بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے ۔

 چند دعائیں اور تعویذات جنہیں بحار الانوار سے نقل کر کے باقیات الصالحات کے ساتھ ملحق کیا گیا ہے۔

(۱) منقول ہے کہ امیرلمومنین(ع) نے ایک شخص کو دیکھا جو کسی کتاب میں سے کوئی طویل دعا پڑھ رہاتھا۔ حضرت نے اس سے فرمایا: اے شخص جو خدا طویل دعا کوسنتا ہے، وہ قلیل دعا کا بھی جواب دیتا ہے اس نے عرض کیا میرے مولا! فرمایئے کہ میں کس طرح دعا کروں؟ آپ(ع) نے فرمایا یوں کہو:

الْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلَی کُلِّ نِعْمَةٍ وَأَسْأَلُ اللهَ مِنْ کُلِّ خَیْر وَأَعُوذُ بِاللهِ مِنْ کُلِّ شَرٍّ وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ۔

حمد ہے الله کیلئے ہر ایک نعمت پر میں خدا سے ہر بہتری کا سوال کرتا ہوں ہر ایک شر سے، خدا کی پناہ لیتا ہوں اور ہر گناہ پر معافی مانگتا ہوں۔

(۲) یہ دعا امام جعفر صادق (ع) نے اپنے بعض اصحاب کو تعلیم فرمائی کہ ہر رنج و خوف کو دور کرنے کیلئے اسے پڑھا کرے:

أَعْدَدْتُ لِکُلِّ عَظِیمَةٍ لاَ إِلہَ إِلاَّ اللهُ وَلِکُلِّ ہَمٍّ وَغَمٍّ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللهِ مُحَمَّدٌ صلی

میں نے تیار کیا ہر حادثے کے مقابل لا الٰہ الّا الله اور ہر رنج و غم کے مقابل لا حول و لاقوة الّا بالله محمد

الله علی وآلہ النُّورُ الْاَوَّلُ، وَعَلِیٌّ النُّورُ الثَّانِی وَالائَمَّةُ الْاَبْرارُ عُدَّةٌ لِلِقاءِ اللهِ وَحِجابٌ

صلی الله علیہ وآلہ وسلم نور اول ہیں، علی نور ثانی ہیں اور ان کے بعد ہونے والے آئمہ خوش کردار لقائے الٰہی کاذریعہ اور دشمنان خدا کے آگے

مِنْ أَعْداءِ اللهِ ذَلَّ کُلُّ شَیْءٍ لِعَظَمَةِ اللهِ وَأَسْأَلُ اللهَ عَزَّ وجَلَّ الْکِفایَةَ۔

 ڈھال ہیں، ہر چیز خدا کی بڑائی کے سامنے پست ہے اور میں خدا عز وجل سے سوال کرتا ہوں کہ کافی روزی دے۔

(۳) بیماریوں اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا: سید ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ ہم نے اسے آزمایا ہے۔ پس ایک کاغذ پر لکھے:

یَا مَنِ اسْمُہُ دَواءٌ وَذِکْرُہُ شِفاءٌ، یَا مَنْ یَجْعَلُ الشِّفاءَ فِیما یَشاءُ مِنَ الْاَشْیاءِ صَلِّ عَلَی 

اے وہ جس کا نام دوا اور جس کا ذکر شفا ہے۔ اے وہ کہ چیزوں میں سے جس میں چاہے شفا رکھ دے رحمت فرما محمد و آل(ع)

مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ شِفائِی مِنْ ہذَا الدَّاءِ فِی اسْمِکَ ہذَا۔

محمد پراور اپنے اس نام میں میرے لیے اس بیماری سے شفا قرار دے۔

دس مرتبہ لکھے:

یَا اللهُ                               

دس مرتبہ لکھے:

یَارَبِّ۔

دس مرتبہ لکھے:

یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔       

(۴) بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا امام جعفر صادق (ع) سے روایت ہے کہ بدن پر چھالا دیکھے تو اس کے چاروں طرف انگشت شہادت کو پھراتے ہوئے ،سات مرتبہ یہ کہے:

لاَ إِلہَ إِلاَّ اللهُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ۔

نہیں ہے معبود مگر الله جو بردبار فیض رساں ہے۔  

ساتویں چکر پر انگلی چھالے پر رکھ کر اسے دبائے۔                              

 (۵) روایت ہوئی ہے کہ خنازیر یعنی ہجیروں کو ختم کرنے کے لیے باربار پڑھے:

رَؤُوفُ یَا رَحِیمُ یَارَبِّ یَا سَیِّدِی۔

اے مہربان! اے رحم والے! اے رب! اے میرے مالک!۔

(۶) کمردرد دور کرنے کے لیے مروی ہے کہ درد کے مقام پر ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ پڑھے:

وَما کانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ کِتاباً مُؤَجَّلاً، وَمَنْ یُرِدْ ثَوابَ الدُّنْیا نُؤْتِہِ مِنْہا وَ

کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ حکم الٰہی کے بغیر مرجائے اس کا وقت لکھا ہوا ہے جو شخص دنیا کا اجر چاہتا ہے ہم اسے

مَنْ یُرِدْ ثَوابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِہِ مِنْہاوَسَنَجْزِی الشَّاکِرِینَ۔

دیتے ہیں اور جو آخرت کا اجر چاہے ہم اسے بھی دیتے ہیں اور ہم شکرگزاروں کو جلد جزا دیں گے۔

پھر سات مرتبہ سورہ قدر پڑھے، انشاء الله صحت پائیگا                                    

(۷)دردناف کے لیے مروی ہے کہ درد کے مقام پر ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ کہے:

وَإِنَّہُ لَکِتابٌ عَزِیزٌلاَ یَأْتِیہِ الْباطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہِ تَنْزِیلٌ مِنْ حَکِیمٍ حَمِیدٍ۔

اور یقیناً یہ ایسی با عزت کتاب ہے کہ نہ باطل اسکے سامنے سے آ سکتا ہے نہ اس کے پیچھے سے یہ حکمت والے تعریف والے خدا کی بھیجی ہوئی ہے۔

(۸) یہ تعویذ ہر درد کے لیے ہے اور یہ امام علی رضا(ع) کی طرف سے روایت ہوا ہے:

أُعِیذُ نَفْسِی بِرَبِّ الْاَرْضِ وَرَبِّ السَّماءِ أُعِیذُ نَفْسِی بِالَّذِی لاَ یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ داءٌ

میں اپنے آپ کو زمین و آسمان کے رب کی پناہ میں لیتا ہوں، میں خود کو اس کی پناہ لیتا ہوں جس کے نام سے کوئی بیماری نہیں لگتی،

أُعِیذُ نَفْسِی بِاللهِ الَّذِی اسْمُہُ بَرَکَةٌ وَشِفاءٌ۔

 میں خود کو الله کی پناہ میں دیتا ہوں جسکے نام میں برکت و شفا ہے۔

(۹) روایت ہے کہ خاصرہ یعنی مقعد کے درد کے لیے نماز سے فراغت کے بعد سجدہ گاہ پر ہاتھ لگا کر درد کے مقام پر پھیرے اور سورہ مومنون کی آخری آیتاَفَحَسِبْتُمْ اِنَّمَا خَلَقْنٰٰکُمْ عَبَثاً سے تا آخر سورہ پڑھے:

(۱۰) درد شکم، قولنج اور ایسے ہی دوسرے دردوں کے لیے پڑھے:

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیْمِ۔ وَذَالنُّونِ اِذْ ذَھَبَ مَغَاضِباً

تا آخر آیت پڑھے اس کے بعد سات مرتبہ سورہ حمد کی تلاوت کرے۔ یہ عمل مجرب ہے۔

(۱۱) رنج و غم میں گھرا ہوا انسان جو مختلف مصیبتوں میں مبتلا ہو چکا ہو اور ہر طرح سے بے بس اور ناچار ہوگیا ہو تو وہ شب جمعہ نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد یہ آیت پڑھے:

لاَ إِلہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ۔

نہیں ہے کوئی معبود مگر تو کہ پاک و منزہ ہے، یقیناً میں ہی ظالموں میں سے ہوگیا ہوں۔

(۱۲) قید و زندان سے خلاصی کے لیے امام موسیٰ کاظم (ع) کی دعا:

یَا مُخَلِّصَ الشَّجَرِمِنْ بَیْنِ رَمْلٍ وَطِینٍ وَماءٍ وَیَا مُخَلِّصَ اللَّبَنِ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ وَیَا 

 اے درخت کو ریت مٹی اور پانی کے بیچ سے نکالنے والے!اے دودھ کو گوبراور خون کے بیچ سے

مُخَلِّصَ الْوَلَدِ مِنْ بَیْنِ مَشِیمَةٍ وَرَحِمٍ وَیَا مُخَلِّصَ النَّارِ مِنْ بَیْنِ الْحَدِیدِ وَالْحَجَرِ

نکالنے والے! ایبچے کو جھلی اور رحم کے بیچ سے نکالنے والے!اے آگ کو لوہے اور پتھر کیبیچ سے نکالنے والے

وَیَا مُخَلِّصَ الرُّوْحِ مِنْ بَیْنِ الْاَحْشَاءِ وَالْاََمْعاءِ خَلِّصْنِی مِنْ یَدَیْ ہارُونَ۔

اور اے روح کو پہلوؤں اور انتڑیوں کے بیچ سے نکالنے والے مجھ کو ہارون عباسی کے چنگل سے چھڑا دے۔

 روایت ہوئی ہے کہ امام موسیٰ کاظم (ع) نے یہ دعا اس وقت پڑھی، جب آپ خلیفہ ہارون عباسی کی قیدمیں تھے چنانچہ جب رات چھاگئی تو آپ نے وضو کیا چار رکعت نماز پڑھی اور پھر اس دعا کو پڑھا اسی رات خلیفہ ہارون نے ایک ہولناک خواب دیکھا جس سے وہ ڈرگیا اور اس نے حضرت کی رہائی کا حکم دے دیا۔

 دعائے فرج

اَللّٰہُمَّ إِنْ کانَتْ ذُنُوبِی أَخْلَقَتوَجْہِی عِنْدَکَ فَإِنِّی أَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ

اے معبود! اگر میرے گناہوں نے میرے چہرے کو تیرے سامنے بد نما کردیا ہے تو میں تیری طرف متوجہ ہوں،تیرے نبی کے وسلیے سے جو پیغمبر

مُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَعَلِیٍّ وَفاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَالْاََئِمَّةِ عَلَیْہِمُ اَلسَّلَامُ۔

(ع)رحمت حضرت محمد صلی الله علیہ و آلہ ہیں اور علی(ع) و فاطمہ(ع) اور حسن(ع) و حسین(ع) اور بعد والے ائمہ (ع) کو وسیلہ بنایا ہے۔

اور معلوم ہونا چاہیئے کہ سختیوں اور مصیبتوں سے چھٹکارا پانے کے لیے بہت سی دعائیں ہیں اور ان میں سے ایک دعا یہ بھی ہے:اِلٰھِی طُوْحِ الاَمَال ُ قَدْ خَابَتْ اِلَّا لَدَیْکَ الخ جو مفاتیح الجنان میں شب جمعہ کے اعمال میں ذکر ہوچکی ہے۔ وہاں ملاحظہ ہو۔

 (۱۴) یہ وہی بابرکت دعا ہے جو نماز وتر میں پڑھی جاتی ہے، اسے علامہ مجلسی(علیہ الرحمہ) نے بحار میں کتاب اختیار سے نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا پڑھے:

إِلہِی کَیْفَ أَصْدُرعَنْ بابِکَ بِخَیْبَةٍ مِنْکَ وَ قَصَدْتُہُ عَلَی ثِقَةٍ بِکَ إِلہِی کَیْفَ تُؤْیِسُنِی

اے معبود! کیونکر تیرے درسے نامراد ہوکر پلٹ جاؤں، جب کہ میں تجھ پر بھروسہ کر کے یہاں آیا تھا اے معبود ! تو کیونکر

مِنْ عَطائِکَ وَ أَمَرْتَنِی بِدُعاءِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدوَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْنِی إِذَا اشْتَدَّ الْاَنِینُ

مجھے اپنی عطا سے مایوس کرے گا، جب کہ تو نے مجھے دعا کا حکم دیا ہے رحمت فرما محمد و آل(ع) محمد پر اور مجھ پر رحم کر جب میں بہت زاری کروں معاملہ

وَحُظِرَ عَلَیَّ الْعَمَلُ وَانْقَطَعَ مِنِّی الْاَمَل وَأَفْضَیْتُ إِلَی الْمَنُونِ وَبَکَتْ عَلَیَّ الْعُیُون وَوَدَّ

ہاتھ سے نکل جائے میری آس ٹوٹ گئی ہو موت کے در ازے تک پہنچ جاؤں انکھیں مجھ پر رو رہی ہوں، میرے

عَنِی الْاَہْلُ وَالْاَحْبابُ وَحُثِیَ عَلَیَّ التُّرابُ وَنُسِیَ اسْمِی وَبَلِیَ جِسْمِی وَانْطَمَسَ ذِکْرِی

اہل خاندان اور احباب مجھے چھوڑ چکے ہوں۔ مجھ پر مٹی ڈال دی گئی ہو میرا نام بھلا دیا گیا ہو، میرا جسم گل چکا ہو، میرا ذکر مٹ چکا ہو،

وَہُجِرَ قَبْرِی فَلَمْ یَزُرْنِی زائِرٌ وَلَمْ یَذْکُرْنِی ذاکِرٌ وَظَہَرَتْ مِنِّی الْمَآثِمُ وَاسْتَوْلَتْ عَلَیَّ

میری قبر نامعلوم ہو گئی ہو، کوئی اسے دیکھنے نہ آئے، نہ کوئی مجھے یاد کرے۔ میرے گناہ عیاں ہو چکے ہوں، میری ناانصافیاں مجھے

الْمَظالِمُ وَطالَتْ شِکَایَةُ الْخُصُوم وَأَتَّصَلَتْ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ صَلِّ اَللّٰہُمَّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ

 گھیرے ہوئے ہوں۔ میرے خلاف شکایات طولانی ہوں۔مظلوموں کے دعوے جاری ہوں، ایسے میں اے معبود! محمد

مُحَمَّدٍ وَأَرْضِ خُصُومِی عَنِّی بِفَضْلِکَ وَإِحْسانِک َوَجُد عَلَیَّ بِعَفْوِکَ وَرِضْوانِکَ

و آل(ع) محمد پر رحمت فرما اور اپنے فضل و کرم سے میرے دعویداروں کو مجھ سے راضی کر دے مجھے اپنی بخشش و خوشنودی عطا فرما، میرے معبود

إِلہِی ذَہَبَتْ أَیَّام لَذَّاتِی وَبَقِیَتْ مَآثِمِی وَتَبِعاتِی، وَ أَتَیْتُکَ مُنِیباً تائِباً فَلا تَرُدَّنِی مَحْرُوماً

 میری لذتوں کے دن گزر گئے، میرے گناہ اور ان کا انجام رہ گیا ہے۔ اب میں توبہ کے ساتھ تیرے پاس آیا ہوں، پس مجھیمحرومی و ناکامی کے ساتھ

وَلاَ خائِباً اَللّٰہُمَّ آمِنْ رَوْعَتِی وَاغْفِرْ زَلَّتِی وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ

 واپس نہ پلٹا۔ اے معبود! میرے خوف کو امن میں بدل و خطائیں معاف فرمااور میری توبہ قبول کر بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

(۱۵) یہ دعائے حزیں ہے اور یہ وہ بابرکت دعا ہے جو نماز شب کے بعد پڑھی جاتی ہے۔اور ہم اسے مصباح المتہجد سے نقل کرتے ہیں :

أُناجِیکَ یَا مَوْجُوداً فِی کُلِّ مَکانٍ لَعَلَّکَ تَسْمَعُ نِدائِی فَقد عَظُمَ جُرْمِی وَقَلَّ حَیائِی

اے وہ الله جو ہر جگہ موجود ہے میں تجھ سے مناجات کررہاہوں۔ شاید کہ تو میری فریاد سن لے کیونکہ میرے جرائم زیادہ ہیں اور حیا گھٹ گئی ہے،

مَوْلایَ یَا مَوْلایَ، أَیَّ الْاَہْوَالِ أَتَذَکَّرُوَاَیُّھَا اَنْسٰی وَلَوْ لَمْ یَکُنْ إِلاَّ الْمَوْتُ لَکَفَیٰ کَیْفَ وَ

میرے مولا اے میرے مولا! میں کس کس خوف کو یاد کروں اور کس کس کو فراموش کروں، اگر موت کے سوا کوئی خوف نہ ہوتا تو

مَا بَعْدَ الْمَوْتِ أَعْظَمُ وَأَدْہَیٰ یَا مَوْلایَ یَا مَوْلایَ یَا الْعُتْبَی مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَی ثُمَّ لاَ تَجِدُ

یہی کافی تھا اور موت کے بعد کے حالات تو زیادہ پر خطر ہیں ۔ میرے مولا اے میرے مولا! کب تک اور کہاں تک تجھ سے کہتا رہوں ایک کے بعد

عِنْدِی صِدْقاً وَلاَ وَفاءً فَیا غَوْثاہُ ثُمَّ وا غَوْثاہُ بِکَ یَا اللهُ مِنْ ہَوَیً غَلَبَنِی وَمِنْ عَدُوٍّ قَدِ

دوسری بارعذر لاؤں پھر بھی تو میری طرف سے اس میں سچائی اور پابندی نہیں پاتا ۔ہائے فریاد، پھر ہائے فریاد ہے، تجھ سے اے الله خواہش نفس

اسْتَکْلَبَ عَلَیَّ وَمِنْ دُنْیا قد تَزَیَّنَتْ لِی وَمِنْ نَفْسٍ أَمَّارَةٍ بِالسُّوءِ، إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّی مَوْلایَ

سے جو مجھ پر حاوی ہے اور اس دشمن سے فریاد جو مجھ پر جھپٹ پڑا ہے، اس دنیا پر فریاد جو میرے لیے سنور کر آگئی اور اس نفس پر جو برائی کا حکم دیتا ہے

یَا مَوْلایَ إِنْ کُنْتَ رَحِمْتَ مِثْلِی فَارْحَمْنِی وَإِنْ کُنْتَ قَبِلْتَ مِثْلِی فَاقْبَلْنِی یَا قابِلَ السَّحَرَةِ

مگر جس پر میرا رب رحم کرے میرے مولا! اے میرے مولا!اگر تو نے کسی مجھ جیسے پر رحم کیا ہے تو مجھ پر بھی رحم کر، اگر کسی مجھ جیسے کا عمل قبول کیا ہے تو

اقْبَلْنِی یَا مَنْ لَمْ أَزَلْ أَتَعَرَّفُ مِنْہُ الْحُسْنَیٰ یَا مَنْ یُغَذِّینِی بِالنِّعَمِ صَباحاً وَمَساءً ارْحَمْنِی 

میرا بھی عمل قبول کر، اے ساحران مصر کو قبول کرنے والے مجھے بھی قبول کر، اے وہ جس سے میں نے ہمیشہ اچھائی ہی کو پہچانا، اے وہ جو مجھے صبح و

یَوْمَ آتِیکَ فَرْداً شاخِصاً إِلَیْک بَصَرِی مُقَلَّداً عَمَلِی قد تَبَرَّأَ جَمِیعُ الْخَلْقِ مِنِّی نَعَمْ وَ

 شام نعمتیں عطا فرماتا ہے، مجھ پر اس دن رحم فرمانا، جب تنہا ہوں گا اورتیری طرف آنکھ لگائے ہوں گا۔اپنے اعمال گلے میں لٹکائے جب

أَبِی وَأُمِّی وَمَنْ کانَ لَہُ کَدِّی وَسَعْیِی فَإِنْ لَمْ تَرْحَمْنِی فَمَنْ یَرْحَمُنِی، وَمَنْ یُؤْنِسُ فِی

 ساری مخلوق مجھ سے دوری اختیار کرے گی، ہاں میرے باپ بھی اور وہ بھی جن کیلئے میں دکھ جھیلتا رہا، پس اگر تو مجھ پر رحم نہ کرے تو کون کرے گا۔ قبر کی

الْقَبْرِ وَحْشَتِی وَمَنْ یُنْطِقُ لِسانِی إِذا خَلَوْتُ بِعَمَلِی وَسائَلْتَنِی عَمَّا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، فَإِنْ

 تنہائی میں کون میرا ہمدم ہوگا، کون میری زبان کو گویا کرے گا، جب تو عمل کے بارے میں مجھ سے سوال کرے گا، جب کہ تو اسے مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو

قُلْتُ نَعَمْ فَأَیْنَ الْمَہْرَبُ مِنْ عَدْلِکَ؟ وَإِنْ قُلْتُ لَمْ أَفْعَلْ، قُلْتَ أَلَمْ أَکُنِ الشَّاہِدَ عَلَیْکَ

 اگر میں ہاں کہوں پھر تیرے عدل سے کدھر بھاگوں گا اور اگر کہوں، میں نے نہیں کیا تو تو کہے گا، کیا میں اس پر گواہ نہیں تھا۔ پس بخش دے، بخش دے اے

فَعَفْوُکَ عَفْوُکَ یَا مَوْلایَ قَبْلَ سَرابِیلَ الْقَطِرانِ عَفْوُکَ عَفْوُکَ یَا مَوْلایَ قَبْلَ جَھَنَّمَ وَالنَّیْرَانِ

 میرے مولا ۔ اس سے پہلے کہ تارکول کا جامہ پہنوں۔ بخش دے، بخش دے۔ اے میرے مولا! اس سے پہلے کہ جہنم کے شعلوں میں پڑوں بخش دے بخش دے

عَفْوُکَ عَفْوُکَ یَا مَوْلایَ قَبْلَ أَنْ تُغَلَّ الْاَیْدِیإِلَی الْاَعْناقِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَخَیْرَ الْغافِرِینَ۔

 اے میرے مولا، اس سے پہلے کہ میرے ہاتھ گردن میں باندھ دیئے جائیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور اے بہت بخشنے والے۔

(۱۶) ثقہ جلیل و عالم کبیر اور عابد و زاہد عبدالله بن جندب جو امام موسیٰ کاظم(ع) اور امام علی رضا(ع) کے اصحاب میں سے ان کے وکیل بھی تھے امام موسیٰ کاظم (ع) کی خدمت میں عریضہ تحریر کیا کہ قربان جاؤں! میں بوڑھا ہوچکا ہوں، کمزوری کی وجہ سے کئی ایسے کاموں سے عاجز ہوگیا ہوں جن کے انجام دینے کی طاقت رکھتا تھا قربان جاؤں! مجھے کوئی ایسا کلام تعلیم فرمائیں جو مجھے خداوند تعالیٰ کے نزدیک کر دے اور میرے علم و فہم میں اضافے کا موجب بھی ہو، تب حضرت نے جواب میں انہیں حکم دیا کہ اس ذکر شریف کو زیادہ سے زیادہ پڑھا کرو:

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ۔

خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے، نہیں ہے حرکت و قوت مگر جو بلند و بزرگ خدا سے ہے۔

(۱۷) حدیث قدسی میں ہے: اے محمد! ان لوگوں سے کہہ دو جو میرا قرب حاصل کرنا چاہیئے ہیں یقین کے ساتھ سمجھ لو کہ یہ کلام ہر اس چیز سے افضل ہے جس کے ذریعے وہ میرا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں ، فرائض کی بجا آوری کے بعد یہی کلام ہے جس سے میرا قرب حاصل کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے:

اَللّٰہُمَّ إِنَّہُ لَمْ یُمْسِ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِکَ أَنْتَ إِلَیْہِ أَحْسَنُ صَنِیعاً، وَلاَ لَہُ أَدْوَمُ کَرامَةً وَلاَ

اے معبود! یقیناً تیری مخلوق میں کوئی ایسا نہیں جو شام کرے مجھ سے زیادہ اس پر تیرا احسان ہو نہ اس کے لیے تیری لگاتار مہربانی ہے نہ اس پر تیرا کھلا

عَلَیْہِ أَبْیَنُ فَضْلاً وَلاَ بِہِ أَشَدُّ تَرَفُّقاً وَلاَ عَلَیْہِ أَشَدُّ حِیاطَةً وَلاَ عَلَیْہِ أَشَدُّ تَعَطُّفاً مِنْکَ عَلَیَّ

 ہو افضل ہے نہ اس کے ساتھ انتہائی نرمی ہے نہ اس کے لیے بیشتر نگہبانی ہے اور نہ اس پر تیرا کچھ زیادہ کرم ہے جومجھ پر

وَإِنْ کانَ جَمِیعُ الْمَخْلُوقِینَ یُعَدِّدُونَ مِنْ ذلِکَ مِثْلَ تَعْدِیدی فَاشْہَدْ یَا کافِیَ الشَّہادَةِ بِأَنِّی 

 ہے اگر چہ ساری مخلوق اسی طرح شمار کرتی ہے جیسے میں نیان چیزوں کو شمار کیا ہے تو بھی گواہ رہنا۔اے کافی گواہی والے اس بات پر

أُشْہِدُکَ بِنِیَّةِ صِدْقٍ بِأَنَّ لَکَ الْفَضْلَ وَالطَّوْلَ فِی إِنْعامِکَ عَلَیَّ مَعَ قِلَّةِ شُکْرِی لَکَ

کہ میں نے سچے دل سے تجھے گواہ بنایا ہے اس پر کہ مجھے نعمتیں عنایت کرنے میں تیرا فضل و کرم بہت زیادہ ہے، جب کہ میں ان پر بہت

فِیہا،یَا فاعِلَ کُلِّ إِرادَةٍ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَطَوِّقْنِی أَماناً مِنْ حُلُولِ السَّخَطِ لِقِلَّةِ

 کم شکر کرتا ہوں۔ اے ہر ارادے کو انجام دینے والے رحمت فرمامحمد اور ان کی آل(ع) پر اور میری کم شکری کے باعث نزول بلا سے بچانے کیلئے امان

الشُّکْرِ وَأَوْجِبْ لِی زِیادَةً مِنْ إِتْمامِ النِّعْمَةِ بِسَعَةِ الْمَغْفِرَةِ أَمْطِرْنِی خَیْرَکَ فَصَلِّ عَلَی

 کا طوق میرے گلے میں ڈال دے اور اپنی وسیع معافی کی بددلت میرے لیے نعمتیں بڑھا دے مجھ پر اپنی طرف سے کرم کی بارش برسا پس رحمت فرما

مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَلاَ تُقایِسْنِی بِسُوءِ سَرِیرَتِی وَامْتَحِنْ قَلْبِی لِرِضاکَ وَاجْعَلْ مَا تَقَرَّبْتُ بِہِ

حضرت محمد اور ان کی آل(ع) پر میری بد باطنی کے ساتھ میری جانچ نہ کر، بلکہ میرے دل کو اپنی رضا کے لیے آزما، جس چیز کے ذریعے میں تیرے دین

إِلَیْکَ فِی دِینِکَ لَکَ خالِصاً، وَلاَ تَجْعَلْہُ لِلُزُومِ شُبْہَةٍ أَوْ فَخْرٍ أَوْ رِیاءٍ، یَا کَرِیمُ۔

کے قریب آیا ہوں، اسے اپنے لیے خالص قرار دے اور اسے کسی شبہے فخر اور نمائش میں شمار نہ کر اے کرم کرنے والے۔

 مولف کہتے ہیں: یہ دعا پاک رازوں میں سے ہے اور یہ اسرار قدسیہ(پاک راز) اکتیس دعاؤں پر مشتمل ہیں جو دنیا و آخرت کی حاجت روائی کے لیے ہیں کہ جن کو ہمارے بزرگ علماء نے متصل سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے۔ ان میں سے بعض دعائیں مصباح المتہجد و مصباح کفعمی(علیہ الرحمہ) میں بھی مذکور ہیں، خواہشمند مومنین کتاب بلد الامین، بحار الانوار، کتاب الدعایا جواہر السینہ جیسی کتابوں کی طرف رجوع کریں اور یہاں ہم نے ان میں سے صرف ایک ہی دعا نقل کی ہے۔

(۱۸) یہ دعا بھی اسرار قدسیہ میں سے ہے۔ چنانچہ جو شخص کسی ضرورت یا سفر کے لیے نکلے اور اپنے اہل وعیال کو گھر چھوڑ جائے اور چاہتا ہو کہ اس کی حاجات پوری ہوں اور صحیح وسالم گھر وآپس لوٹ آئے تو وہ اپنے گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے:

بِسْمِ اللهِ مَخْرَجِی وَبِإِذْنِہِ خَرَجْتُ وَعَلِمَ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ وَ أَحْصَی عِلْمُہُ مَافِی مَخْرَجِیْ

خدا کے نام کے ساتھ نکلا اور اس کے اذن سے چلا ہوں وہ میرے گھر سے نکلنے سے پہلے ہی اس نکلنے کو جانتا ہے اس کا علم اسے شمار کر چکا ہے جو کچھ

وَمَرْجِعِی تَوَکَّلْتُ عَلَی الْاِلہِ الْاََکْبَرِ تَوَکُّلَ مُفَوِّضٍ إِلَیْہِ أَمْرَہُ وَمُسْتَعِینٍ بِہِ عَلَی شُؤُونِہِ

 میرے جانے اور آنے میں ہے۔ میں نے معبود اکبر پر بھروسہ کیا ہے اس کی طرح جس نے اپنا کام اس کے سپرد کیا ہے۔اپنے سبھی کاموں میں اس

مُسْتَزِیدٍ مِنْ فَضْلِہِ مُبْرِءٍ نَفْسَہُ مِنْ کُلِّ حَوْلٍ وَمِنْ کُلِّ قُوَّةٍ إِلاَّ بِہِ خُرُوجَ ضَرِیرٍ خَرَجَ

سے مدد چاہتا ہے اس کے فضل کا زیادہ طلب گار ہے۔ اپنے نفس کو ہر حرکت و قوت سے خالی جانتا ہے مگر جو اس کی طرف سے ہو اس پریشان

بِضُرِّہِ إِلی مَنْ یَکْشِفُہُ وَخُرُوجَ فَقِیرٍ خَرَجَ بِفَقْرِہِ إِلی مَنْ یَسُدُّہُ وَخُرُوجَ عائِلٍ خَرَجَ

کی طرح نکلا ہوں جو پریشانی دور کرنے والے کی طرف چلتا ہے،اس محتاج کی طرح نکلا ہوں جو حاجت رواکی طرف جاتا ہے اس

بِعَیْلَتِہِ إِلیٰ مَنْ یُغْنِیہاوَخُرُوجَ مَنْ رَبُّہُ أَکْبَرُ ثِقَتِہِ وَأَعْظَمُ رَجائِہِ وَأَفْضَلُ أُمْنِیَّتِہِ اللهُ ثِقَتِی 

بے مال کی طرح نکلا ہوں جو اس کی طرف جائے جو اسے غنی کرنے والا ہے اس کی طرح نکلا ہوں جس کا سہارا رب اکبر ہے، وہی اس کی

فِی جَمِیعِ أُمُورِی کُلِّہا، بِہِ فِیہاجَمِیعاً أَسْتَعِینُ وَلاَشَیْءَ إِلاَّ مَا شاءَ اللهُ فِی عِلْمِہِ أَسْأَلُ

بڑی امیدگاہ ہے اور اس کی آرزو سے بلند ہے۔ تمام امور میں میرا سہارا الله ہے، سبھی امور میں اسی سے مدد مانگتا ہوں، کچھ نہیں ہوتا مگر جو الله اپنے علم

اللهَ خَیْرَالْمَخْرَجِ وَالْمَدْخَلِ لاَ إِلہَ إِلاَّ ہُوَ إِلَیْہِ الْمَصِیرُ۔

میں چاہتا ہے میں الله سے بہترین روانگی اور واپسی کا سوالی ہوں نہیں ہے معبود مگر وہ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

(۱۹) شب زفاف کی نماز اور دعا:امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں کہ شادی کی پہلی رات جب دلہن کو تمہارے پاس لایا جائے تو اسے کہوکہ وضو کرے اور دو رکعت نماز بجالائے اور تم بھی وضو کر کے دورکعت نماز ادا کرو پھر خدا کی حمد و ثناء کرو اور محمد و آل(ع) محمد پر درود بھیجو، اس کے بعد یہ دعا پڑھو اور دلہن کے ساتھ والی عورتوں سے کہو کہ وہ آمین کہتی جائیں:

اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِی إِلْفَہا وَوُدَّہا وَرِضاہا وَأَرْضِنِی بِہا وَاجْمَعْ بَیْنَنا بِأَحْسَنِ اجْتِماعٍ وَآنَسِ

اے معبود! تو مجھے اس کی الفت،محبت اوررضا مندی عطا فرما مجھے اس سے راضی رکھ اور ہم دونوں میں یکجہتی پیدا کردے اور

ایْتِلافٍ فَإِنَّکَ تُحِبُّ الْحَلالَ وَتَکْرَہُ الْحَرامَ۔

باہمی محبت عطا فرما کہ یقیناًتو حلال کو پسند اور حرام کونا پسند کرتا ہے۔

          امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ شادی کی پہلی رات جب دلہن کے پاس جاؤ تو اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اس کو قبلہ رخ کرکے یہ دعا پڑھو :

اَللّٰہُمَّ بِأَمانَتِکَ أَخَذْتُہا وَبِکَلِماتِکَ اسْتَحْلَلْتُہا فَإِن قَضَیْتَ لِی مِنْہا وَلَداً فَاجْعَلْہُ

اے معبود! میں نے اسے تیری امانت کے طور پر لیا اور تیرے کلمات کے ساتھ اپنے لیے حلال بنایا پس اگر تو نے اس سے اولاد کا

مُبارَکاً تَقِیّاً مِنْ شِیعَةِ آلِ مُحَمَّدٍ وَلاَ تَجْعَلْ لِلشَّیْطانِ فِیہِ شِرْکاً وَلاَ نَصِیباً۔

فیصلہ کیا ہے تو اسے بابرکت پرہیزگار اور آل(ع) محمد کے شیعوں میں رکھنا اور ان بچوں میں شیطان کا کوئی حصہ قرار نہ دینا۔

(۲۰) دعائے رہبہ (خوف خدا) مروی ہے کہ امام موسیٰ کاظم (ع)رات کو جب محراب عبادت میں کھڑے ہوتے تو اسے پڑھا کرتے تھے اور یہ صحیفہ کاملہ کی پچاسویں دعا ہے:

اَللّٰہُمَّ إِنَّکَ خَلَقْتَنِی سَوِیّاًوَرَبَّیْتَنِی صَغِیراً وَرَزَقْتَنِی مَکْفِیّاً۔اَللّٰہُمَّ إِنِّی وَجَدْتُ فِیما أَنْزَلْتَ

 اے معبود! بے شک تو نے مجھے صحیح و سالم پیدا کیا کم سنی میں میری پرورش کی اور بلا زحمت رزق دیا۔اے معبود! تو نے جو کہ تو نے اپنے بندوں کو مژدہ

مِنْ کِتابِکَ وَبَشَّرْتَ بِہِ عِبادَکَ أَنْ قُلْتَ یَا عِبادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوا

 دیا ہے، یہ کہہ کر کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے کتاب نازل کی میں نے اس میں دیکھا اپنے اوپر زیادتی کی ہے تم الله کی رحمت سے نا امید نہ ہونا،

مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ اِنَّ اللهَ یَغْفِرُالذُّنُوبَ جَمِیعاً وَتَقَدَّمَ مِنِّی مَا عَلِمْتَ وَما أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی

یقیناً الله تمہارے سبھی گناہ معاف کردے گا، مجھ سے ایسے گناہ ہوئے ہیں جن سے تو واقف ہے اور تو انہیں مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۔

فَیا سَوْأَتَاہُ مِمَّا أَحْصَاہُ عَلَیَّ کِتابُکَ فَلَوْلاَ الْمَواقِفُ الَّتِی أُؤَمِّلُ مِنْ عَفْوِکَ الَّذِی شَمِلَ

لپس رسوائی ہے ان گناہوں سے جو تو نے میرے نام لکھے ہوئے ہیں، ہذا اگر تیرے اس عفو و درگذر کے مواقع نہ ہوتے

کُلَّ شَیْءٍ لاَلْقَیْتُ بِیَدِی وَلَوْ أَنَّ أَحَداً اسْتَطاعَ الْہَرَبَ مِنْ رَبِّہِ لَکُنْتُ أَنَا أَحَقُّ بِالْہَرَبِ

کہ جس نے ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے تو میں خود کو ہلاک کرچکاتھا اگر کوئی اپنے رب کی گرفت سے نکل جانے پر قادر ہوتا تو میں تیرے

مِنْکَ وَأَنْتَ لاَ تَخْفیٰ عَلَیْکَ خافِیَةٌ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّماءِ إِلاَّ أَتَیْتَ بِہا وَکَفَی

ہاں سے بھاگنے کا زیادہ سزاوار تھا اور تو وہ ہے جس پر زمین و آسمان میں پوشیدہ کوئی چیز پنہاں و مخفی نہیں مگر تو اسے عیاں کر دیگا اور تو حساب

بِکَ جازِیاً وَکَفَی بِکَ حَسِیباً اَللّٰہُمَّ إِنَّکَ طالِبِی إِنْ أَنَا ہَرَبْتُ وَمُدْرکِی إِنْ أَنَا فَرَرْتُ

لینے اور بدلہ دینے میں کافی ہے اے معبود! اگر میں بھاگوں تو بھی مجھے ڈھونڈلے گا اور دوڑ جاؤں تو مجھے پا لے گا ،یہ ہوں میں، تیرے

فَہا أَنَاذَا بَیْنَ یَدَیْکَ خاضِعٌ ذَلِیلٌ راغِمٌ إِنْ تُعَذِّبْنِی فَإِنِّی لِذلِکَ أَہْلٌوَہُوَ یَارَبِّ مِنْکَ

سامنے، عاجز، پست،سرنگوں، کھڑا ہوں اگر تو مجھے عذاب کرے تو میں اس کے لائق ہوں اور اے رب یہ تیرا عدل ہے اور اگر

عَدْلٌ وَإِنْ تَعْفُ عَنِّی فَقَدِیماً شَمَلَنِی عَفْوُکَ وَأَلْبَسْتَنِی عافِیَتَکَ فأَسْأَلُکَ اَللّٰہُمَّ بِالْمَخْزُونِ

تو معاف کر دے تو ہمیشہ تیری معافی میرے لیے رہی ہے اور تو نے مجھے بچائے رکھا ہے پس سوال کرتا ہوں۔ اے معبود!

مِنْ أَسْمائِکَ وَبِما وارَتْہُ الْحُجُبُ مِنْ بَہَائِکَ إِلاَّ رَحِمْتَ ہذِہِ النَّفْسَ الْجَزُوعَةَ وَہذِہِ

تیرے پوشیدہ ناموں کے وسیلے سے اور تیری بزرگی کے وسیلے جوپردوں میں چھپی ہے۔ ہاں رحم فرما اس بے قرار جان پر اور ہڈیوں کے

الرِّمَّةَ الْہَلُوعَةَ الَّتِی لاَ تَسْتَطِیعُ حَرَّشَمْسِکَ، فَکَیْفَ تَسْتَطِیعُ حَرَّ نارِکَ وَالَّتِی لاَ تَسْتَطِیعُ

اس کمزور ڈھانچے پر کہ جو تیرے سورج کی تپش نہیں جھیل سکتا تو وہ کس طرح تیرے جہنم کی آگ کوبرداشت کرے گا اور وہ جو تیری بجلی کی

صَوْتَ رَعْدِکَ فَکَیْفَ تَسْتَطِیعُ صَوْتَ غَضَبِکَ فَارْحَمْنِی اَللّٰہُمَّ فَإِنِّی امْرِؤٌ حَقِیرٌ وَ

کڑک کی تاب نہیں لاسکتا تو کس طرح تیرے غضب کی آواز سن سکے گا پس مجھ پر رحم کراے معبود! کہ میں حقیر فرد

خَطَرِی یَسِیرٌ وَلَیْسَ عَذابِی مِمَّا یَزِیدُ فِی مُلْکِکَ مِثْقالَ ذَرَّةٍ وَلَوْ أَنَّ عَذابِی لَسَأَلْتُکَ

ہوں میرے قدم کوتاہ ہیں مجھ پر عذاب کرنے میں تیری حکومت میں ذرہ بھر اضافہ نہیں ہوگا اور اگر مجھے عذاب کرنے میں تیری

الصَّبْرَ عَلَیْہِ وَأَحْبَبْتُ أَنْ یَکُونَ ذلِکَ لَکَ وَلکِنْ سُلْطانُکَ اَللّٰہُمَّ أَعْظَمُ وَمُلْکُکَ

حکومت میں اضافہ ہوتا تو میں تجھ سے صبر مانگتا اور یہ چاہتاکہ تجھے یہ اضافہ حاصل ہوجائے، لیکن تیری حکومت اے معبود بہت بڑی ہے اور تیرا

أَدْوَمُ مِنْ أَنْ تَزِیدَ فِیہِ طاعَةُ الْمُطِیعِینَ، أَوْ تَنْقُصَ مِنْہُ مَعْصِیَةُ الْمُذْنِبِینَ فَارْحَمْنِی یَا أَرْحَمَ

ملک بے نیاز ہے اس سے کہ حکم ماننے والوں کی اطاعت سے بڑھتا ہویا گناہگاروں کی نافرمانی سے گھٹ جاتا ہو پس مجھ پر رحم فرما اے سب

الرَّاحِمِینَ وَتَجاوَزْ عَنِّی یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔

سے زیادہ رحم کرنے والے مجھے معاف کر دے اے دبدبے والے، عزت والے اور میری توبہ قبول کر کہ تو بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔