہید سلام ہو آپ پر اے وصی نیک اور پرہیزگار میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز

 الصّلاةُ وآتیْت الزّکاةوأمرْت بِالْمعْرُوفِ ونھیْت عنِ الْمُنْکرِ وعبدْت الله مُخْلِصاً حتّی

قائم کی اور زکوٰة دی آپ نے نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے منع کیا آپ خدا کی بندکی کرتے رہے یہاں تک 

أتاک الْیقِینُ السّلامُ علیْک یا أبا الْحسنِ ورحْمةُ اللهِ وبرکاتُہُ۔ پھر خود کو ضریح پاک سے

کہ شہید ہو گئے آپ پر سلام ہو اے ابوالحسن اور خدا کی رحمت اور اس کی برکات ہوں

لپٹائے اور کہے:اللّٰھُمّ إِلیْک صمدْتُ مِنْ أرْضِی وقطعْتُ الْبِلاد رجاء رحْمتِک فلا

 اے معبود! میں تیری طرف آیا ہوں اپنا وطن چھوڑ کر اور کئی شہروں سے گزر کر تیری رحمت کی آرزو میں پس مجھیناامید نہ

تُخیِّبْنِی ولا ترُدّنِی بِغیْرِ قضاءِ حاجتِی وارْحمْ تقلُّبِی علی قبْرِ ابْنِ أخِی رسُولِک

 کر اور مجھے میری حاجت روائی کے بغیر نہ پلٹا اور رحم فرماجبکہ میں تیرے رسول کے بھائی کے فرزند کی قبر پر پڑا تڑپتا ہوں ان پر اور انکی آل پر تیری رحمتیں

صلواتُک علیْہِ وآلِہِ بِأبِی أنْت وأُمِّی یا موْلای أتیْتُک زائِراً وافِداً عائِذاً مِمّا جنیْتُ علی

ہوں قربان آپ پر میرے ماں باپ اے میرے آقا آپکی زیارت کرنے حاضر ہوا ہوں پناہ لینے اس جرم سے جو میں نے اپنی جان پر کیا اور اس کا بار میری

نفْسِی واحْتطبْتُ علی ظھْرِی فکُنْ لِی شافِعاً إِلی اللهِ یوْم فقْرِی وفاقتِی فلک عِنْد اللهِ مقامٌ

گردن پر ہے پس بن جائیں میرے لئے شفاعت کرنے والے خدا کے سامنے میری غربت و ناداری کے دن کیونکہ آپ خدا کے ہاں بلند مرتبہ رکھتے ہیں

محْمُودٌ وأنْت عِنْدھُ وجِیہٌ۔ پس اپنا دایاں ہاتھ بلند کرے بایاں ہاتھ قبر مبارک پر رکھے اور یہ کہے:اللّٰھُمّ إِنِّی

 اور اس کے نزدیک آپ باعزت ہیں۔ اے معبود میں تیرا قرب

أتقرّبُ إِلیْک بِحُبِّھِمْ وبِوِلایتِھِمْ أتولّیٰ آخِرھُمْ بِما تولّیْتُ بِہِ أوّلھُمْ وأبْرأُ مِنْ کُلِّ ولِیجةٍ دُونھُمْ۔

 چاہتا ہوں انکی محبت اور انکی ولایت کے ذریعے محب ہوں ان میں سے آخری کا جیسے محب تھا ان میں سے پہلے کا اور بیزار ہوں ہر گروہ سے سوائے انکے

اللّٰھُمّ الْعنِ الّذِین بدّلُوا نِعْمتک واتّھمُوا نبِیّک وجحدُوا بِآیاتِک وسخِرُوا بِإِمامِک وحملُوا

اے معبود لعنت بھیج ان لوگوں پر جنہوں نے تیری نعمت کو اسکی جگہ سے ہٹایا تیرے پیغمبر کو الزام دیا تیری آیتوں کا انکار کیا تیرے مقرر کردہ

النّاس علی أکْتافِ آلِ مُحمّدٍ۔اللّٰھُمّ إِنِّی أتقرّبُ إِلیْک بِاللّعْنةِ علیْھِمْ والْبرائةِ مِنْھُمْ فِی الدُّنْیا

امام کا مذاق اڑایا اور دوسرے لوگوں کو آلِ محمد پر حاکم و مختار بنایا اے معبود میں تیرا قرب چاہتا ہوں ظالموں پر لعنت کر کیاور ان سے بیزاری کرتے ہوئے دنیا

والآخِرةِ یا رحْمنُ پھر حضرت کی پائنتی کی طرف جائے اور کہے:صلّی اللهُ علیْک یا أبا الْحسنِ صلّی اللهُ علی

 اور آخرت میں اے بہت رحم والے خدا آپ پر رحمت کرے اے ابوالحسن خدا آپ کی روح پر رحمت

رُوحِک وبدنِک صبرْت وأنْت الصّادِقُ المُصدّقُ قتل اللهُ منْ قتلک بِالْایْدِی والْالْسُنِ۔

فرمائے اور آپکے بدن پر کہ آپ نے صبر کیا اور آپ ہیں تصدیق کرنے والے تصدیق شدہ خدا قتل کرے اسے جس نے آپکے قتل میں ہاتھ اور زبان سے کام لیا۔

            اس کے بعد بہت گریہ و زاری کرے اور امیر المومنین، امام حسن، امام حسین اور دیگر افراد اہلبیت٪ کے قاتلوں پر بے شمار لعنت کرے۔ پھر حضرت کے سرہانے کی طرف ہو کر دو رکعت نماز زیارت بجا لائے کہ پہلی رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ یٰسین اور دوسری رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ رحمن پڑھے جب نماز سے فارغ ہو جائے تو خدا کے حضور گریہ و زاری کرتے ہوئے اپنے لیے اپنے والدین اور تمام مومنوں کے لیے زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگے اور اس کے بعد جب تک چاہے وہاں ذکر الٰہی میں مشغول رہے اور مناسب ہو گا کہ اپنی واجب نمازیں بھی حضرت کے روضہ مبارک کے نزدیک ہی بجا لائے۔مؤلف کہتے ہیں مندرجہ بالا زیارت حضرت کی تمام زیارتوں میں سے بہتر ہے جو آپ کیلئے نقل ہوئی ہیں من لا یحضرہ الفقیہ عیون الاخبار اور علامہ مجلسی کی کتابوں میں سخِرُوْا بِاِمامِک کا جملہ آیا ہے جو زیارت کے آخر میں ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ خدایا لعنت کر ان لوگوں پر جنہوں نے اپنی زندگی میں تیرے معین کردہ امام کا مذاق اڑایا۔ لیکن مصباح الزائر میں یہ جملہ اس طرح ہے وسخِرُوْا بِایّامِک تاہم یہ بھی معنی کے لحاظ سے درست ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ زیادہ بہتر ہو کیونکہ ایام سے بھی امام ہی مراد ہیں۔ جیسا کہ پہلے باب کی پانچویں فصل میں صقر بن ابی دلف سے مروی ایک حدیث گزر چکی ہے۔ یہ بات بھی واضح رہنا چاہئے کہ ائمہ کے قاتلوں پر جس زبان میں بھی لعنت کی جائے وہ درست ہے۔ ذیل کے جملے جو بعض دعاؤں سے ماخوذ ہیں اگر ائمہ کے قاتلوں پر لعنت کرنے میں یہ جملے دوہرائے جائیں تو اور بھی بہتر ہے۔

اللّٰھُمّ الْعنْ قتلة أمِیرِالْمُؤْمِنِین وقتلة الْحسنِ والْحُسیْنِ علیْھِمُ السّلامُ وقتلة أھْلِ بیْتِ

اے معبود امیر المومنین کے قاتلوں پر لعنت بھیج اور حسن و حسین کے قاتلوں پر لعنت بھیج اور اپنے نبی کے اہلبیت

نبِیِّک اللّٰھُمّ الْعنْ أعْداء آلِ مُحمّدٍ وقتلتھُمْ وزِدْھُمْ عذاباً فوْق الْعذابِ وھواناً فوْق

کے قاتلوں پر لعنت بھیج اے معبود آل محمد کے دشمنوں اور ان کے قاتلوں پر لعنت بھیج ان کیلئے عذاب پر عذاب بڑھا خواری پر

ھوانٍ وذُلاًّ فوْق ذُلٍّ وخِزْیاً فوْق خِزْیٍ اللّٰھُمّ دُعّھُمْ إِلی النّارِ دعّاً وأرْکِسْھُمْ فِی ألِیمِ

خواری ذلت پر ذلت اور رسوائی پر رسوائی دے اے معبود! ان کو آگ میں سختی سے جھونک دے اور انہیں سخت

عذابِک رکْساً واحْشُرْہمْ وأتْباعھُمْ إِلی جھنّم زُمراً۔

عذاب میں اوندھے منہ ڈال دے اور ان کو اور ان کے پیروکاروں کو جہنم میں اکٹھا کر دے۔

 تحفة الزائر میں ہے کہ شیخ مفید کا ارشاد ہے کہ امام علی رضا -کی نماز زیارت ادا کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے:

اللّٰھُمّ إِنِّی أسْألُک یا اللهُ الدّائِمُ فِی مُلْکِہِ الْقائِمُ فِی عِزِّھِ الْمُطاعُ فِی سُلْطانِہِ الْمُتفرِّدُ فِی

اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ جو ہمیشہ سے حکمران اور ہمیشہ سے عزت دار ہے اپنی حکومت میں اسکا حکم مانا جاتا ہے

کِبْرِیائِہِ الْمُتوحِّدُ فِی دیْمُومِیّةِ بقائِہِ الْعادِلُ فِی برِیّتِہِ الْعالِمُ فِی قضِیّتِہِ الْکرِیمُ فِی تأْخِیرِ

اپنی بڑائی میں یگانہ ہے ہمیشہ باقی رہنے میں یکتا ہے اپنی مخلوق میں عدل کرنے والا اپنے فیصلے میں علم والا اپنی طرف سے سزا دینے

عُقُوبتِہِ إِلھِی حاجاتِی مصْرُوفةٌ إِلیْک وآمالِی موْقُوفةٌ لدیْک وکُلّما وفّقْتنِی مِنْ خیْرٍ فأنْت

میں دیر کرنے والا بزرگوار ہے میرے معبود میری حاجات تیری بارگاہ میں پہنچ رہی ہیں میری تمنائیں تیرے سامنے جا ٹھہری ہیں اور

دلِیلِی علیْہِ وطرِیقِی إِلیْہِ یا قدِیراً لا تؤُودُھُ الْمطالِبُ یا ملِیّاً یلْجأُ إِلیْہِ کُلُّ راغِبٍ ما زِلْتُ

جب تو مجھے نیکی کی توفیق دیتا ہے پس تو ہی اس میں میرا رہبر اور تو ہی میرا راستہ ہے اے قدرت والے حاجات تجھے تھکاتے نہیں

مصْحُوباً مِنْک بِالنِّعمِ جارِیاً علی عاداتِ الْاِحْسانِ والْکرمِ أسْألُک بِالْقُدْرةِ النّافِذةِ فِی جمِیعِ

اے وہ مختار کہ ہر مشتاق جس کی پناہ لیتا ہے تو نے ہمیشہ ہی مجھے اپنی نعمتوں سے ہمکنار کیا تو نے ہمیشہ احسان و کرم کا سلسلہ جاری رکھا ہے میں

الْاشْیاءِ وقضائِک الْمُبْرمِ الّذِی تحْجُبُہُ بِأیْسرِ الدُّعاءِ وبِالنّظْرةِ الّتِی نظرْت بِہا إِلی الْجِبالِ

سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری قدرت کے واسطے سے جو سب چیزوں پر حاوی ہے تیرے محکم فیصلے کے واسطے سے جسے تھوڑی سی دعا بھی روک دیتی ہے اور

فتشامختْ وإِلی الْارضِین فتسطّحتْ وإِلی السّمواتِ فارْتفعتْ وإِلی الْبِحارِ فتفجّرتْ یا

تیری نظر کے واسطے سے جو تو نے پہاڑوں پر ڈالی تو وہ بلند ہو گئے زمینوں پر ڈالی تو وہ بچھتی چلی گئیں وہ نظر آسمانوں پر کی تو وہ بالاتر ہو گئے سمندروں پر کی تو وہ

منْ جلّ عنْ أدواتِ لحظاتِ الْبشرِ ولطُف عنْ دقائِقِ خطراتِ الْفِکرِ لا تُحْمدُ یا سیِّدِی إِلاّ

 پھٹ گئے کہ جو انسان کی نظروں میں آنے سے بلند تر ہے اور ذہن میں آنے والے خیالات کی رسائی سے دور ہے تیری حمد نہیں ہو سکتی اے میرے مالک

بِتوْفِیقٍ مِنْک یقْتضِی حمْداً ولا تُشْکرُ علی أصْغرِ مِنّةٍ إِلاّ اسْتوْجبْت بِہا شُکْراً فمتیٰ تُحْصیٰ

لیکن تیری دی ہوئی توفیق سے کہ جس پر تیری حمد ہے اورنہ تیرے چھوٹے سے احسان کا شکر ادا ہو سکتا ہے لیکن یہ کہ تو نے اس کا شکر واجب کیا پس کیسے شمار ہو

نعْماؤُک یا إِلھِی وتُجازیٰ آلاؤُک یا موْلای وتُکافأُ صنائِعُک یا سیِّدِی ومِنْ نِعمِک یحْمدُ

تیری نعمتوں کا اے میرے معبود کیسے بدلہ ہو تیری مہربانیوں کااے میرے آقا اور کس طرح حساب ہو تیرے احسانوں کا اے میرے

الْحامِدُون ومِنْ شُکْرِک یشْکُرُ الشّاکِرُون وأنْت الْمُعْتمدُ لِلذُّنُوبِ فِی عفْوِک والنّاشِرُ علی

 سردار یہ بھی تیری نعمت ہے جو حمد کرتے ہیں حمد کرنے والے اور تیری قدر دانی سے شکر کرنیوالے شکر کرتے ہیں اور تو ہی ہے کہ گناہوں میں اپنے عفو کا سہارا

الْخاطِئِین جناح سِتْرِک وأنْت الْکاشِفُ لِلضُّرِّ بِیدِک فکمْ مِنْ سیِّئةٍ أخْفاہا حِلْمُک حتّی

دیتا ہے اور خطا کاروں کو اپنی پردہ پوشی سے ڈھانپ لیتا ہے تو اپنے دست قدرت سے سختیاں دور کر دیتا ہے پس کتنے ہی گناہ ہیں جن کو تیری نرمی چھپائے

دخِلتْ وحسنةٍ ضاعفہا فضْلُک حتّی عظُمتْ علیْھا مُجازاتُک جللْت أنْ یُخاف مِنْک

رکھتی ہے وہ معدوم ہو جاتے ہیں اور کتنی ہی نیکیاں ہیں کہ تیرا احسان انہیں دگنا کردیتا ہے ان پر تو بہت زیادہ جزا دیتا ہے تو بلند ہے اس سے کہ تجھ سے ڈریں

إِلاّالْعدْلُ وأنْ یُرْجیٰ مِنْک إِلاّ الْاِحْسانُ والْفضْلُ فامْنُنْ علیّ بِماأوْجبہُ فضْلُک ولا تخْذُلْنِی

 سوائے تیرے عدل کے اور یہ کہ آرزو رکھیں تجھ سے سوائے تیرے احسان اور بخشش کے پس احسان فرما مجھ پر جسے تیرا فضل لازم کرے اور مجھے نظر انداز نہ کر

بِما یحْکُمُ بِہِ عدْلُک سیِّدِی لوْ علِمتِ الْارْضُ بِذُنُوبِی لساختْ بِی أوِ الْجِبالُ لھدّتْنِی

اس فیصلے پر جو تیرے عدل نے کیا ہو میرے مالک اگر زمین میرے گناہوں کو جان جاتی تو مجھے نیچے دبا دیتی یا پہاڑ مجھے پیس ڈالتے

أوِ السّمواتُ لاخْتطفتْنِی أوِ الْبِحارُ لاغْرقتْنِی سیِّدِی سیِّدِی سیِّدِی موْلای موْلای موْلای

یا آسمان مجھے کھینچ لیتے یا سمندر مجھ کو ڈبو دیتے میرے مالک میرے مالک میرے مالک میرے آقا میرے آقامیرے آقا یقینا بار دیگر میں

قدْ تکرّر وُقُوفِی لِضِیافتِک فلا تحْرِمْنِی ما وعدْت الْمُتعرِّضِین لِمسْألتِک یا معْرُوف الْعارِفِین

 تیری مہمانی میں کھڑا ہوں پس مجھے اس چیز سے محروم نہ رکھ جس کا وعدہ مانگنے والوں سے تو نے کیا ہے جو تیرے ہاں آئیں اے عرفاء کے پہچانے ہوئے

یا معْبُود الْعابِدِین یامشْکُور الشّاکِرِین یا جلِیس الذّاکِرِین یا محْمُود منْ حمِدھُ یا موْجُود منْ

اے عبادتگزاروں کے معبود اے شاکرین کے مشکور اے ذکر کرنے والوں کے ہم دم اے حمد کرنے والوں کے محمود جو حمد کرے اے موجود ہر طلبگار کے لیے

طلبہُ یا موْصُوف منْ وحّدھُ یا محْبُوب منْ أحبّہُ یا غوْث منْ أرادھُ یا مقْصُود منْ أناب إِلیْہِ

 اے توصیف شدہ کہ جو یگانہ ہے اے محبوں کے محبوب اے پکارنے والوں کے داد رس اے توبہ کرنے والوں کے مرکز نگاہ اے وہ کہ جس کے سواء کوئی غیب

یا منْ لا یعْلمُ الْغیْب إِلاّ ھُو یا منْ لا یصْرِفُ السُّوء إِلاّ ھُو یا منْ لا یُدبِّرُ الْامْر إِلاّ ھُو یا منْ لا

 کا جاننے والا نہیں اے وہ کہ جس کے سوا کوئی بدی کا معاف کرنے والانہیں اے وہ کہ جس کے سوا کوئی کام بنانے والا نہیں اے وہ کہ جس کے سوا کوئی گناہ کا

یغْفِرُ الذّنْب إِلاّ ھُو یا منْ لا یخْلُقُ الْخلْق إِلاّ ھُو یا منْ لا یُنزِّلُ الْغیْث إِلاّ ھُو صلِّ علی مُحمّدٍ

معاف کرنے والا نہیں اے وہ کہ جس کے سوا کوئی خلق کرنے والا نہیں اے وہ کہ جس کے سوا کوئی بارش برسانے والا نہیں ہے محمد وآل محمد پر رحمت فرما

وآلِ مُحمّدٍ واغْفِرْ لِی یا خیْر الْغافِرِین ربِّ إِنِّی أسْتغْفِرُک اسْتِغْفار حیاءٍ وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار

اور مجھ کو بخش دے اے سب سے بڑھ کر بخشنے والے اے پروردگار میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں حیا درانہ بخشش

رجاءٍ وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار إِنابةٍ وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار رغْبةٍ وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار رھْبةٍ

تجھ سے بخشش چاہتا ہوں امیدوارانہ بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں توبہ کی سی بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں رغبت کی سی بخشش تجھسے بخشش چاہتا ہوں

وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار طاعةٍ وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار إِیمانٍ وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار إِقْرارٍ وأسْتغْفِرُک

خائفانہ بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں فرمانبردارانہ بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں ایمان والی بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اقرار والی بخشش تجھ سے بخشش

اسْتِغْفار إِخْلاصٍ وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار تقْوی وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار توکُّلٍ وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار

 چاہتا ہوں خلوص والی بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں پرہیزگارانہ بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں توکل والی بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں عاجزانہ بخشش

ذِلّةٍ وأسْتغْفِرُک اسْتِغْفار عامِلٍ لک ھارِبٍ مِنْک إِلیْک فصلِّ علی مُحمّدٍ وآلِ مُحمّدٍ

تجھ سے بخشش چاہتا ہوں بخشش چاہتا ہوں خدمتگار کیطرح جو تجھ سے ڈر کے تیری طرف بھاگا آئے پس محمد و آل محمد پر رحمت نازل کر اور میری توبہ قبول فرما

وتُبْ علیّ وعلی والِدیّ بِما تُبْت وتتُوبُ علی جمِیعِ خلْقِک یا أرْحم الرّاحِمِین یا منْ یُسمّی

 اور میرے والدین کی توبہ قبول فرما جیسے تو قبول کرتا ہے توبہ اور تمام بندوں کی توبہ بھی قبول فرمااے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے وہ جسے کہا جاتا ہے

بِالْغفوُرِ الرّحِیمِ یا منْ یُسمّی بِالْغفُورِ الرّحِیمِ یا منْ یُسمّی بِالْغفُورِ الرّحِیمِ صلِّ علی

بخشنے والا مہربان اے وہ جسے کہا جاتا ہے بخشنے والا مہربان اے وہ جسے کہا جاتا ہے بخشنے والا مہربان محمد وآل محمد پر

مُحمّدٍ وآلِ مُحمّدٍ واقْبلْ توْبتِی وزکِّ عملِی واشْکُرْ سعْیِی وارْحمْ ضراعتِی ولا

رحمت نازل کر اور قبول کر میری توبہ میرے عمل کو پاک بنا میری کوشش کو قبول فرما اور میری زاری پر رحم کر اور میری

تحْجُبْ صوْتِی ولا تُخیِّبْ مسْألتِی یا غوْث الْمُسْتغِیثِین وأبْلِغْ أئِمّتِی سلامِی ودُعائِی

آواز نہ روک اور میری حاجت رد نہ فرما اے فریادیوں کی فریاد سننے والے میرے ائمہ کو میرا سلام اور دعا پہنچا اور ان کو میرا

وشفِّعْھُمْ فِی جمِیعِ ما سألْتُک وأوْصِلْ ھدِیّتِی إِلیْھِمْ کما ینْبغِی لھُمْ وزِدْھُمْ مِنْ ذلِک ما

 شفاعت کرنے والا بنا سبھی حاجات میں جو میں نے طلب کیں اور میرے ہدیہ کو ان تک اس طرح پہنچا دے جس طرح انکو پسند ہو اور یہ تحفہ جسطرح

ینْبغِی لک بِأضْعافٍ لا یُحْصِیہا غیْرُک ولا حوْل ولا قُوّة إِلاّ بِاللهِ الْعلِیِّ الْعظِیمِ وصلّی اللهُ

تو پسند کرتا ہے اسے اتنے گنا بڑھا کر قبول فرما کہ تیرے سوا اسکا شمار کوئی نہ کر سکے کوئی طاقت وقوت نہیں ہیمگر خدا کی طرف سے ملتی ہے جو بلند و برتر ہے اور

علی أطْیبِ الْمُرْسلِین مُحمّدٍ وآلِہِ الطّاھِرِین۔

خدا مرسلوں میں سے پاکیزہ تر محمد پر اور ان کے پاک خاندان پر رحمت کرے ۔

          مؤلف کہتے ہیں: علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں بعض بزرگان سے امام رضا - کیلئے ایک زیارت نقل کی ہے جو زیارتِ جوادیہ کے نام سے معروف ہے اسکے آخر میں تحریر فرمایا ہے کہ یہ زیارت پڑھنے کے بعد نماز زیارت بجا لائے تسبیح پڑھے اور اسے حضرت کیلئے ہدیہ کرے اور اسکے بعد یہ دعا پڑھے:اللّھُمّ اِنّیْ اسْئلُک یا اللهُ الدآئِمُیہ وہی دعا ہے جو ہم نے ابھی اوپر نقل کی ہے لہذا جو بھی زائر مشہد مقدس میں زیارتِ جواد یہ پڑھے تو وہ اس دعا کا پڑھنا ہرگز ترک نہ کرے۔