|
اے معبود! تیری حمد کے ذریعے تیری تعریف کا آغاز کرتا ہوں اور تو اپنے احسان سے راہ راست دکھانے والا ہے اور مجھے یقین ہے کہ تو معافی دینے مہربانی کرنے کے مقام پر سب سے بڑھ کر رحم و کرم کرنے والا ہے اور شکنجہ و عذاب کے موقع پر سب سے سخت عذاب دینے والا ہے اور بڑائی اور بزرگی کے مقام پر تو تمام قاہروں اور جابروں سے بڑھا ہوا ہے اے الله ! تو نے مجھے اجازت دے رکھی ہے کہ تجھ سے دعا و سوال کروں پس اے سننے والے اپنی یہ تعریف سن اور اے مہربان میری دعا قبول فرما اے بخشنے والےمیری خطا معاف کرپس اے میرے معبود ! کتنی ہی مصیبتوں کو تو نے دور کیا اور کتنے ہی اندیشوں کو ہٹایا اور خطاؤں سے در گزر کی رحمت کو عام کیا اور بلاؤں کے گھیرے کو توڑا اور رہائی دی حمد اس الله کیلئے ہے جس نے نہ کسی کو اپنی زوجہ بنایا اور نہ کسی کواپنا بیٹا بنایا نہ ہی سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا سر پرست ہو اس کی بڑائی بیان کرو بہت بڑائی حمد الله ہی کیلئے ہے اس کی تمام خوبیوں اور اس کی ساری نعمتوں کے ساتھ حمد اس الله کیلئے ہے جس کی حکومت میں اس کا کوئی مخالف نہیں نہ اس کے حکم میں کوئی رکاوٹ ڈالنے والا ہے حمد اس الله کیلئے ہے جس کی آفرینش میں کوئی اس کا شریک نہیں اور اسکی بڑائی میں کوئی اس جیسا نہیں حمد اس الله کیلئے ہے کہ جسکا حکم اور حمد خلق میں آشکار ہے اس کی شان اس کی بخشش کے ساتھ ظاہر ہے بن مانگے دینے میں اس کا ہاتھ کھلا ہے وہی ہے جس کے خزانہ نے کم نہیں ہوتے اور کثرت کے ساتھ عطا کرنے سے اس کی بخشش اور سخاوت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ وہ زبردست عطا کرنے والا ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بہت میں سے تھوڑے کا جبکہ مجھے اس کی بہت زیادہ حاجت ہے اور تو ہمیشہ اس سے بے نیاز ہے وہ نعمت میرے لیئے بہت بڑی ہے اور تیرے لئے اس کا دینا آسان ہے اے معبود! بے شک تیرا میرے گناہ کو معاف کرنا میری خطا سے تیری در گزر میرے ستم سے تیری چشمپوشی میرے برے عمل کی پردہ پوشی میرے بہت سے جرائم پر تیری برد باری ہے جبکہ ان میں سے بعض بھول کر اور بعض میں نے جان بوجھ کر کئے ہیں تب بھی اس سے مجھے طمع ہوئی کہ میں تجھ سے وہ مانگوں جس کا میں حقدار نہیں چنانچہ تو نے اپنی رحمت سے مجھے روزی دی اور اپنی قدرت کے کرشمے دکھائے قبولیت کی پہچان کرائی پس اب میں با امن ہوکر تجھے پکارتا ہوں اور سوال کرتا ہوں الفت سے نہ ڈرتے اور گھبراتے ہوئے اور مجھے ناز ہے کہ اس بارے میں تیری بارگاہ میں آیا ہوں پس اگر تو نے قبولیت میں دیر کی تو میں بوجہ نادانی تجھ سے شکوہ کروں گا اگر چہ وہ تاخیر کاموں کے نتائج سے متعلق تیرے علم میں میرے لیے بہتری کی حامل ہو پس میں نے تیرے سوا کوئی مولا نہیں دیکھا جو میرے جیسے پست بندے پر مہربان و صابر ہو۔ اے پروردگار! تو مجھے پکارتا ہے تو میں تجھ سے منہ موڑتا ہوں تو مجھ سے محبت کرتا ہے میں تجھ سے خفگی کرتا ہوں تو میرے ساتھ الفت کرتا ہے میں بے رخی کرتا ہوں جیسے کہ میرا تجھ پر کوئی احسان رہا ہو تو بھی میرا یہ طرز عمل تجھے مجھ پر رحمت فرمانے اور مجھ پر اپنی عطا و بخشش کیساتھ فضل و احسان کرنے سے باز نہیں رکھتا پس اپنے اس نادان بندے پر رحم کر اور اس پر اپنے فضل و احسان سے سخاوت فرما بے شک تو بہت دینے والا سخی ہے حمد ہے اس اللہ کے لیے جو سلطنت کا مالک کشتی کو رواں کرنیوالا ہواؤں کو قابو رکھنے والا صبح کو روشن کرنے والا او رقیامت میں جزا دینے والا جہانوں کا پروردگار ہے حمد ہے اللہ کی کہ جانتے ہوئے بھی بردباری سے کام لیتا ہے اورحمد ہے اس اللہ کی جو قوت کے باوجود معاف کرتا ہے اور حمد ہے اس اللہ کی جو حالت غضب میں بھی بڑا بردبار ہے اور وہ جو چاہے اسے کرگزرنے کی طاقت رکھتا ہے حمد ہے اس اللہ کی جو مخلوق کو پیدا کرنیوالا روزی کشادہ کرنیوالا صبح کو روشنی بخشنے والا صاحب جلالت و کرم اور فضل و نعمت کا مالک ہیجو ایسا دور ہے کہ نظر نہیںآ تا اور اتنا قریب ہے کہ سرگوشی کو بھی جانتا ہے وہ مبارک اور برتر ہے حمد ہے اس الله کی جس کا ہمسر نہیں جو جو اس سے جھگڑا کرے نہ کوئی اس جیسا ہے کہ اس کاہمشکل ہو نہ کوئی اس کا مددگار و ہمکار ہے وہ اپنی عزت میں سب عزت والوں پر غالب ہے اور سبھی عظمت والے اس کی عظمت کے آگے جھکتے ہیں وہ جو چاہے اس پر قادر ہے حمد ہے اللہ کی جسے پکارتا ہوں تو وہ جواب دیتا ہے اور میری برائی کی پردہ پوشی کرتا ہے میں اسکی نافرمانی کرتا ہوں تو بھی مجھے بڑی بڑی نعمتیں دیتا ہے کہ جن کا بدلہ میں اسے نہیں دیتا پس اس نے مجھ پر کتنی ہی خوشگوار عنایتیں اوربخششیں کی ہیں کتنی ہی خطرناک آفتوں سے مجھے بچالیا ہے کئی حیرت انگیز خوشیاں مجھے دکھائی ہیں پس ان پر اس کی حمد و ثنا کرتا ہوں اور لگاتار اس کا نام لیتا ہوں حمد ہے اللہ کی جس کا پردہ ہٹایا نہیں جاسکتا اس کا در رحمت بند نہیں ہوتا اس کا سائل خالی نہیں جاتا اور اس کا امیدوار مایوس نہیں ہوتا حمد ہے اللہ کی جو ڈرنے والوں کو پناہ دیتا ہے نیکوکاروں کو نجات دیتا ہے لوگوں کے دبائے ہوؤں کو ابھارتا ہے بڑا بننے والوں کو نیچا دکھاتا ہے بادشاہوں کو تباہ کرتا اور ان کی جگہ دوسروں کو لے آتا ہے۔ حمد ہے اللہ کی کہ وہ دھونسیوں کا زور توڑنے والا ظالموں کو برباد کرنے والا فریادیوں کو پہنچنے والا اور بے انصافوں کو سزا دینے والا ہے وہ دادخواہوں کا دادرس حاجات طلب کرنے والوں کا ٹھکانہ اور مومنوں کی ٹیک ہے حمد ہے اس اللہ کی جس کے خوف سے آسمان اور آسمان والے لرزتے ہیں زمین اور اس کے آبادکار دہل جاتے ہیںسمندر لرزتے ہیں اور وہ جو انکے پانیوں میں تیرتے ہیں حمد ہے اللہ کی جس نے ہمیں یہ راہ ہدایت دکھائی اور ہم ہرگز ہدایت نہ پاسکتے اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نہ فرماتا حمد ہے اس اللہ کی جو خلق کرتا ہے اور وہ مخلوق نہیں وہ رزق دیتا ہے اور وہ مرزوق نہیں وہ کھانا کھلاتا ہے اور کھاتا نہیں وہ زندوں کو مارتاہے اور مردوں کو زندہ کرتا ہے وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں بھلائی اسیکے ہاتھ میں ہےاور وہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود! اپنی حضرت محمد پر رحمت نازل فرما جو تیرے بندے تیرے رسول تیرے امانتدار تیرے برگزیدہ تیرے حبیب اور تیری مخلوق میں سے تیرے پسندیدہ ہیں تیرے راز کے پاسدار ہیں اور تیرے پیغاموں کے پہنچانے والے ہیں ان پر رحمت کر بہترین نیکوترین زیباترین کامل ترین روئیدہ ترین پاکیزہ ترین شفاف ترین روشن ترین اور تو نے جو بہت رحمت کی برکت دی نوازش کی مہربانی کی اور درود بھیجا اپنے بندوں میں اپنے نبیوں اپنے رسولوں اور اپنے برگزیدوں میں سے کسی ایک پر اور جو تیرے ہاں بزرگی والے ہیں تیری مخلوق میں سے۔ اے معبود! امیرالمومنین علی(ع) پر رحمت فرما جو جہانوں کے پروردگار کے رسول کے وصی ہیں تیرے بندے تیرے ولی تیرے رسول کے بھائی تیری مخلوق پر تیری حجت تیری بہت بڑی نشانی اور بہت نبأ عظیم ہیں اور صدیقہ طاہرہ فاطمہ (سلام اللہ علیھا)پر رحمت فرما جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں اور نبی رحمت کے دو نواسوں اور ہدایت والے دو ائمہ(ع) حسن(ع) و حسین(ع) پر رحمت فرما جو جنت کے جوانوں کے سید و سردار ہیں۔ اور مسلمانوں کے ائمہ(ع) پر رحمت فرما کہ وہ علی زین العابدین(ع) محمد الباقر(ع) جعفر الصادق(ع) موسیٰ الکاظم(ع) علی الرضا(ع) محمد تقی الجواد(ع) علی نقی(ع) الہادی(ع) حسن العسکری(ع) اور بہترین سپوت ہادی المہدی(ع) ہیں جو تیرے بندوں پر تیری حجتیں اور تیرے شہروں میں تیرے امین ہیں ان پر رحمت فرما بہت بہت ہمیشہ ہمیشہ اے معبود اپنے ولی امر پر رحمت فرما کہ جو قائم، امیدگاہعادل اور منتظر ہے اسکے گرد اپنے مقرب فرشتوں کا گھیرا لگادے اور روح القدس کے ذریعے اسکی تائید فرما اے جہانوں کے پروردگاراے معبود! اسے اپنی کتاب کی طرف دعوت دینے والا اور اپنے دین کیلئے قائم قرار دے اسے زمین میں اپنا خلیفہ بنا جیسے ان کو خلیفہ بنایا جو اس سے پہلے ہو گزرے ہیں اپنے پسندیدہ دین کو اس کیلئے پائیدار بنادے اسکے خوف کے بعد اسے امن دے کہ وہ تیرا عبادت گزار ہے کسی کو تیرا شریک نہیں بناتا۔ اے معبود! اسے معزز فرما اور اس کے ذریعے مجھے عزت دے میں اسکی مدد کرو اور اس کے ذریعے میری مدد فرما اسے باعزت مدد دے اور اسے آسانی کے ساتھ فتح دے اور اسے اپنی طرف سے قوت والا مددگار عطا فرما اے معبود! اس کے ذریعے اپنے دین اور اپنے نبی کی سنت کو ظاہر فرما یہاں تک کہ حق میں سے کوئی چیز مخلوق کے خوف سے مخفی و پوشیدہ نہ رہ جائے اے معبود! ہم ایسی برکت والی حکومت کی خاطر تیری طرف رغبت رکھتے ہیں جس سے تو اسلام و اہل اسلام کو قوت دے اور نفاق و اہل نفاق کو ذلیل کرے اور اس حکومت میں ہمیں اپنی اطاعت کیطرف بلانے والے اور اپنے راستے کیطرف رہنمائیکرنے والے قرار دے اور اس کے ذریعے ہمیں دنیا و آخرت کی عزت دے اے معبود! جس حق کی تو نے ہمیں معرفت کرائی اسکے تحمل کی توفیق دے اور جس سے ہم قاصر رہے اس تک پہنچادے اے معبود اسکے ذریعے ہم بکھروں کو جمع کردے اسکے ذریعے ہمارے جھگڑے ختم کر اور ہماری پریشانی دور فرما اسکے ذریعے ہماری قلت کوکثرت اور ذلت کو عزت میں بدل دے اسکے ذریعے ہمیں نادار سے تونگر بنا اور ہمارے قرض ادا کر دے اسکے ذریعے ہمارا فقر دور فرما دے ہماری حاجتیں پوری کر دے اور تنگی کو آسانی میں بدل دے اس کے ذریعے ہمارے چہرے روشن کر اور ہمارے قیدیوں کو رہائی دے اسکے ذریعے ہماری حاجات بر لا اور ہمارے وعدے نبھا دے اسکے ذریعے ہماری دعائیں قبول فرما اور ہمارے سوال پورے کر دے اس کے ذریعے دنیا و آخرت میں ہماری امیدیں پوری فرما اور ہمیں ہماری درخواست سے زیادہ عطا کر اے سوال کئے جانے والوں میں بہترین۔اور اے سب سے زیادہ عطا کرنے والے اس کے ذریعے ہمارے سینوں کو شفا دے اور ہمارے دلوں سے بغض و کینہ مٹا دیجس حق میں ہمارا اختلاف ہے اپنے حکم سے اس کے ذریعے ہمیں ہدایت فرما بے شک تو جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف لے جاتا ہے اس کے ذریعے اپنے اور ہمارے دشمن پر ہمیں غلبہ عطا فرما اے سچے خدا ایسا ہی ہو۔ اے معبود ! ہم شکایت کرتے ہیں تجھ سے اپنے نبی کے اٹھ جانے کی کہ ان پر اور ان کی آل(ع) پر تیری رحمت ہو اور اپنے ولی کی پوشیدگی کی اور شاکی ہیں دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت تعداد اور فتنوں کی سختی اور حوادث زمانہ کی یلغار کی شکایت کرتے ہیں پس محمد اور ان کی آل (ع)پر رحمت فرما اور ہماری مدد فرما ان پر فتح کے ساتھ اور اس میں جلدی کر کے تکلیف دور کردے نصرت سے عزت عطا کر حق کے غلبے کا اظہار فرما ایسی رحمت فرما جو ہم پرسایہ کرے اور امن عطا کر جو ہمیں محفوظ بنا دے رحمت فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ |
|
اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَ فْتَتِحُ الثَّناءَ بِحَمْدِکَ وَأَ نْتَ مُسَدِّدٌ لِلصَّوابِ بِمَنِّکَ وَأَیْقَنْتُ أَنَّکَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ فِی مَوْضِعِ الْعَفْوِ وَالرَّحْمَةِ وَأَشَدُّ الْمُعاقِبِینَ فِی مَوْضِعِ النَّکالِ وَالنَّقِمَةِ، وَأَعْظَمُ الْمُتَجَبِّرِینَ فِی مَوْضِعِ الْکِبْرِیاءِ وَالْعَظَمَةِ۔اَللّٰھُمَّ أَذِنْتَ لِی فِی دُعائِکَ وَمَسْأَلَتِکَ فَاسْمَعْ یَا سَمِیعُ مِدْحَتِی وَأَجِبْ یَا رَحِیمُ دَعْوَتِی وَأَقِلْ یَا غَفُورُ عَثْرَتِی، فَکَمْ یَا إِلھِی مِنْ کُرْبَةٍ قَدْ فَرَّجْتَہا، وَھُمُومٍ قَدْ کَشَفْتَہا، وَعَثْرَةٍ قَدْ أَ قَلْتَہا وَرَحْمَةٍ قَدْ نَشَرْتَہا وَحَلْقَةِ بَلاءٍ قَدْ فَکَکْتَہا؟ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْھُ تَکْبِیراً الْحَمْدُ لِلّٰہِ بِجَمِیعِ مَحامِدِھِ کُلِّہا عَلَی جَمِیعِ نِعَمِہِ کُلِّہا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لاَ مُضادَّ لَہُ فِی مُلْکِہِ، وَلاَ مُنازِعَ لَہُ فِی أَمْرِھِ ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لاَ شَرِیکَ لَہُ فِی خَلْقِہِ، وَلاَ شَبِیہَ لَہُ فِی عَظَمَتِہِ ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الْفاشِی فِی الْخَلْقِ أَمْرُھُ وَحَمْدُھُ، الظَّاھِرِ بِالْکَرَمِ مَجْدُھُ، الْباسِطِ بِالْجُودِ یَدَھُ، الَّذِی لاَ تَنْقُصُ خَزائِنُہُ، وَلاَ تَزِیدُھُ کَثْرَةُ الْعَطاءِ إِلاَّ جُوداً وَکَرَماً إِنَّہُ ھُوَ الْعَزِیزُ الْوَہَّابُ ۔ اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ قَلِیلاً مِنْ کَثِیرٍ، مَعَ حاجَةٍ بِی إِلَیْہِ عَظِیمَةٍ وَغِناکَ عَنْہُ قَدِیمٌ وَھُوَ عِنْدِی کَثِیرٌ، وَھُوَ عَلَیْکَ سَھْلٌ یَسِیرٌ ۔ اَللّٰھُمَّ إِنَّ عَفْوَکَ عَنْ ذَ نْبِی، وَتَجاوُزَکَ عَنْ خَطِیئَتِی، وَصَفْحَکَ عَنْ ظُلْمِی وَسَِتْرَکَ عَلَی قَبِیحِ عَمَلِی، وَحِلْمَکَ عَنْ کَثِیرِجُرْمِی عِنْدَ مَا کانَ مِنْ خَطَإی وَعَمْدِی أَطْمَعَنِی فِی أَنْ أَسْأَلَکَ مَا لاَ أَسْتَوْجِبُہُ مِنْکَ الَّذِی رَزَقْتَنِی مِنْ رَحْمَتِکَ وَأَرَیْتَنِی مِنْ قُدْرَتِکَ وَعَرَّفْتَنِی مِنْ إِجابَتِکَ فَصِرْتُ أَدْعُوکَ آمِناً وَأَسْأَلُکَ مُسْتَأْنِساً لاَ خائِفاً وَلاَ وَجِلاً، مُدِلاًّ عَلَیْکَ فِیما قَصَدْتُ فِیہِ إِلَیْکَ، فَإِنْ أَبْطَأَ عَنِّی عَتَبْتُ بِجَھْلِی عَلَیْکَ وَلَعَلَّ الَّذِی أَبْطَأَ عَنِّی ھُوَ خَیْرٌ لِی لِعِلْمِکَ بِعاقِبَةِ الاَُْمُورِ، فَلَمْ أَرَ مَوْلیً کَرِیماً أَصْبَرَ عَلَی عَبْدٍ لَئِیمٍ مِنْکَ عَلَیَّ، یَا رَبِّ ، إِنَّکَ تَدْعُونِی فَأُوَلِّی عَنْکَ وَتَتَحَبَّبُ إِلَیَّ فأَتَبَغَّضُ إِلَیْکَ، وَتَتَوَدَّدُ إِلَیَّ فَلاَ أَقْبَلُ مِنْکَ کَأَنَّ لِیَ التَّطَوُّلَ عَلَیْکَ فَلَمْ یَمْنَعْکَ ذلِکَ مِنَ الرَّحْمَةِ لِی وَالْاِحْسانِ إِلَیَّ وَالتَّفَضُّلِ عَلَیَّ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ فَارْحَمْ عَبْدَکَ الْجاھِلَ وَجُدْ عَلَیْہِ بِفَضْلِ إِحْسانِکَ إِنَّکَ جَوادٌ کَرِیمٌ ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ مالِکِ الْمُلْکِ، مُجْرِی الْفُلْکِ، مُسَخِّرِ الرِّیاحِ، فالِقِ الْاِصْباحِ، دَیَّانِ الدِّینِ، رَبِّ الْعالَمِینَ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلی حِلْمِہِ بَعْدَ عِلْمِہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلَی عَفْوِھِ بَعْدَ قُدْرَتِہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلَی طُولِ أَناتِہِ فِی غَضَبِہِ وَھُوَ قادِرٌ عَلَی مَا یُرِیدُ ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ خالِقِ الْخَلْقِ، باسِطِ الرِّزْقِ، فالِقِ الْاِصْباحِ، ذِی الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ وَالْفَضْلِ وَالْاِنْعامِ الَّذِی بَعُدَ فَلا یُریٰ، وَقَرُبَ فَشَھِدَ النَّجْویٰ، تَبارَکَ وَتَعالی الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لَیْسَ لَہُ مُنازِعٌ یُعادِلُہُ، وَلاَ شَبِیہٌ یُشاکِلُہُ، وَلاَ ظَھِیرٌ یُعاضِدُہُ، قَھَرَ بِعِزَّتِہِ الْاَعِزَّاءَ وَتَواضَعَ لِعَظَمَتِہِ الْعُظَماءُ، فَبَلَغَ بِقُدْرَتِہِ مَا یَشاءُ ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی یُجِیبُنِی حِینَ أُنادِیہِ، وَیَسْتُرُ عَلَیَّ کُلَّ عَوْرَةٍ وَأَ نَا أَعْصِیہِ، وَیُعَظِّمُ النِّعْمَةَ عَلَیَّ فَلاَ أُجازِیہِ فَکَمْ مِنْ مَوْھِبَةٍ ھَنِیئةٍ قَدْ أَعْطانِی، وَعَظِیمَةٍ مَخُوفَةٍ قَدْ کَفانِی، وَبَھْجَةٍ مُو نِقَةٍ قَدْ أَرانِی فَأُ ثْنِی عَلَیْہِ حامِداً، وَأَذْکُرُھُ مُسَبِّحاً۔الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لاَ یُھْتَکُ حِجابُہُ وَلاَ یُغْلَقُ بابُہُ،وَلاَ یُرَدُّ سائِلُہُ،وَلاَ یُخَیَّبُ آمِلُہُ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی یُؤْمِنُ الْخائِفِینَ وَیُنَجِّی الصَّالِحِینَ، وَیَرْفَعُ الْمُسْتَضْعَفِینَ، وَیَضَعُ الْمُسْتَکْبِرِینَ،وَیُھْلِکُ مُلُوکاً وَیَسْتَخْلِفُ آخَرِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ قاصِمِ الْجَبَّارِینَ مُبِیرِ الظَّالِمِینَ،مُدْرِکِ الْہارِبِینَ نَکالِ الظَّالِمِینَ صَرِیخِ الْمُسْتَصْرِخِینَ مَوْضِعِ حاجاتِ الطَّالِبِینَ مُعْتَمَدِ الْمُؤْمِنِینَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی مِنْ خَشْیَتِہِ تَرْعُدُ السَّماءُ وَسُکَّانُہا، وَتَرْجُفُ الْاَرْضُ وَعُمَّارُہا وَتَمُوجُ الْبِحارُ وَمَنْ یَسْبَحُ فِی غَمَراتِہا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی ھَدانا لِہذا وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْلاَ أَنْ ھَدَانا اللهُ ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی یَخْلُقُ وَلَمْ یُخْلَقْ، وَیَرْزُقُ وَلاَ یُرْزَقُ وَیُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ وَیُمِیتُ الْاَحْیاءَ وَیُحْیِی الْمَوْتی وَھُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ وَأَمِینِکَ وَصَفِیِّکَ وَحَبِیبِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ وَحافِظِ سِرِّکَ، وَمُبَلِّغِ رِسالاتِکَ أَ فْضَلَ وَأَحْسَنَ وَأَجْمَلَ وَأَکْمَلَ وَأَزْکی وَأَ نْمی وَأَطْیَبَ وَأَطْھَرَ وَأَسْنی وَأَکْثَرَ مَا صَلَّیْتَ وَبارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ وَتَحَنَّنْتَ وَسَلَّمْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ عِبادِکَ وَأَ نْبِیائِکَ وَرُسُلِکَ وَصِفْوَتِکَ وَأَھْلِ الْکَرامَةِ عَلَیْکَ مِنْ خَلْقِکَ ۔ اَللّٰھُمَّ وَصَلِّ عَلَی عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَصِیِّ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ عَبْدِکَ وَوَ لِیِّکَ وَأَخِی رَسُولِکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ وَآیَتِکَ الْکُبْری، وَالنَّبَاََ الْعَظِیمِ، وَصَلِّ عَلَی الصِّدِّیقَةِ الطَّاھِرَةِ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ وَصَلِّ عَلَی سِبْطَیِ الرَّحْمَةِ وَ إِمامَیِ الْھُدی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سَیِّدَیْ شَبابِ أَھْلِ الْجَنَّةِ وَصَلِّ عَلَی أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِینِّ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ وَعَلِیِّ بْنِ مُوسی وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ وَعَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَ وَالْخَلَفِ الْہادِی الْمَھْدِیِّ حُجَجِکَ عَلَی عِبادِکَ وَأُمَنائِکَ فِی بِلادِکَ صَلاةً کَثِیرَةً دائِمَةً۔اَللّٰھُمَّ وَصَلِّ عَلَی وَ لیِّ أَمْرِکَ الْقائِمِ الْمُؤَمَّلِ وَالْعَدْلِ الْمُنْتَظَرِ وَحُفَّہُ بِمَلائِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ وَأَیِّدْہُ بِرُوحِ الْقُدُسِ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ الدَّاعِیَ إِلی کِتابِکَ وَالْقائِمَ بِدِینِکَ اسْتَخْلِفْہُ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفْتَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِ، مَکِّنْ لَہُ دِینَہُ الَّذِی ارْتَضَیْتَہُ لَہُ،أَبْدِلْہُ مِنْ بَعْدِ خَوْفِہِ أَمْناً یَعْبُدُکَ لاَ یُشْرِکُ بِکَ شَیْئاً ۔ اَللّٰھُمَّ أَعِزَّھُ وَأَعْزِزْ بِہِ، وَانْصُرْھُ وَ وَانْتَصِرْ بِہِ، وَانْصُرْھُ نَصْراً عَزِیزاً، وَافْتَحْ لَہُ فَتْحاً یَسِیراً، وَاجْعَلْ لَہُ مِنْ لَدُنْکَ سُلْطاناً نَصِیراً اَللّٰھُمَّ أَظْھِرْ بِہِ دِینَکَ وَسُنَّةَ نَبِیِّکَ حَتَّی لاَ یَسْتَخْفِیَ بِشَیْءٍ مِنَ الْحَقِّ مَخافَةَ أَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَرْغَبُ إِلَیْکَ فِی دَوْلَةٍ کَرِیمَةٍ تُعِزُّ بِھَا الْاِسْلامَ وَأَھْلَہُ وَتُذِلُّ بِھَا النِّفاقَ وَأَھْلَہُ، وَ تَجْعَلُنا فِیہا مِنَ الدُّعاةِ إِلَی طاعَتِکَ، وَالْقادَةِ إِلی سَبِیلِکَ، وَتَرْزُقُنا بِہا کَرامَةَ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ اَللّٰھُمَّ مَا عَرَّفْتَنا مِنَ الْحَقِّ فَحَمِّلْناھُ، وَمَا قَصُرْنا عَنْہُ فَبَلِّغْناھُ اَللّٰھُمَّ الْمُمْ بِہ شَعَثَنا، وَاشْعَبْ بِہِ صَدْعَنا، وَارْتُقْ بِہِ فَتْقَنا، وَکَثِّرْ بِہِ قِلَّتَنا، وَأَعْزِزْ بِہِ ذِلَّتَنا، وَأَغْنِ بِہِ عائِلَنا وَاقْضِ بِہِ عَنْ مُغْرَمِنا، وَاجْبُرْ بِہِ فَقْرَنا، وَسُدَّ بِہِ خَلَّتَنا، وَیَسِّرْ بِہِ عُسْرَنا، وَبَیِّضْ بِہِ وُجُوھَنا، وَفُکَّ بِہِ أَسْرَنا، وَأَ نْجِحْ بِہِ طَلِبَتَنا، وَأَ نْجِزْ بِہِ مَواعِیدَنا، وَاسْتَجِبْ بِہِ دَعْوَتَنا، وَأَعْطِنا بِہِ سُؤْلَنا، وَبَلِّغْنا بِہِ مِنَ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ آمالَنا، وَأَعْطِنا بِہِ فَوْقَ رَغْبَتِنا، یَا خَیْرَ الْمَسْؤُولِینَ، وَأَوْسَعَ الْمُعْطِینَ، اشْفِ بِہِ صُدُورَنا، وَأَذْھِبْ بِہِ غَیْظَ قُلُوبِنا، وَاھْدِنا بِہِ لِمَا اخْتُلِفَ فِیہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ، إِنَّکَ تَھْدِی مَنْ تَشاءُ إِلی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ، وَانْصُرْنا بِہِ عَلَی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّنا إِلہَ الْحَقِّ آمِینَ اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَشْکُو إِلَیْکَ فَقْدَ نَبِیِّنا صَلَواتُکَ عَلَیْہِ وَآلِہِ، وَغَیْبَةَ وَلِیِّنا، وَکَثْرَةَ عَدُوِّنا، وَقِلَّةَ عَدَدِنا، وَشِدَّةَ الْفِتَنِ بِنا، وَتَظاھُرَ الزَّمانِ عَلَیْنا، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ، وَأَعِنَّا عَلی ذلِکَ بِفَتْحٍ مِنْکَ تُعَجِّلُہُ، وَبِضُرٍّ تَکْشِفُہُ، وَنَصْرٍ تُعِزُّھُ، وَسُلْطانِ حَقٍّ تُظْھِرُھُ، وَرَحْمَةٍ مِنْکَ تُجَلِّلُناہا، وَعافِیَةٍ مِنْکَ تُلْبِسُناہا، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔ |
(۱۲) ہر رات یہ دعا پڑھے :
اَللّٰھُمَّ بِرَحْمَتِکَ فِی الصَّالِحِینَ فَأَدْخِلْنا وَفِی عِلِّیِّینَ فَارْفَعْنا وَبِکَأْسٍ مِنْ
اے معبود ! اپنی رحمت سے ہمیں نیکوکاروں میں داخل فرما جنت علیین میں ہمارے درجے بلند فرما ہمیں چشمہ
مَعِینٍ مِنْ عَیْنٍ سَلْسَبِیلٍ فَاسْقِنا وَمِنَ الْحُورِ الْعِینِ بِرَحْمَتِکَ فَزَوِّجْنا، وَمِنَ الْوِلْدانِ الْمُخَلَّدِینَ
سلسبیل کے خوشگوار جام سے سیراب فرما اپنی مہربانی سے حوران جنت کو ہماری بیویاں بنا اور ہمیشہ جوان رہنے والے
کَأَنَّھُمْ لُؤْلُؤٌ مَکْنُونٌ فَأَخْدِمْنا وَمِنْ ثِمارِ الْجَنَّةِ وَلُحُومِ الطَّیْرِ فَأَطْعِمْنا وَمِنْ ثِیابِ السُّنْدُسِ وَالْحَرِیرِ
لڑکے جو گویا چھپے موتی ہیں انہیں ہماری خدمت پر لگا جنت کے میوے اور وہاں کے پرندوں کا گوشت ہمیں کھلا
وَالْاِسْتَبْرَقِ فَأَلْبِسْنا، وَلَیْلَةَ الْقَدْرِ، وَحَجَّ بَیْتِکَ الْحَرامِ وَقَتْلاً فِی سَبِیلِکَ فَوَفِّقْ لَنا، وَصالِحَ
اور ہمیں سندس ابریشم اور چمکیلے کپڑوں کے بنے ہوئے لباس پہنا ہمیں شب قدر عطا کر اپنے بیت الله (کعبہ) کے حج کی توفیق دے
الدُّعاءِ وَالْمَسْأَلَةِ فَاسْتَجِبْ لَنا،وَإِذا جَمَعْتَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ یَوْمَ الْقِیامَةِ فَارْحَمْنا، وَبَرائَةً مِنَ
اور اپنی راہ میں شہادت نصیب کر دے ہماری نیک دعاؤں اور اچھی حاجتوں کو پورا فرما دے اور جب قیامت کے روز تو اگلے پچھلوں کو اکٹھا کرے
النَّارِ فَاکْتُبْ لَناوَفِی جَھَنَّمَ فَلا تَغُلَّنا، وَفِی عَذابِکَ وَھَوانِکَ فَلا تَبْتَلِنا، وَمِنَ الزَّقُّومِ وَالضَّرِیعِ
تو ہم پر رحم فرما ہمارے لئے جہنم سے خلاصی لاز می کردے ہمیں اس میں نہ ڈال ہمیں اپنے عذاب اور ذلت میں نہ پھنسا اور ہمیں تھوہر اور زہریلی گھاس
فَلا تُطْعِمْنا وَمَعَ الشَّیاطِینِ فَلا تَجْعَلْنا وَفِی النَّارِ عَلی وُجُوھِ نا فَلا تَکْبُبْنا، وَمِنْ ثِیابِ النَّارِ
نہ کھلا اور ہمیں شیطانوں کا ہم نشین نہ بنا اور جہنم میں ہمیں چہروں کے بل نہ لٹکا ہمیں آتشی کپڑے
وَسَرابِیلِ الْقَطِرانِ فَلا تُلْبِسْنا وَمِنْ کُلِّ سُوءٍ یَا لاَ إِلہَ إِلاَّ أَنْتَ بِحَقِّ لاَ إِلہَ إِلاَّ أَنْتَ فَنَجِّنا۔
اور قطران کے پیراہن نہ پہنا اور اے وہ کہ نہیں کوئی معبود مگر تو ہی ہے نہیں کوئی معبود مگر تو ہے کے واسطے ہمیں بچا۔
(۱۳) امام جعفر صادق (ع)سے روایت ہے کہ ہر رات یہ دعا پڑھے :
اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ تَجْعَلَ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ
اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اپنی
مِنَ الْاَمْرِ الْمَحْتُومِ فِی الْاَمْرِ الْحَکِیمِ مِنَ الْقَضاءِ الَّذِی لاَ یُرَدُّ وَلاَ یُبَدَّلُ أَنْ تَکْتُبَنِی مِنْ حُجَّاجِ
قضاء و قدر میں محکم امور سے متعلق جو یقینی فیصلے کرتا ہے جو تیری وہ قضاء ہے کہ جس میں کسی بھی طرح کی تبدیلی اور پلٹ نہیں ہوتی اس میں میرا نام اپنے
بَیْتِکَ الْحَرامِ الْمَبْرُورِ حَجُّھُمُ، الْمَشْکُورِ سَعْیُھُمُ، الْمَغْفُورِ ذُنُوبُھُمُ، الْمُکَفَّرِ عَنْ سَیِّئاتِھِمْ،
بیت الحرام (کعبہ) کے حاجیوں میں لکھ دے کہ جن کا حج تجھے منظور ہے ان کی سعی قبول ہے ان کے گناہ بخشے گئے ہیں اور ان کی خطائیں مٹا دی گئی ہیں نیز
وَأَنْ تَجْعَلَ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ أَنْ تُطِیلَ عُمْرِی فِی خَیْرٍ وَعافِیَةٍ، وَتُوَسِّعَ فی رِزْقِی وَتَجْعَلَنِی
اپنی قضاء و قدر میں میری عمر طویل قرار دے جس میں بھلائی اور امن ہو میری روزی میں فراخی دے اور مجھے ان لوگوں میں قرار
مِمَّنْ تَنْتَصِرُ بِہِ لِدِینِکَ وَلاَ تَسْتَبْدِلْ بِی غَیْرِی ۔
دے جن کے ذریعے تو اپنے دین کی مدد کرتا ہے اور میری جگہ کسی اور کو نہ دے ۔
(۱۴) انیس الصالحین میں ہے کہ ماہ رمضان کی ہر رات یہ دعا پڑھے :
أَعُوذُ بِجَلالِ وَجْھِکَ الْکَرِیمِ أَنْ یَنْقَضِیَ عَنِّی
میں تیری ذات کریم کی جلالت کے ذریعے پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ
شَھْرُ رَمَضانَ أَوْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ لَیْلَتِی ہذِھِ وَلَکَ قِبَلِی تَبِعَةٌ أَوْ ذَ نْبٌ تُعَذِّبُنِی عَلَیْہِ۔
میرا ماہ رمضان گزر جائے یا میری آج کی رات کے بعد اگلی صبح طلوع ہو جائے اور میرے لئے کوئی سزا باقی ہو جس پر تو مجھے عذاب کرے ۔
(۱۵) شیخ کفعمی نے بلد الامین کے حاشیہ میں سید بن باقی سے نقل کیا ہے کہ ماہ رمضان کی ہر شب دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے کہ اس کی ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد تین مرتبہ سور ہ توحید پڑھے اور نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
سُبْحانَ مَنْ ھُوَ حَفِیظٌ لاَ یَغْفُلُ سُبْحانَ مَنْ ھُوَ رَحِیمٌ لاَ یَعْجَلُ سُبْحانَ مَنْ ھُوَقائِمٌ لاَ یَسْھُو
پاک تر ہے وہ خدا جو ایسا نگہبان ہے غافل نہیں ہوتا، پاک تر ہے وہ مہربان جو جلدی نہیں کرتا پاک تر ہے وہ قائم جو کبھی بھولتا نہیں
سُبْحانَ مَنْ ھُوَ دائِمٌ لاَ یَلْھُو
پاک تر ہے وہ ہمیشہ رہنے والا جو کھیل میں نہیں پڑتا ۔
اس کے بعد سات مرتبہ تسبیحات اربعہ پڑھے اور پھر کہے :
سُبْحَانَکَ سُبْحَانَکَ سُبْحَانَکَ یَا عَظِیْمُ اِغْفِرْلِیَ الذَنْبَ الْعَظِیْمَ
تو پاک تر ہے تو پاک تر ہے اے بڑائی والے میرے بڑے بڑے گناہ معاف کر دے ۔
اسکے بعد حضرت رسول ﷺ اور انکی آل (ع) پر دس مرتبہ صلوات بھیجے جو شخص یہ نماز بجا لائے تو حق تعالیٰ اسکے ستر ہزار گناہ بخش دیتا ہے۔
(۱۶) روایت میں ہے کہ ماہ رمضان کی ہر رات کی نافلہ نماز میں سورۃ ” انا فتحنا“ پڑھے تو وہ اس سال میں ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔ واضح ہو کہ ماہ رمضان کے رات کے اعمال میں ایک ہزار رکعت نماز بھی ہے جو اس پورے مہینے میں پڑھی جائے گی ، بزرگ علماء نے کتب فقہ اور کتب عبادات میں اس کا ذکر کیا ہے تاہم اس کی ترکیب کے سلسلے میں مختلف حدیثیں وارد ہوئی ہیں ۔لیکن ابن قرة کی روایت کے مطابق امام محمد تقی (ع)کا فرمان ہے، جسے شیخ مفید (علیہ الرحمہ)نے اپنی کتاب الغریہ و الاشراف میں نقل کیا ہے اور وہ وہی قول مشہور ہے اور وہ یہ ہے کہ ماہ رمضان کے پہلے اور دوسرے عشرے میں ہر رات دو دو رکعت کر کے نماز پڑھے ان میں سے آٹھ رکعت نماز مغرب کے بعد اور بارہ رکعت عشاء کے بعد بجا لائے پھر ماہ رمضان کے آخری عشرے میں ہر رات تیس رکعت نماز مذکورہ ترتیب سے اس طرح پڑھے کہ آٹھ رکعت نماز مغرب کے بعد اور بائیس رکعت عشاء کے بعد ادا کرے۔باقی تین سو رکعت اس طرح پوری کرے کہ سو رکعت انیس کی شب، سو رکعت اکیس کی شب اور سو رکعت تئیس کی شب میں بجا لائے تومجموعی طور پر ایک ہزار رکعت پوری ہو جائے گی ۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ترکیبیں نقل ہیں لیکن اس مختصر کتاب میں ان سب کا تذکرہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے، تاہم امید ہے کہ سعادت مند لوگ یہ ایک ہزار رکعت نماز بجا لانے میں ذوق وشوق کا اظہار کرکے اسکی برکات سے بہرور ہوں گے۔روایت ہے کہ ماہ رمضان کے نافلہ کی ہر دو رکعت کے بعد یہ پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ مِنَ الْاَمْرِ الْمَحْتُومِ وَفِیما تَفْرُقُ مِنَ الْاَمْرِ الْحَکِیمِ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ
اے معبود تو قضاء وقدر میں جن یقینی امور کو طے فرماتا ہے اور محکم فیصلے کرتا ہے اور شب قدر میں جو پر حکمت حکم جاری کرتا ہے ان میں
أَنْ تَجْعَلَنِی مِنْ حُجَّاجِ بَیْتِکَ الْحَرامِ الْمَبْرُورِ حَجُّھُمُ، الْمَشْکُورِ سَعْیُھُمُ،الْمَغْفُورِذُ نُوبُھُمْ،
مجھے اپنے بیت الحرام کعبہ کے ایسے حاجیوں میں سے قرار دے کہ جن کا حج تیرے ہاں مقبول ہے جن کی سعی پسندیدہ ہوئی جن کے گناہ بخش دیئے گئے
وَأَسْأَ لُکَ أَنْ تُطِیلَ عُمْرِی فِی طاعَتِکَ، وَتُوَسِّعَ لِی فِی رِزْقِی، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔
اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میری عمر دراز کر جو تیری بندگی میں گزرے اور میرے رزق میں فراخی فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔