صلح حدیبیہ  از     علامہ صادق حسن

دوسرا حصہ

پہلا حصہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ الملک الحق المبین وھورب العالمین ۔ الصلوٰة والسلام علی سید المرسلین وآلہ وعترتہ واہل بیت الطیبین ولعنت اللہ اعدائھم اجمعین

امابعد فقدقال سبحانہ وتعالیٰ فی محکم الکتاب العظیم بسم اللہ الرحمن الرحیم لقد صدق اللہ رسولہ الرویا بالحق لتدخلن المسجد الحرام آمنین ان شاء اللہ آمنین محلقین روٴسکم مقصرین

          سیرت پیغمبر اسلام ساتواں سال اس سال کی تقریر بھی ساتویں ہے مجموعی اعتبار سے تقریر104 اور اب سیرت پیغمبر اسلام کا ایک انتہائی اہم واقعہ شروع ہونے جا رہا ہے ایک ایسا واقعہ جس میں موجودہ حالات اور موجودہ دَور کو دیکھ کر ہمارے لیے ہدایت اور نصیحت کے بے شمار پہلو اور گوشے ہیں۔

           اگرچہ سیرت رسول کا ہر ہر واقعہ اسوہٴ حسنہ اور بہترین راہِ ہدایت ہے ۔لیکن آج کل کا زمانہ خصوصیت کیساتھ صلح حدیبیہ کے واقعہ کو سمجھنے کا تقاضا کر رہا ہے کہ جہاں مخالف اور دشمن کی کوشش ہم لوگوں کو غلط طریقے سے جوش دلا کر ایک جال میں پھنسا لینے کی ہوتی ہے اور ہر وہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ صاحبانِ ایمان اور مسلمان ایسے جوش اور جذبے میں آجائیں کہ ہوش وحواس کھو بیٹھیں پہل کا الزام ان پر لگ جائے ،دشمن کو اپنے مقاصد اور مفادات حاصل کرنے کا موقع مل جائے۔

          جس کی بہترین مثال حال ہی میں ختم ہونے والا واقعہ یعنی خلیج کی جنگ کا واقعہ ہے کہ اُکسانا ، جوش دلانا، پہل پہ آمادہ کرنا اور اس کے بعد پھر موقع سے فائدہ اٹھا کر تہمت اور الزام دھر کے اپنے تمام تر مقاصد کو حاصل کر لینا ۔تو جوش اور جذبے کی موجودہ فضا میں صلح حدیبیہ کا واقعہ بار بار پڑھنے، باربار سننے اور بار بار غور کرنے کے قابل ہے ۔

          تو خیر بات یہ ہو رہی تھی کہ خندق کی لڑائی کے بعد کفارِمکہ مکمل طور پر پسپا ہو چکے تھے، اور دوسری جانب خندق کی لڑائی کے بعد یکے بعد دیگرے کچھ ایسے حالات پیش آتے چلے گئے کہ یہودیت بھی ایک طرح سے پیچھے ہٹتے ہٹتے ساری کی ساری خیبر کے قلعے میں جا کے بند ہو چکی اس سے پہلے یہودی سارے عرب میں اور خصوصاً اطرافِ مدینہ میں پھیلے ہوئے تھے ۔

          لیکن خود بخود واقعات کچھ اس طرح سے پیش آنے لگے کہ انہیں پیچھے ہٹنا پڑا، مدینہ چھوڑنا پڑا، مدینہ چھوڑ کے مدینے سے باہر نکلے پھر مدینے کے باہر سے بھی رفتہ رفتہ ہجرت کر کر سب ایک ہی مقام پر جا کے جمع ہو رہے ہیں خیبراور صلح حدیبیہ کا واقعہ کچھ اس اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے کہ اسی صلح کے بعد پیغمبراسلام نے خیبر پہ حملہ کر کے کم از کم اُس دَور اور اُس زمانے کیلئے یعنی اپنی رسالت کے ، اپنی زندگی کی آخری سانس تک کیلئے یہودیت کے فتنے اور سازش کا خاتمہ کر دیا تھا۔

          تو یہودیت ایک مرکز پر جمع ہو چکی ہے جس کا نام خیبر ہے اس کے بارے میں مَیں بعد میں تفصیل بتاؤں گا، بعض اوقات کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر بڑی پُرکشش اور عقل کے مطابق نظر آتی ہیں لیکن تاریخ پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر وہ بات جو مطابقِ عقل ہو وہ انسان کیلئے فائدہ مند ہی ہو، خصوصیت کے ساتھ آج کل بعض اوقات ایک جملہ بار بار کہا جاتا ہے اور وہ یہ ہے بہت ہی زیادہ مرکزیت کا ایک مرکز ایک نقطہٴ اجتماع ایک ہی مقام پر سب لوگوں کو آجانا چاہیئے، کبھی یہ تحریکوں کے حوالے سے ہوتا ہے کبھی یہ اجتہاد وتقلید کے حوالے سے ہوتا ہے کبھی یہ مجتہدین کے نام کے حوالے سے ہوتا ہے یعنی ایک مرکز ایک شخصیت ایک تحریک ایک اجتماع اس سے زیادہ مفید کوئی چیز نہیں اور عقلی طور پر ثابت بھی کیا جاتا ہے اتحادکے فائدے ایک ساتھ رہنے کے فائدہ ایک اور ایک مل کر گیارہ ہونے کے فائدے لیکن تاریخ بتا رہی ہے کہ بہرحال اس کے نقصانات بھی اپنی جگہ بہت زیادہ ہیں جن میں سے ایک نقصان خود خیبر میں یہودی ایک مرکز بنا کے بیٹھے، مرکز جب ہار گیا ناکام ہو گیا شکست کھا گیا پسپا ہو گیا یہودیت مکمل طور پر کم ازکم اس زمانے سے فنا ہو گئی تفصیل انشاء اللہ بعد میں آئے گی مجھے خود ایسا لگ رہا ہے کہ مَیں دوسرے موضوعات پہ جانے لگا ہوں۔

          تو یہودیت پسا ہوتے ہوتے، پیچھے ہٹتے ہٹتے کرتے کرتے خیبر کی دیواروں تک پہنچ چکی ہے اور ایک اعتبار سے مسلمانوں کیلئے بہترین موقع بن گیاکہ اس کا خاتمہ کرو صرف خیبر کا یہودیت کا تو گویا کمال یہودیت کاخاتمہ ہو گیامگر مدینہ چھوڑ کے خیبر کی جانب جانایہ ایک بڑی حماقت اور غلطی کہلائی اگر کفارِ مکہ کے خطرے کا سدباب نہیں کیایہ کوئی عقلمندی نہیں ہو گی کہ ایک دشمن کا خاتمہ کرنے جائیں اور خود اپنے عقب اور اپنے شہر کو کھلا چھوڑ جائیں تو دوسرا دشمن آکے وہاں حملہ کرے۔ تو صلح حدیبیہ عین اُس ماحول اور اس موقعہ پہ پیش آ رہی ہے ۔تو کفارِمکہ کو کم ازکم اتنے عرصے کیلئے خاموش کر دیا جائے کہ جب مسلمان پلٹ کر خیبرکا رُخ کریں تو یہ خطرہ نہ ہو کہ اِدھر ہم گئے اور پیچھے سے ہم پر حملہ ہو گیا ۔

          تو خندق کی لڑائی اختتام کو پہنچی خیبر میں یہودیت نے اپنے مرکز کو طاقتور سے طاقتور بنا رہے ہیں ، اللہ کے رسول کو اب ایک مرتبہ مکہ سے اطمینان حاصل کرنا تھا اور اس کا پہلا مرحلہ وہی جو تین ہفتے پہلے مسلسل بیان ہوا ۔

           تو چھوٹے چھوٹے قبائل، ہر وہ قبیلہ کہ جس کے بارے میں یہ معلوم تھا یا اندازہ تھا کہ یہ کسی دشمن کا آلہ کار بن کے مسلمانوں کو چھوٹاموٹا نقصان پہنچا سکتا ہے اُن سارے قبیلوں پر حملے کیے گئے تفصیلات آپ تین ہفتوں سے سُن رہے ہیں اُس میں سے ایک صرف ایک چیز کو پھر یاد دلا دیا جائے یہ چھوٹے چھوٹے قبائل جن کی جانب اس سال اتنے لشکر بھیجے گئے کہ تاریخِ اسلام میں یا کم ازکم پیغمبر کی سیرت میں پوری زندگی میں اس سال کی طرح کے لشکر کہیں بھی نہیں بھیجے گئے، یہ سارے لشکر جن قبیلوں کی جانب جا رہے ہیں وہ قبیلے اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ مسلمانوں کا مقابلہ کریں تو ایسا نہ ہو کہ کسی کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ شاید مسلمان اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کر نے لگے جب تک پریشانی کے عالم میں تھے تو چپ تھے تو جب طاقت ملی تو چھوٹے چھوٹے قبیلوں پر حملے شروع کر دئیے ۔

          جس کے لیے پھر یاد دلانا ہے کہ پیغمبر نے عبدالرحمن ابن عوف کو ماہ شعبان سن چھ ہجری جب دومةالجندل کی جانب بھیجا تو ساتھ میں ایک تحریر ساتھ میں ایک خطبہ ایک ہدایت نامہ بھی ان کے حوالے کیا جو یہ بتا رہا ہے کہ ایسے قبیلوں کے خلاف بھی جو مسلمانوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے انتہائی کمزورہیں، کفارِمکہ اتنی بڑی طاقت ہونے کے باوجود کچھ نہ بگاڑ سکے تو یہ سوسو دودوسو تین تین سو کے قبیلے یہ کیا نقصان پہنچائیں گے؟ اُس کے باوجود احتیاط اتنی کہ عبدالرحمن ابن عوف کو بھیجا جا رہا ہے دومة الجندل کے علاقے میں، یہ وہ علاقہ ہے جو مدینہ اور شام کے درمیان ہے اور اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ پیغمبر کو چھوٹے چھوٹے لشکر یہاں بھجوانا پڑے، اب اس وقت جس لشکر کو بھجوایا جا رہا ہے وہ اس لیے کہ وہاں پر عیسائیوں کا ایک قبیلہ رہتا ہے ۔ پیغمبر اس مرتبہ جو تحریر دے رہے ہیں اُس کے اندر پہلا جملہ یہی کہ

          اللہ کے نام سے بسم اللہ وبسم رسول ۔ کہ غزوے میں حصّہ لو ، جہاد کرواللہ اور رسول کے نام سے اورخبردار کوئی دھوکا نہیں کرنا، امانت میں خیانت نہیں کرنااور کسی سے وعدہ کر کے وعدہ شکنی نہ کرنا اور کسی بھی نابالغ بچے کو قتل نہ کرنا یہ چار جملے پیغمبراسلام نے صرف ایک جملے میں

          اسلام کے اُس جہاد کا طریقہ بھی بتا دیا جو ایسے قبیلوں کے مقابلے میں ہوتا ہے جوبظاہر ہم کو بہت ہی کمزور نظر آئیں، ان کی طرف بھیجا جارہا ہے اُس پر بھی اتنی پابندی کہ خبردار وعدہ خلافی نہ ہونے پائے،خبردارکسی کو دھوکا دے کر اُس سے جنگ نہ کرنا، خبردار کسی کمزور اور نابالغ پر ہاتھ نہ اُٹھانا ، یہ پوری تحریر لکھ کے بھیجی ۔سریہ عبدالرحمن ابن عوف تاریخ میں انہیں دوباتوں کی وجہ سے مشہور ہے ایک بات یہی کہ اللہ کا رسول پورادستورِجنگ ،پوراطریقہِ جہاد اسلام کا فلسفہ جہاد اس ایک جملے میں پنہاں کر کے عبدالرحمن ابن عوف کے حوالے کیا اور پھر اس کے اندر ایک ضمنی واقعہ بھی آجاتا ہے کہا کہ جا تو رہے ہو لیکن جاتے ہیں جنگ کا آغاز نہ کر دینا پہلے انہیں دعوتِ اسلام دینا ،اگر وہ دعوتِ اسلام قبول کر لیں تو ان سے انتہائی محبت کا سلوک کرنا اور دیکھو مَیں تمہیں خوشخبری سُناتا ہوں کہ تمہاری شادی سردارِقبیلہ کی بیٹی سے ہو گی ۔

          عبدالرحمن ابن عوف پیغمبر کا دیا ہو ا ہدایت نامہ لے کے چلے ،دومة الجندل کے علاقے میں پہنچے، سردارِقبیلہ جو ایک عیسائی تھااُس کے سامنے دعوتِ اسلام پیش کی ، اُس نے اسلام کی تھوڑی سی معلومات حاصل کی اور بڑی خوشی کیساتھ نہ صرف یہ کہ اِس دین کو قبول کیا بلکہ مسلمانوں سے محبت کا رشتہ مستحکم کرنے کی خاطر یہ پیش کش بھی کی کہ سردارِ قبیلہ کی بیٹی سردارِ لشکرِاسلامی کے حوالے کی جا رہی ہے۔ وہ خاتون جن کا نام ثمامہ تاریخ میں لکھا عبدالرحمن ابن عوف سے شادی ہوتی ہے اور اسی شادی کے نتیجے میں ابوسلمہ پیدا ہوتے ہیں کہ چوتھے امام کے زمانے میں مدینے میں سات بڑے بڑے فقہاء تھے جن کا نام بھی ہے الفقہاء السبعہ سبع عربی میں سات کو کہتے ہیں ان میں سے یہی عبدالرحمن ابن عوف کے وہ بیٹے ہیں جو دومة الجندل کے قبیلے کے سردار کی بیٹی سے شادی کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔

          بہرحال وہ توایک ضمنی واقعہ آگیا اصل چیز ایسے قبیلوں کے خلاف بھی مسلمانوں کی جنگ جو قطعاً کوئی مسلمانوں کے سامنے آنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود پورے پورے ان کے حقوق کا خیال کر کے ظلم نہ ہونے پائے ، زیادتی نہ ہونے پائے، مسلمان حد سے تجاوز نہ کرنے پائیں، صرف اُتنی اُن کو سزا دی جائے جو ان کی پرانی سازش کا تقاضا ہے۔

          پس اس انداز سے پیغمبر نے منطقی طور پہ واقعات کو آگے بڑھا دیاپہلے سارے قبیلوں کو یہ پیغام بھجوا دیا گیا جو ہم سے محبت کرنا چاہتا ہے ہم اس محبت کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔

          پچھلی تقریر کا آخری واقعہ یاد کیجئے، ایک قبیلہ خود سے ڈر کے مارے آیا پیغمبر نے ہدیے تحفے اور کھجوروں کے ذریعے اُن کے ڈر اور خوف کونکالااور جو آئندہ کسی سازش میں حصہ لینے کی تیاری کر رہا ہے یا پہلے کسی سازش میں حصہ لے چکا ہے اُسے اُس کا سبق دے دیا۔ اب یہ تمام چھوٹے قبیلے خاموش ہو گئے، اب صرف دو ہی بڑی طاقتیں ہیں ایک کفارِ مکہ وہ بھی اتنی ہمت نہیں رکھتے کہ مدینہ آجائیں مگر اتنا ضرور ان کی جانب سے خطرہ ہے کہ مسلمان اگر مدینہ چھوڑ کے خیبر جائیں تو وہ پیچھے سے حملہ کر سکتے ہیں تو پہلے ایک مرتبہ جا کر کفارِمکہ کے سلسلے کو بھی ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے اور پھر خیبر کا قلعہ باقی بچے گا ۔

          یہ واقعات کی ترتیب ہے اطراف کی تمام سازشوں ،بغاوتوں اور شورشوں پر پیغمبراسلام نے قابو پایا اور پھر شوال کا مہینہ ا ٓگیا، سن چھ ہجری کا شوال تاریخِ اسلام کا اہم ترین سال باایں معنی کہ بعض علماء نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اسی سال حج کے وجوب کا حکم آیالیکن انشاء اللہ اس پر تو ہم بعد میں بات کریں گے ۔

          ایک دن پیغمبراسلام صبح کے وقت مسجد میں داخل ہوئے تو مسلمانوں کو جمع کر کے کہا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے وہ خواب جس کا تذکرہ سورہ فتح قرآن کریم کا اڑتالیسواں سورہ جو واقعہ حدیبیہ کے فوراً بعد نازل ہوا اُس میں بھی اس خواب کا تذکرہ ہے کہ

          لقد صدق اللہ الرسولہ الرویہ بالحق

          باتحقیق اوربے شک اللہ نے اپنے رسول کے حق والے خواب کو سچا کر دکھایا ہے

لتدخلن المسجد الحرام

          کہ یقینا ضرور بالضرور تم مسجدالحرام میں داخل ہو گے

          انشاء اللہ آمنین

ٍ          اور امن وامان کیساتھ جاؤ گے

          محلقین روٴسکم

          تم جا کے اپنے سروں کو منڈواؤ گے

          ومقصرین      

          یا تھوڑے سے بال کٹواؤ گے

          یہ خواب اس کا تذکرہ سورہ فتح کے اندر اس خواب کا ذکر اللہ کا رسول سن چھ ہجری میں شوال کے مہینے میں کر رہا ہے ۔

          جب اطرافِ مدینہ میں اب کوئی مسلمانوں کیخلاف بغاوت کرنے والانہ رہا، ایک خواب مَیں نے دیکھا مسلمان گھبرا کے پوچھتے ہیں اللہ کا رسول کون سا خواب؟

           تو کہا کہ مَیں نے خواب دیکھا کہ مَیں مکہ میں جا رہا ہوں اپنے ساتھیوں اور صحابیوں کیساتھ اور مسجدِ حرام میں احرام پہن کر داخل ہو رہا ہوں، اورمَیں نے یہ دیکھا کہ اس کے بعد ہم لوگ اپنے سروں کو منڈوا رہے ہیں جوحضرات حج اور عمرے کے اعمال اور مسائل سے واقف ہیں ان کیلئے تو بات بالکل واضح ہیں لیکن ایک عام مومن کی معلومات کیلئے عمرہ جو حج کے علاوہ ایک عبادت ہے جس میں پہلے ہی انسان اپنے جسم سے عام کپڑے اُتار کر ایک خاص سفید رنگ کا لباس پہنتا ہے جس کا نام ہے لباسِ احرام اور اِس لباس کو پہن کر مکہ میں داخل ہوا جاتا ہے جب مخصوص اعمال انجام دیتے ہیں اور آخر میں اپنے سر کو منڈوانا پڑتا ہے یا بعض صورتوں میں تھوڑے سے بال بھی کاٹ لیے جائیں تو عمل مکمل ہو جاتا ہے ۔ احرام عمرے کا آغاز ہے سرمنڈوانا عمرے کا اختتام ہے اور ان کے درمیان چار پانچ دیگر واجبات ہیں ۔

          تو پیغمبراسلام یہ فرما رہے ہیں کہ مَیں نے رات کو یہ خواب دیکھا ہے کہ جیسے احرام پہن کر مَیں اپنے ساتھیوں اور صحابیوں کے ساتھ مسجدالحرام میں داخل ہو رہا ہوں اور پھر مَیں نے اپنے اور اپنے اپنے ساتھیوں کوتقصیر اور سرمنڈوانے کے عمل یعنی حلق عربی میں اس کے لفظ ہے حلق ۔تقصیر اورحلق کے عمل میں مصروف پایا ہے یہ خواب پیغمبراسلام بتا رہے ہیں اور بعد میں یہ بیان کر رہے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ایک پیغام ہے ہم سب کیلئے اب جو لوگ مکہ کے قدیم باشندے ہیں چھ سال پہلے اپنا وطن چھوڑ کر آئے مگر وطن کی یاد تو ان کے دل میں موجود ہے اور وطن بھی کونسا وطن جہاں خانہ کعبہ تھا جہاں صفاومروہ کی پہاڑیاں تھیں جہاں ہروقت طواف اور عبادتوں کا موقع ملتا تھا ایسے وطن سے نکالا گیا مہاجرت کے عالم میں ، ویسے ہی ان کے دل میں وطن کی یاد تھی اور خانہ کعبہ کی تصویر کسی بھی ایسے مومن سے پوچھ لیجئے ، کسی بھی ایسی مومنہ سے دریافت کر لیا جائے جو حج اور زیارات کو انجام دے کے آگئے ایک مرتبہ گئے لیکن جیسا کہ وہ حاتم طائی کے واقعہ میں ہے وہ بہرحال کسی اور چیز کے بارے میں ہو یا نہ اس ایک عبادت کیلئے ضرور ہے کہ ایک بار دیکھا ہے اور بار بار دیکھنے کی تمنا ہے ، انسان کبھی رات کو بستر پر لیٹتا ہے تو آنکھوں کے سامنے تصویر آجاتی ہے خانہ کعبہ طواف زیارت کا منظرمعصوم کی ضریح، تو یہ مکہ والے قدیم باشندے مکی، ان اپنا شہر تھا کہاں صبح سے شام چوبیس گھنٹے میں سینکڑوں مرتبہ خانہ کعبہ کو دیکھتے تھے اور کہاں چھ سال سے مکمل تعلق منقطع ہے مکہ سے ، پیغمبر کا خواب سنا اور ایک مرتبہ وطن کی یاد اور بڑھ گئی عبادتوں کی یاد، خانہ کعبہ کی تصویر ،طواف کا منظر صفاومروہ کی سعی کا مرحلہ ، خودبخود وہ ساری تصویریں ذہنوں میں آنے لگیں، مسلمانوں میں جوش اور جذبہ پیدا ہوا، خصوصاً جب پیغمبر نے یہ بھی بتا دیا تو اب یہ تو گویا حکمِ خُدا ہو گیا کہ ہمیں مکہ میں جانا ہے اپنے شہر میں عبادتوں والے شہر میں سب گئے جلدازجلد ہمیں یہاں سے بڑھنا ہے ایک مرتبہ سارے مسلمان تیار ہو رہے ہیں یہاں پہ رُک کے مَیں ضمنی طور پر ایک بات کو عرض کر دوں صلح حدیبیہ یہاں پہ آپ دیکھیں گے قدم قدم پہ نئے نئے پیغامات ہمارے سامنے آ رہے ہیں یہی صلح حدیبیہ یہ بتائے گی کہ قرآن نے اسلام کی تمام لڑائیوں کو چھوڑ کے اس صلح کے بعد اِنّا فتحنا لک فتحا مبینا کا لفظ استعمال کیا ہے نہ بدر کی لڑائی کے بعد کہا کہ فتح مبین ملی نہ اُحد کے بعد کہا کہ فتح مبین ملی نہ خندق کے بعد کہا کہ فتح مبین ملی نہ خیبر کے بعد کہا کہ فتح مبین ملی نہ غزوہ حنین کے بعد کہا کہ فتح مبین ملی جب کہ ان میں سے ہر ہر لڑائی اتنی اہم تھی کہ وہ حق رکھتی تھی کہ اُسے فتح مبین کہا جائے اور کہا تو اُس لڑائی کو کہا کہ جس میں تلوار استعمال ہی نہیں ہوئی اس کا بھی ایک مقصد ہے انشاء اللہ اپنے موقع پہ یہ بات آئے گی۔

          صلح حدیبیہ یہ بھی بتارہی ہے اسلام میں جمہوریت اور ووٹنگ کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ صلح حدیبیہ تو ایک ایسا متفقہ واقعہ کہ کوئی مسلمان موٴرخ ایسا نہیں جس نے یہاں پہ اختلاف کیا ہو کہ لشکراسلام ننانوے فیصدی ایک طرف تھا اور اکیلا اللہ کا رسول ایک علی کو لے کر دوسری جانب تھا، اگر ووٹنگ کے معیار کو دیکھا جائے اور شوریٰ کے مشورے کے مسئلے کو دیکھا جائے تو سارے مسلمانوں کااتفاق ہے ایک مسئلے پرفقط رسول اور علی ایک جانب ، ہم نے دیکھا کہ نہ ووٹنگ چلی، نہ شوریٰ چلی، نہ مشورہ چلا، نہ جمہوریت چلی، نہ Public Opinionچلی، نہ رائے عامہ چلی، حکم وہ چلا صرف جو رسول نے چاہا اور علی نے قلمبند کیا ، صلح حدیبیہ ایک یہ پہلو بھی بتاتی ہے۔

          تواسی صلح حدیبیہ میں آپ دیکھیں گے کہ الفاظ کی اہمیت کتنی زیادہ ہے کسی بھی معاملے میں جب الفاظ لکھے جاتے ہیں، ہمارے یہاں مسائل فقہ کو تحقیر آمیز انداز سے دیکھنے اور ان پر کوئی توجہ نہ دینے والوں کی ایک فکر یہ بھی ہے یہ مجتہدین اور مولوی لوگ لفظوں کو پکڑ پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں حلال وحرام سود حرام ہے تو چھوڑ دو ہر سود یہ کیا بحث ہے کہ کونسا سود صحیح اور کونسا غلط ہے اگر حرام ہے ایک چیز مثلاً رشوت تو چھوڑ دو یہ کیا کہ اس پر مجتہد چمٹ جاتا ہے کہ رشوت کہتے کسے ہیں اس کے معنی کیا ہیں عربی زبان کے اعتبار سے ڈکشنری کیا کہہ رہی ہے؟

          آپ نے دیکھا ہو گا کہ دیندار لوگ جیسا ان کی سمجھ میں آئے عمل کرناچاہتے ہیں الفاظ کو کوئی اہمیت نہیں دینا چاہتے ہیں صلح حدیبیہ یہ بھی بتائے گی بات کو مختصر ابھی کہہ دوں کیونکہ اس کا اصل واقعہ تو بعد میں انشاء اللہ آنے والا ہے، صلح حدیبیہ کی شرط نمبر دو یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان مدینہ آئے گا تو اُسے نکال دیا جائے گا واپس کر دیا جائے گا اِدھر اس agreement پہ سائن ہوئے اُدھر ایک مسلمان آیا پیغمبر نے اسی وجہ سے اُسے واپس کر دیا مگر ابھی وہ مسلمان واپس گیا ایک مسلمان عورت آگئی مکہ میں بعض مسلمان عورتیں بھی تھیں بلکہ سورہ فتح کی ایک آیت آئی کہ اللہ نے اس لیے بھی صلح کرائی کہ اُن مسلمان عورتوں اور بچوں کو بچانا تھا وہ اپنے موقع پر آئے گی بات مگر ضمنی طور پر بعض لوگ مجتہدینِ کرام کو اس طریقے سے بہت الجھاتے ہیں کہ بھئی وہ سیدھا سیدھا ایک مسئلہ دے رہا ہے یہ گھما پھرا کر کیوں بات کرتے ہیں یہ چیز یوں ہے تو نجس اگر ووں ہے تو پاک ، یوں ہے تو حلال اس طریقے سے ہے تو حرام ، نیت یہ ہو گئی تو جائز وہ ہو گئی تو ناجائزان کے لیے بھی ایک پیغام ہے، تفصیل بعد میں آئے گی لیکن بات نکلی ہے تو واضح کر دوں مسلمان آیا پیغمبر نے واپس کر دیا ہم نے ابھی ابھی agreement کیا ہے اور اس کی شرط نمبر دو کے مطابق کوئی مسلمان ہم قبول نہیں کر سکتے، اور موقع دیکھ کر ایک عورت بھی آ گئی عقبہ ابن معید کی بیٹی، وہ بھی آگئی اور آنے کے بعد کہا اللہ کے رسول کافر کے ساتھ شادی ہوئی چونکہ مَیں مکہ میں تھی اور موقع ہی نہ تھا میرے پاس بچنے کا لیکن اب جب پتا چلا کہ لشکرِ اسلام یہاں آیا تو اب مَیں بڑی مشکل سے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کے پہنچی ہوں مجھے پناہ دی جائے اور اُدھر اُس کا شوہر آ گیا اور کہا کہ نہیں یہ میری بیوی ہے گھر سے نکل بھاگی ہے اِس کو واپس کیاجائے اور دیکھئے ابھی وہ سب لوگ جنہوں نے اگریمنٹ پہ سائن کیے ہیں کافروں کی جانب سے پیغمبراسلام نے مسلمانوں سے کہا کہ اسے اپنی پناہ میں لے لو اسے واپس نہیں کیاجائے گا ۔

          وہی جو اگریمنٹ پہ سائن کر چکا ہے مکہ والوں کی جانب سے کہا کہ ابھی ابھی معاہدہ ہوا ہے آپ خلاف ورزی کر رہے ہیں، کہا نہیں اگر مَیں خلاف ورزی کر رہا ہوتا تو اُس مرد کو واپس نہ کرتا جو اس سے زیادہ پریشان حال میرے پاس آیا تھا واپس کیا گیا، کہا پھر اس کو کیوں آپ پناہ دے رہے ہیں ؟ کہا کہ اگریمنٹ پہ یہ تھا کہ مومن آئے گا تو اُسے واپس کیا جائے گا مومنہ کے بارے میں کوئی لفظ نہیں تھا۔ ہمارا معاہدہ مومن کے بارے میں ہے مومنات کے بارے میں نہیں، مومنین کی واپسی ہم واجب ہے مومنات کی نہیں عین اسی موقع پر سورہ ممتحٰنة نازل ہوا قرآن کریم کا اہم ترین سورہ کہا یا ایھا الذین آمنوایعنی بعض مسلمان بھی ذرا چونکے یہ کچھ بات ہمیں کچھ اچھی نہیں لگتی اگریمنٹ پہ جب آ گیا تو مرد ہے یا عورت سب کے بارے میں یہی حکم ہونا چاہیئے سورہ ممتحٰنة اسی موقع پہ نازل ہوا یاایھاالذین آمنوا اذاجائکم مومنٰت مہاجرات اے صاحبانِ ایمان جب تمہارے پاس مومنات آئیں جو ہجرت کر کے آ رہی ہیں پھر آیت نے آگے چل کر فلا ترجعوھن الی الکفارخبردار انہیں کافروں کی جانب واپس نہ کرنا خبردار یہ یاد رکھو نہ یہ عورتیں کافر مردوں کیلئے حلال ہیں اور نہ کافر مرد ان عورتوں کیلئے حلال ہیں ۔

          اب اسی موقع پہ آیتِ قرآنی میں آ گیا مزید اس چیز کی تصدیق کر دی کہ پیغمبراسلام معاہدہ کے لفظ سے استراح لے کے دلیل بنا رہے ہیں لیکن کچھ مسلمان بھی Confuseہو گئے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ الفاظ سے کھیلا جا رہا ہے مرد ہے یا عورت فرق کیا آیت قرآنی نے کہا کہ نہیں عملِ رسول بالکل صحیح ہے جب معاہدہ میں لفظِ مومن آیا تو مومنہ اس کے اندر شامل نہیں ہے۔

 اس کے بارے میں یہ مانا جائے گا کہ یہ ایگریمنٹ یہ معاہدہ یہ بالکل خاموش ہے یہ بالکل خاموش ہے ہم اپنی بہن کو پناہ دیں گے ۔

          ہاں یہ دوسری بات کہ پھر پیغمبر نے عورت سے ایک سوال کر لیا یہ دوسری بات ہے کہ ایک سوال کیا یہ واقعہ مجھے خود افسوس ہے کہ وقت سے پہلے ہی کیوں آ گیا وقت پہ یہ آتا اب آ گیا ہے تو نامکمل چھوڑنا خطرناک ہے پیغمبر نے یہ سوال کیا کہ اب تم یہ بتاؤ کہ اپنے شوہر کو چھوڑ کے جو تم مسلمانوں کے پاس آئی تو اللہ کی خوشی کیلئے آئی ہو یا فقط تمہیں شوہر بدلنا ہے ؟اس لیے آئی ہو یا فقط تمہیں شہر بدلنا ہے ؟ اس لیے آئی ہو فقط تمہیں پیسے اور مدد لینا ہے اس لیے آئی ہو؟چار چیزیں پوچھیں اللہ کے لیے آئی ہو؟ یا یہ کہ شوہر بدلنا تھا یہ کہا کہ موقع بڑا اچھا ہے جیسے آجکل بعض لوگوں کے ہاتھ ایک مسئلہ لگ گیا کہ یہ مجتہد کا وکیل بھی طلاق دے سکتا ہے یہ دیکھے بغیر شرائط کیا ہے ذمہ داریاں کیا ہیں، وہ صیغہ جاری کردے پھر بھی اگر ہمیں پتا ہے اُس صیغے کے جاری کرنے میں وہ بیچارہ بے قصور ہے جیسا اُسے کہا گیا ویسا اُس نے عمل کیا لیکن اگر ہم کو پتا ہے کہ معلومات غلط دی گئیں تو وہ بالکل باطل ہے تو آقائے خوئی منہاج الصالحین کی جلد اول کی تقلید کی بحث میں لکھ رہے ہیں کہ وکیل تو وکیل اگر مجتہد اور مرجع بھی کوئی حکم جاری کرے کہ انفارمیشن یا اطلاعات یا مقدمات میں کہیں غلطی ہے اُس حکم کی کوئی اہمیت نہیں وہ حکم ٹوٹ گیا وہ حکم باطل ہے اُس کی پابندی ہم پر واجب نہیں ۔

          توآجکل جس طرح بعض لوگوں کے ہاتھ ایک مسئلہ لگ گیا کہ جی وکیل کے ذریعے طلاق مل جاتی ہے صحیح ہو غلط ہو یہ سوچے سمجھے بغیر اللہ کا رسول اس مومنہ کو پناہ بھی دے رہا ہے ایگریمنٹ کے مطابق ہم تمہیں واپس نہیں کریں گے لیکن ایسا تو نہیں کہ یہ عورت کسی فراڈ یا دھوکے کی نیت سے آکے مسلمانوں کی ہمدردی لے رہی ہے تم بتاؤ تمہارا مقصد اللہ کی خوشنودی ہے، شوہر سے نجات پا کے دوسرا نیا شوہر لینا ہے یا جگہ بدلنا مکہ شہر پسند نہیں آ رہا کسی اور شہر میں جانا یا دنیا چاہیئے جب پتا ہے کہ مظلوم بن کے آئیں گے تو مسلمان دل کھول کر مدد دیں گے یہ سوال اپنی جگہ خود اس مسئلے کو واضح کر رہا ہے اگرچہ اسلام کے اعتبار سے کسی کو یہ حق مل بھی رہا ہے لیکن اگر اُس کی نیت اور وہ شرائط پوری نہیں کر رہا تو رسول بھی اُسے حق دلوا دے گا لیکن وہ اپنی جگہ گنہگار رہے گا ۔

          خیر مزید یہ واقعہ دہرایا بھی جائے گا یہ پانچ سات منٹ کی تکرار بعد میں ہو گی لیکن چونکہ بات چھِڑ گئی نامکمل چھوڑنے کا مقصد غلط فہمیاں بڑھانا ہے ۔ بات مَیں یہ عرض کر رہا تھا کہ صلح حدیبیہ میں جہاں یہ پیغام کہ فتح کسے کہتے ہیں ، جہاں یہ پیغام کہ جمہوریت اور شوریٰ اور مشورہ کی کیا اسلام میں کیا اہمیت ہے۔ حکمِ رسول کے آگے کوئی اہمیت نہیں، جہاں صلح حدیبیہ کایہ پیغام کہ الفاظِ شریعت کی اہمیت کتنی ہے لفظِ مومن آئے تو ضروری نہیں ہے کہ مسئلہ مومنہ کے بارے میں بھی ہے ۔ چلیں ایک فقہی مسئلہ بھی مَیں بتا دوں اس سال ہمارا طریقہٴ کار کچھ بدل گیا مسائل بیان ہوتے ہیں لیکن تقریر کے بیچ میں جہاں جس مسئلے کا موقع ملا اب اسی مسئلے کی وجہ سے ایک بات بتا دی جائے، توضیح المسائل یا فقہ کی کتاب جہاں کہیں لکھا کہ فلاں چیز دو عادلوں کی گواہی سے ثابت ہے یا ایک عادل کی گواہی سے ثابت ہے یاد رکھئے کہ عادل کہتے ہیں مرد کو ہیں۔ عورت کو عادل نہیں کہتے عورت کا نام ہے عادلہ جیسے مومن اور مومنہ مسلمان اور مسلمہ مشرک اور مشرکہ عادل اور عادلہ اگر لکھا ہے کسی مجتہد نے کہ کپڑا پاک ہے یا نجس ایک عادل کی گواہی چلے گی یا دو عادل کی گواہی چلے گی اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں ایک عورت کی گواہی نہیں چل سکتی عورت آکر کہے کہ یہ کپڑا پاک ہے تب بھی نہیں چلے گی گواہی چاہے وہ تقویٰ اور عدالت کے بہترین معیار کے اوپر ہو اس لیے کہ لفظ جو کتاب میں آیا ہے فقہ کے اُسے لفظ کے مطابق عمل ہو گا ۔ ہاں یہ دوسری بات کہ نجاست اور طہارت آغا خوئی نے عادل کی بحث کو نکال کے کہا کہ جو بھی قابلِ بھروسہ ہو اُس کی گواہی چل جائے گی قابلِ بھروسہ میں عورتیں آ جاتی ہیں لیکن جیسا امام خمینی نے کہا عادل کی گواہی چلے گی اُس میں نجاست وطہارت ، کپڑا نجس ہے یا پاک، برتن نجس ہے یا پاک ، زمین نجس ہے یا پاک گواہی کے اعتبار سے اُس میں عورتوں کی بات مانی ہی نہیں جائے گی ہاں وہ ایک اور طریقہ کہ یقین ہو جائے تو دوسری بات ۔

          خیر واپس آئیے الفاظ اُسی کیساتھ صلح حدیبیہ کا ایک اور اہم پیغام وہ کیا اصل میں جہاں سے بات شروع ہوئی تھی اور مَیں دوسری ساری باتوں کو بھی لے لیا کہ صلح حدیبیہ قدم قدم پہ ہمیں ہدایتیں دے رہی ہے بالکل ابتداء میں سب سے پہلی ہدایت ہمارے سامنے کیا آئی پیغمبر فرماتے ہیں کہ مَیں نے ایک خواب دیکھا اور یہ دیکھا کہ مَیں مسجدالحرام میں داخل ہو رہا ہوں اور یہ دیکھا کہ مَیں نے سر کو منڈوایا ، یہ پیغمبرِاسلام کا خواب ہے ۔ اچھا یہ خواب کیا ایسا ہی نکلا جیسا کہ رسول نے دیکھا ، ہمارا آپ کا خواب ہے وہ تو کوئی بات نہیں ، صحیح بھی نکل سکتا ہے غلط بھی نکل سکتا ہے مگر رسول کا خواب جس میں غلطی ہونا نہیں چاہیئے اور ایسا خواب کہ رسول کہہ دیں کہ یہ خدا کا پیغام ہے اور وہ خواب جس نے مکہ سے آنے والے سارے مہاجروں کو اپنا وطن اور خانہ کعبہ یاد دلا دیا یہ تو بڑا اہم خواب بن گیا ایک تو یہی اہمیت کہ رسول کا خواب اور پھر یہ کہنا کہ رسول کا خواب بھی اللہ کی جانب سے ویسے تو رسول کا ہر خواب اللہ کی طرف سے ہے لیکن جب الگ سے کہہ دیا جائے کہ یہ اللہ کیطرف سے ہے تیسرا وہ خواب جس کا تعلق تمام مسلمانوں کے جذبات سے ہے اب اتنا اہم بن گیا یہ خواب مگر جب ہم صلح حدیبیہ کا واقعہ دیکھتے ہیں تو یہ خواب سچا نہیں نکلا نہیں نہیں یہ مَیں نے غلط لفظ کہا یہ خواب پورا نہیں ہوا۔

          اچھا تین باتیں رسول کا خواب یہ کہہ کر کہ یہ اللہ کا پیغام ہے اور ایسا خواب کہ جس نے ایک مرتبہ مکہ کے مہاجروں کو وطن یاد دلا دیا اور چوتھی بات قرآن کی آیت آ گئی

 لقد صدق اللہ الرسول الرویہ بالحق

اللہ نے رسول کے خواب کوسچا کر دیا۔

صدق سچا کر دیا رسول کے خواب کو۔

          چار چار باتیں جمع ہو رہی ہیں، تاریخ کہہ رہی ہے کہ یہ خواب اس طرح پورا ہی نہیں ہوا، گئے تو تھے مسلمان مگر حدیبیہ وہیں سے واپس کر دیاگیا مکہ تو چھوڑیں، حدودِ حرم میں بھی داخل نہیں ہوئے ۔ رسول خواب دیکھ رہے ہیں کہ مسجدالحرام میں داخل ہوئے ، مسجدالحرام نہیں مکہ، مکہ بھی نہیں حدودِ حرم میں بھی داخل نہیں ہوئے، حرم کے باہر باہر سے رخصت کر دیا گیا ۔

          پیغمبر کہہ رہے ہیں کہ میرا خواب، قرآن کہہ رہا ہے کہ سچا خواب، تاریخ کہہ رہی ہے کہ یہ خواب پورا نہیں ہوا، ہاں پورا ہوا کس طرح پورے ایک سال کے بعد ، پورے ایک سال کے بعد اگلے سال انہیں تاریخوں میں کیونکہ صلح حدیبیہ کی پہلی شرط یہ تھی کہ اس سال چلے جاؤ اگلے سال انہیں تاریخوں میں آؤ اور عمرہ کر لینا، کونسا عمرہ؟ جس کی تیاری جس کا احرام اس سال پہنا اگلے سال آکے کرنا چنانچہ اگلے سال یہ سب مسلمان گئے اُس سال پورا عمرہ کیا، مکہ میں بھی گئے خانہ کعبہ کا طواف بھی کیا سعی بھی کی، اس کا نام ہی تاریخوں میں ہے عمرة القضاء قضا والا عمرہ جو پیغمبر نے قضا والا عمرہ کیا، وہ عمرہ اگلے سال ۔

          اب دیکھیں رسول یہ کہہ دیں ہم سے آ پ سے کہہ دیں کہ ہم نے یہ خواب دیکھا ہے ہم جا رہے ہیں اور چلو میرے ساتھ کیا ہر ایک کے ذہن میں یہ بات نہیں آئے گی کہ یہ خواب اسی سال پورا ہونا ہے ہر ایک کے ذہن میں یہ بات آئے گی ، خواب، رسول نے کہا یہ خواب پورا اگلے سال ہو گا کیا اس میں ایک اہم ترین پیغام پوشیدہ ہے جدھر میں آپ کی توجہ کو لے جانا چاہ رہا ہوں بالکل شروع میں خواب دیکھا ہے پورا بھی ہوا ہے لیکن ایک سال کے بعد عام مسلمان وہ گھبرا گئے کہ پیغمبر نے خواب دیکھا پھر ہم واپس کیوں آگئے مکہ سے اُن کو کیا پتا کہ ایک سال کے بعد یہ خواب پورا ہو گاوہ تو پریشان ہو گئے ، قرآن کی آیت اس کے بعد نازل ہوئی کہ مسلمانوں گھبراوٴ نہیں اللہ کا وعدہ ہے کہ اُس کے رسول کا خواب سچا ہے پورا ہو کے رہے گا مگر مسلمان تو پریشان ہے ساری تیاری کر کے مسلمان ہم کو لے گئے یہ خواب پورا کیوں نہ نکلا؟ ایک پیغام اس میں بھی ہے وہ یہ کہ رسول اور امام کی جوبھی حدیثیں ہوتی ہیں اگر اُس میں کوئی تاریخ نہ ہو تو اپنی مرضی سے اُس حدیث کو کسی زمانے پر Fitنہ کر لیجئے منطبق نہ کر لیجئے جیسے پچھلے سال صدام کے واقعات کے دوران بعض لوگوں کو یہ غلطی کرتے دیکھا گیا کہ ظہورِ امام کی نشانیاں کتابوں میں ڈھونڈی جانے لگیں، ایک ایک کر کے وہ ساری کتابیں، جتنا اُردو میں وہ لٹریچر ہے تھوڑا بہت، قیامت صغریٰ کو کھولا، چودہ ستارے کے اُس چیپٹر کو کھولا، اور یہ آٹھ دس اور کتابیں علائم الظہور کے نام سے اُن کو کھولا، ساری نشانیاں دیکھی گئیں،خواہ خلیج میں جنگ ہو گی، خواہ بغداد میں تباہی ہو گی ، کوفہ وبصرہ اس طرح نشانہ بنے گا ، خواہ حجاز کے علاقے سے آگ کے گولے بلند ہوں گے، یہ ساری حدیثیں دیکھی گئیں اور اُن ساری حدیثوں میں بالکل بغیر کسی بنیاد کے یعنی صدام کے اور امریکا کے اور کویت کے حالات کو منطبق کیا گیا۔مجھے یا د کہ میں نے اس وقت بھی کہا تھااور ہم یہکہہ چکے ہیں کہ یہ ساری حدیثیں بتا رہی ہیں کہ ایسے ہی واقعات آئیں گے مگر دنیا کا کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ امام نے اسی سال یعنی انیس سو نوے اور اکیانوے کے بارے میں یہ کہا اور اس وقت مَیں نے یہ بات کہی کہ کبھی ظہور کی کسی نشانی کو اپنی مرضی کے کسی واقع کے اوپر فِٹ نہ کیجئے گا، موزوں نہ کیجئے گا۔ کیا پتا ایک واقعہ کتنی مرتبہ پیش آنا ہو، بغداد کتنی مرتبہ تباہ ہونا ہو، قدس میں کتنی مرتبہ لوگوں کو لُٹنا ہو، خلیج میں کتنی مرتبہ جنگیں ہونا ہو؟

          یہ سارے جملے مَیں نے عرض کیے لیکن اُس وقت عام آدمی کثرت کے ساتھ یہ غلطی کر رہے تھے اور عراق کی حکومت پیسہ دے دے کر اس بات کو پھیلا رہی تھی لیکن صلح حدیبیہ بھی دیکھئے اس اس کی ایک نشانی بنی ابھی تو یہ پچھلے سال کے حالات اور کتابوں کی بات تھی لیکن یہ جو مَیں صلح حدیبیہ کی بات کر رہا ہوں وہاں تو رسول خود مسلمانوں کے سامنے ہیں مَیں نے دیکھا ہے کہ ہم نے عمرہ کرنا ہے، مکہ میں جانا ہے، حرم میں داخل ہونا ہے ہر مسلمان یہ سمجھا ہے کہ رسول نے کہہ دیا اب تو یہ بات پوری ہو کے رہے گی ، بات تو صحیح ہے قیامت آجائے لیکن قولِ رسول غلط نہیں ہو سکتا، لوگوں نے اپنی طرف سے یہ بنا لیا کہ جب رسول نے کہا ہے تو اسی سال یہ واقع پورا ہو گا تو رسول خود بھی ہمارے ساتھ چل رہے ہیں تو مزید برکت ہو جائے گی ۔

          ایک اصول آگیا سامنے کہ رسول اور امام کی حدیث اگر وہ خود کہیں تاریخ بتا دیں تو دوسری بات ورنہ ہمیں حق نہیں کہ ہم کہہ دیں کہ وہ حدیث آجکل کے زمانے پہ فِٹ اُتر رہی ہے بس اندازہ لگا سکتے ہیں مگر یقین کیساتھ نہیں کہہ سکتے جیسا اس واقعہ میں ہوا۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کو باقی ساری ہدایتیں جبرئیل کے ذریعے ملتی ہیں ایک یہ صلح حدیبیہ کا واقعہ خواب کے ذریعے آیا ۔ پیغمبر کے حالات دیکھ ڈالیے جتنے بھی اہم واقعات ہیں سیرت رسول کے کہیں خواب نظر نہیں آ رہااس لیے نہیں کہ رسالت کا خواب معاذ اللہ غلط ہے لیکن جو اہم پیغامات تھے وہ فرشتے کے ذریعے بھجوائے جاتے تھے سوائے اس ایک صلح حدیبیہ کے پیغام کے کہ جس میں جبرئیل کو بیچ میں سے نکالا گیا اور پیغمبر کو خواب دکھایا گیا تاکہ یہ بات اور زیادہ مسلمانوں پر واضح ہو جائے کہ پیغمبر کا کلام برحق ہے خواب میں دیکھا کہ مکہ میں جا رہے ہیں کون سے سال؟ کب کی بات ہے؟ خواب کب پورا ہو گا یہ ساری چیزیں نہیں۔ جبرائیل آتے تو سارے سوالات ہو سکتے تھے ، خیر مَیں یہ دیکھتے ہوئے کہ سیرت رسول میں واقعات زیادہ آنے چاہئیں ، تبصرہ اتنا نہ ہو جائے کہ واقعات پیچھے رہ جائیں اسی ایک جملے پہ اکتفا کرتے ہوئے کہ غور کیجئے گا کہ شاید یہ بھی ایک مصلحت ہے کہ صلح حدیبیہ خواب کے ذریعے ہوئی باقی بدرہو، اُحد ہو، ہجرت ہو، اعلانِ رسالت ہو، اعلانِ غدیر ہو، خیبر ہو ہر جگہ ظاہر ہے فرشتہ آ کے پیغام دے کے گیا فرق یہی ہے کہ ایک سال کا جو چکر پڑنے والا ہے ۔

          خیر واپس آئیے موضوع پر اللہ کے رسول نے ایک اعلانِ عام کیا، کہ مَیں نے رات کو خواب دیکھا کہ ہم سب لوگ احرام پہن کے خانہ کعبہ میں داخل ہو رہے ہیں اور قرآن نے کہا بھی

 لقد صدق اللہ الرسول الرویہ بالحق، لتدخلن المسجد الحرام انشاء اللہ

          یقینا ضروربالضرور تم اس مسجد میں داخل ہو گے۔ پیغمبراسلام اسی کی اطلاع شروع میں دے رہے ہیں ۔ یہ جو سُنا مسلمان جوش اور جذبے کیساتھ بھر گئے، اب اس وقت مسلمانوں کی دو قسمیں ہیں ایک مکہ کے مسلمان جو اپنے وطن کو یاد کر رہے ہیں اور خانہ کعبہ کی تصویریں اُن کے سامنے آ رہی ہیں اور ایک نئے مسلمان جنہوں نے نہ مکہ دیکھا نہ کعبہ مگر اُس کی عظمت اور اہمیت رسول کی زبانی سُنتے رہے ہیں اُنہیں بھی جوش، مہاجرین کو بھی جوش ، لشکراسلام چلا،یا تیرہ سو یاچودہ سو یا سولہ سو یااٹھارہ سو افراد پر مشتمل تھا۔تیرہ سو سے اٹھارہ سو تک کا عدد تاریخوں میں آیا لیکن زیادہ معتبر علماء نے چودہ سو کا عدد بیان کیا ہے۔

          مدینے سے یہ لوگ نکلے، مدینہ سے نکلتے ہی چھ میل کے فاصلے پرذوالحلیفہ ایک علاقہ ہے جسے آج کل دیارعلی اور وہاں پر بنی ہوئی مسجد کو مسجدِشجرہ کہا جاتا ہے ، یہی ذوالحلیفہ مدینے سے چھ میل کے فاصلے پر ہے جو آج کل دیارعلی کے نام سے مشہور ہے اور مسجدشجرہ بھی اس جگہ کو کہتے ہیں اور اس کو اساس سمجھا گیا ہے حج اور عمرے کیلئے یعنی وہ جگہ جہاں اپنا لباس اُتار کر احرام پہننا پڑتا ہے، چھ میل کے فاصلے پر ہے مدینے سے اب تو نہیں اب تو شاید ایک میل دُور ہو لیکن اُس زمانے میں چھ میل دُور وہاں پیغمبر پہنچے اپنے قافلے کو روکا گیا ، سب نے غسل کیا، غسل کرنے کے بعد احرام کی چادریں پہنی گئیں، احرام کی چادروں کے ملبوس ہو جانے کے بعد ایک مرتبہ بآوازِبلند نیت کیساتھ تلبیہ پڑھا گیااور ایک عجیب منظر ذوالحلیفہ کے مقام پرہو رہا ہے ،اُس وقت اپنے ساتھ قربانی کے جانور بھی مسلمان لے کر آئے تھے یاتریسٹھ اونٹ یا ستّر پیغمبر نے سب کو احرام پہنا دئیے۔

           اب دیکھئے پھر ایک مسئلہ زبان پر آگیا موضوع سے ہٹ کر آجکل وہ تاریخیں ہیں کہ لوگ کثرت کیساتھ عمرے پہ جا رہے ہیں چنانچہ عمرے پہ جانے والوں کو میرا مشورہ یہی ہوتا ہے کہ آپ کو مکہ بھی جانا ہے اور مدینہ بھی جانا ہے دونوں جگہ جانا ہے ایسا پروگرام بنائیے کہ پہلے مدینے جائیں پھر مکہ آئیں تاکہ مدینے سے مکہ آپ جایں گے تو وہ سنت کا ثواب آپ کو مل جائے گا ، اُس جگہ سے احرام پہنیں جہاں سے رسول نے احرام پہنا ہے اُس راستے پر چلیں جہاں سے رسول چلے ، اُس انداز سے مکہ میں داخل ہوں جس انداز سے رسول داخل ہوئے ورنہ اگر آپ براہِ راست پہلے مکہ گئے عبادتیں توصحیح ہو جائیں گی پھر سے مدینے جائیں گے ، مدینے سے کراچی واپس آ جائیں گے وہ سعادت اور فضیلت ہاتھ سے چھوٹ جائے گی یہ عمرے والوں کیلئے میرا پیغام ہوتاہے اور حج والے چاہے پہلے مکہ جائیں جیسے ہمارا قافلہ مگربہرحال پھر مدینے سے واپس مکہ آکے سنت کو لے لیتے ہیں اس لیے اُس میں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن عمرے والوں کیلئے میرا خاص ایک نصیحت چونکہ بڑی فضیلت ہو گئی اس واقعہ کے بعد ذوالحلیفہ کی مسجد کی جہاں رسول نے عالمِ اسلام کا پہلا عمرہ مسلمانوں کی پہلی مسجد کہاں ہے ؟ مسلمانوں کی پہلی نماز کہاں ہوئی؟ پہلا روزہ کب رکھا گیا؟ اسی طرح فضیلت عالمِ اسلام میں ، اسلام آنے کے بعد پہلی مرتبہ احرام کہاں سے پہنا گیا ؟مسجدِ شجرہ پیغمبراسلام نے احرام پہن لیا ۔

          اب اس سفر کا مقصد جنگ نہیں تھا چنانچہ رسول نے باربار اشارہ کیاچاہے کچھ بھی ہو جائے کفار کچھ بھی کر لیں ہمیں جنگ نہیں کرنا ہے ہم جنگ نہیں کریں گے ۔ پیغمبر کے اس جملے نے بھی مکہ کے کافروں کو بعد میں شیر کر دیا تھا چنانچہ مسلمان لڑ تو سکتے ہی نہیں جتنا ان کو دباؤ سودباؤ تو پیغمبر کا یہ اعلان کہ ہمیں جنگ نہیں کرنا یہیں سے شروع ہو گیا وہ اس طرح کہ اللہ کے رسول نے کہا کہ اے مسلمانو! تم اس انداز سے چلو کہ کہ دُور سے بھی تمہیں کوئی دیکھے تو پہچان لے کہ یہ جنگ کرنے والے نہیں جا رہے یہ عبادت کرنے والے جا رہے ہیں ، کوئی اسلحہ ساتھ میں نہیں رکھنا سوائے تلوار کے وہ بھی نیام کے اندر ہونی چاہیئے، اس لیے کہ تلوار بہرحال عربوں میں اسی طرح ہر ایک مرد کیساتھ ہونا چاہیئے جس طرح پاکستان کے بعض سرحدی علاقوں میں وہ ہتھیار مانا ہی نہیں جاتا وہ مرد کا زیور اور مرد کی زینت مانا جاتا ہے اس کے علاوہ احرام پہن لو اور قربانی کے جانور کو اس طرح سے نمایاں کرو کہ دیکھنے والوں کو پتا چل جائے کہ یہ میدان والے اونٹ نہیں ہیں جنگ والے یہ نہیں ہے کہ یہ ٹینکوں کی طرح سے اونٹ ہیں لے جا رہے ہیں بعد میں اس پہ بیٹھ کے لڑائی کریں گے نہیں شروع سے ہی نشانی لگا دو کہ یہ قربانی کے اونٹ ہیں ۔

          اس کے لیے اسلام کا ایک طریقہ ہے شاید آپ لوگوں کو عجیب لگے لیکن مسئلہ ہے کہ ایسا جانور جس کیلئے پہلے سے یہ بتانا ہو کہ یہ قربانی کیلئے ہے کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں ہو گا اس کے دو طریقے ہیں یا تو اونٹ اگر ہے تو اس کے کوہان کو تھوڑا سا چیرا جائے اور جو خون نکلے وہ خون اس کے اوپر مَل دیا جائے ، دُور سے ہی جب کوئی دیکھے وہ اونٹ جس کے پشت کے اوپر خون مَلا ہوا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قربانی کا جانور ہے جنگ کا جانور نہیں ہے دوسرا یہ کہ پُرانے پھولوں کا ہار بنا کر جانور کے گلے میں ڈالاجائے ، آج بھی یہ فتویٰ ہے آغای خوئی کے مناسکِ حج میں پڑھ لیجئے گا کہ ان دو طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے اپنے جانور کو سجا کر لے جاؤ تاکہ پتا چل جائے کہ یہ حج کیلئے جا رہا ہے ۔ پیغمبر نے دونوں پر عمل کیا بعض اونٹوں کے کوہان کو ذرا سا شگافتہ کیا چِیرا دیا زخم لگایا اور بعض اونٹوں کے گلے میں وہ ہار بنا کے ڈالا گیا ۔

          اب یہ قافلہ چلا، مدینے سے یہ قافلہ نکلا ایک عجیب شان کیساتھ چودہ سو مسلمان احرام پہنے ہوئے خالی ہاتھ بغیر کسی ہتھیار کے اپنے ساتھ قربانی کے جانور لے کے جا رہے ہیں جانور اُس حالت اور ہیت میں دُور سے دیکھنے والا پہچان لے کہ یہ میدانِ جنگ میں کام نہیں آئیں گے یہ وہ جانور ہیں جو صرف قربان کیے جاتے ہیںقافلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔

           مکہ والے بیٹھے ہیں اُن کے پاس اطلاع آ گئی ، پیغمبر نے اتنا نمایاں طور پر اتنے اعلان کیساتھ اتنا کھلم کھلا اور اتنا ٹائم پہلے یہ ساری تیاریاں کیں کہ مکہ والوں تک یہ اطلاع پہنچنا ہی پہنچنا ہے ، پہلے خواب سنایا مدینے میں، چند دن تیاری میں لگا دئیے پھر نکلے تو مسجد شجرہ میں ایک دن رُک گئے وہاں بھی سارے اہتمام کو سب کے سامنے کیا تو بہرحال مکہ والوں تک یہ اطلاع پہنچنا ہی پہنچناتھی اطلاع پہنچی کہ مسلمان چودہ سو کا لشکر لے کے آ رہے ہیں ، بس ایک مرتبہ مکہ کے لوگ گھبر ا گئے اُن کے ذہن میں صرف ایک خیال آیا اور وہ یہ کہ جو کچھ آج سے پہلے ہوا ہم بدر میں ہار کے آئے، ہم اُحد میں ہار کے آئے ، ہم خندق میں ہار کے آئے وہ کوئی ذلت اور رسوائی نہیں تھی لیکن ہمارا شہر جس خانہ کعبہ کے ہم متولی جو ہمارے ہاتھ میں ہے اُس میں اگر مسلمان آ کے عبادت کر کے چلے گئے تو عرب کے سامنے ہماری ناک بھی کٹ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس عہدے ہی سے ہٹا دیا جائے اور اپنی عزت کو بچانے کے لئے مسلمانوں کومکہ داخل ہونے سے روکنا ہے مگر ڈر بھی رہے ہیں کہ یہ وہی تو مسلمان ہے کہ بدرواُحد میں ہمیں مزہ چکھا چُکے ہیں تو کوئی ایسا طریقہ اختیار کرو کہ آمنے سامنے آئے بغیر کام چل جائے ۔

          خالد ابن ولید اُس وقت تک دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے اُنھیں دوسو سواروں کیساتھ بھیجا گیا کہ حتی الامکان کہ راستے میں کہیں موقع ملے تو مسلمانوں پر Attackکرو اور حملہ کر دواور سب کو مار دو ۔

          یہ اطلاع کافروں کو سکون پہنچا رہی ہے کہ مسلمانوں کے پاس میدان میں لڑائی میں کام آنے والا کوئی جانور نہیں کس پہ بیٹھ کے جنگ کرے گا اور ہتھیار کوئی نہیں ہے سوائے تلواروں کے خصوصاً تِیر تِیر نہ ہونابڑا آسان ہے کہ دُور سے حملہ کریں گے مسلمان کیا کر پائیں گے ؟ ڈھال تک نہیں ہے مسلمانوں کے پاس ، نہ ڈھال ہے نہ تیر ہے نہ کمان ہے تو اب بہت آسان ہو گیا ہے دُور سے حملہ کر کے اِن کو نقصان پہنچانا۔

          خالدابن ولید کو بھیجا گیا پیغمبراسلام مَیں نے کئی تقریروں میں عرض کیا کہ سیرتِ رسول کو پڑھنے کے بعد یہ پیغام بہت نمایاں ہے پیغمبر نے ہمیشہ سراغ رسانی، جاسوسی اور دشمن کی خبر حاصل کرنے کا System اور نظام ہمیشہ بہت ہی بہترین رکھا ہے وہ جو علمِ غیب ہے رسول کا وہ اپنی جگہ ہے ظاہری اعتبار سے بھی چنانچہ اِدھر خالد ابن ولید دوسو سواروں کو لے کے چلے اُدھرپیغمبراسلام کے پاس اطلاع آ گئی ۔

          قبیلہٴ جونیہ جو اب تک کافر قبیلہ ہے مگر دل سے یہ مسلمانوں کے ہمدرد ہیں ان کے آدمی نے آکر بتایا کہ اللہ کے رسول یہ ہو رہا ہے ۔ خالد ابن ولید اس عرصہ میں کافی آگے آ چکا تھا بہرحال اُسے یہ پتا ہے کہ ہم دو سو ہیں یہ چودہ سو ہیں ، آمنے سامنے مقابلہ ہوگا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم جیت جائیں کہ آمنے سامنے ہمیشہ اُلٹا ماجرا ہوا ہے بدر میں یہ تین سو تیرہ تھے ہم ہزار، ہم ہارے اُحد میں یہ سات سو تھے ہم دس ہزار ہم ہارے خندق کے اندر ہماری پوری طاقت تھی ہم ہارے تو برابری چھوڑی اگر ہم زیادہ بھی ہوں تو نہیں ان کو شکست دے سکتے، کجا یہ کہ ساتواں حصّہ دوسواور چودہ سو دُور سے حملہ کرتا ہے لیکن دُور سے بھی کیسے حملہ کرے کہ مسلمان بڑے چوکس اور Alertنظر آ رہے ہیں ، صلح کے لیے جا رہے ہیں لیکن صلح الگ چیز ہے حماقت الگ چیز ہے اپنی حد تک اپنے بچاؤ کی تیاری ظاہری طور پر رکھنا ہے۔

           ایک ہی چیز اس کے دِل میں آئی وہ بھی اتفاقاً کہ یہ مسلمانوں کا لشکر جا رہا ہے پیغمبر کی قیادت میں جا رہا ہے ہمارے آپ کے قافلے جب چلتے ہیں یہاں تک کہ اگر نیک کام کیلئے بھی جا رہے ہوں تو سب سے پہلے جو اعلان ہوتا ہے زبانی نہیں عملی اعلان وہ یہ کہ بھائیو اور بہنو آج کل نمازیں معاف ہوگئی ہیں سفر میں کہاں نمازیں پڑھی جاتی ہیں جہاں پہنچ کے اُتریں گے وہاں پڑھیں گے نماز ارے باقاعدہ کراچی میں اور اپنے وطن میں باقاعدگی سے نماز پڑھنے والے بھی سفر میں دیکھا گیا ہے کہ اکثر نماز قضا کرتے ہیں ، سفر بھی کونسا؟ بزنس کا سفر، رشتے داروں کو ملنے جا رہے ہیں وہ سفر، گھومنے پھرنے جا رہے ہیں جی نہیں اُس میں بھی اگر نماز قضا ہو تو کچھ کچھ سمجھ میں آجاتا ہے سفرِزیارت مشہدمقدس جا رہے ہیں امام کے روضے پہ جا رہے ہیں امام کو خوش کرنے جا رہے ہیں تحفہ کیا لے کے جا رہے ہیں شریعت بتاتی ہے کہ امام کے روضے پہ جاتے ہیں تو پہلا تحفہ امام یہ مانگتے ہیں کہ دو رکعت نماز پڑھو اور ہماری حالت یہ ہے کہ مشہد کے سفر میں نمازیں قضا ہو رہی ہیں چوبیس چوبیس گھنٹوں کی نمازیں قضا ہو جاتی ہیں اُن لوگوں کی جو باقاعدہ نمازی ہیں جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ بے نمازی بھی اس سفر میں نمازی بن جائے ۔

          خدمتِ امام میں جا رہے ہیں، خدمتِ رسول میں جا رہے ہیں ، خدمتِ خُدا میں جا رہے ہیں ، فراڈ کرنے والا بھی یہ جانتا ہے کہ بہرحال ایسے موقعے پہ ویسا بن کے پہنچنا ہوتا ہے جیسا وہ چاہتے ہیں وہاں پہنچ کر تو پھر بھی دیکھا ہے کہ بے نمازی نمازی بن جاتے ہیں ، اُتر گئے مسافر خانے میں اب نماز ہو جاتی ہے اُتر گئے مکہ اور مدینے میں اب نماز ہو جاتی ہے ، سفر وہ مصیبت ہے کہ دودو دن کبھی سفر میں گذرتے ہیں اور ساری نمازیں قضا ہو رہی ہیں اس لیے کہ مومنینِ کرام کا لشکر نماز قضا نہ کرے تو کیا کرے؟

          وہ لشکرِ اسلامی پیغمبراسلام کی قیادت میں جا رہا ہے جو بھی نماز کا ٹائم آیا، جو بھی وقتِ نماز آیا فوراً لشکر رُکتا ہے اور نما ز پڑھی جاتی ہے ۔

          اب یہاں پہ تمام تاریخوں میں ہماری تمام تاریخیں یہاں پر متفق ہیں کہ خالد ابن ولید جو نکل چکے ہیں مکہ سے اور مسلمانوں کے اس قافلہ عمرے کو روکنا چاہتے ہیں راستے میں ، طریقہ سمجھ میں نہیں آ رہا آمنے سامنے تو ناممکن ہے چھپ کے حملہ کرنا ہے لیکن مسلمان بہرحال الرٹ ہے اور اُن کے سراغ رسان اور جاسوس پھیلے ہوئے ہیں ۔ ایک دفعہ اتفاق سے ایسا ہوا کہ مسلمان میدان میں ہیں خالد ابن ولید اپنے دوسو سواروں کو لے کر پہاڑی کے پیچھے ہیں ، نگاہ پڑی کیا دیکھا کہ مسلمان نماز پڑھ رہے ہیں ، نماز کے عالم میں اور آخری رکعت چل رہی ہے فوراً کہا کہ یہ بہترین موقع مجھے ہاتھ لگا ہے

          ارے مَیں نے پہلے کیوں نہیں سوچا

           یہ مسلمان ہیں اطلاع مل چکی ہے مکہ کے کافروں کو کہ مسلمان اپنی نماز کو نہیں توڑا کرتے ، فقہی اعتبار سے اجازت بھی ہو لیکن یہ عام طریقے سے نماز نہیں توڑتے ، کہا یہ بہترین طریقہ ہے اب جو یہ نماز شروع کریں اب جو یہ نماز پڑھیں دوسری نماز یہ نماز تو آخری رکعت ہے سلام کے قریب پہنچ گئے مسلمان دوسو تیر اندازوں کو تیار کرنے میں ٹائم لگتا ہے یہ تو ہاتھ سے نکل گیا ہے اگلی جو یہ نماز پڑھیں گے بس فوراً اُس وقت حملہ کر دینا اور چونکہ مسلمان اپنی نماز توڑتا نہیں سارے کے سارے مسلمان مار لیے جائیں گے ۔

          یہاں پہ ایک بات مَیں اور یاد دلا دوں ا104 تقریر ہے آج کس کو شروع کی تقریریں یاد ہوں گی لیکن تاریخِ اسلام تو سب کو یاد ہو گی وہ یہ ہے کہ شروع شروع میں جب مسلمان مکہ میں آئے اُس وقت خاص طور پر پیغمبر حرم میں نماز پڑھا کرتے تھے تو کچھ عرصے کیلئے عربوں کا مشغلہ یہ تھا کہ پیغمبر کی نماز میں رکاوٹ ڈالو ۔

          اَرَ ءَ یْتَ الذی یَنْھَیٰ عَبْداً اِذَا صَلّی

          یہ سورہ اقراء باسم ربک الذی ہے اُس کی آخری آیت پہ سجدہ ہے اس کے درمیان کی آیت ہے ۔

          حبیب دیکھو اُس گنہگار کو کافر کو جو ہمارے بندوں کو نماز پڑھنے سے روک رہا ہے

ٍ          وہ یہی تھا کہ رسول نماز پڑھ رہے ہیں غلاظت لا کے ڈال دی ، اونٹ کی اوجڑی لا کے ڈال دی کوئی بھاری وزن رکھنے کی کوشش کی لیکن یہ سارے کافر دیکھ چکے ہیں کہ ہم کچھ بھی کریں رسول اپنی نماز کو توڑتے نہیں ، نماز مکمل کی جائے گی، نماز پوری کی جائے گی وہاں سے ان کو یہ سبق یاد ہے کہ مسلمان نماز نہیں توڑا کرتا ۔

          کہا کہ اگلی نماز میں حملہ کریں گے اور بس مسلمان نماز ختم کر کے کھڑے ہوئے یہاں پر ضمنی طور پر ایک بات اور کہہ دوں اگرچہ اس کے اندر بحث کی گنجائش نہیں یہ واقعہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ بہرحال پیغمبراسلام نے اکثراً نمازوں کو ملا کے پڑھا ہے ورنہ ظہر کے بعد اگر عصر کا ٹائم ہی ابھی نہیں آیا تو نماز کونسی؟ وہ تو دوگھنٹے کے بعد ہونا چاہیئے مگر تمام تاریخیں متفق ہیں کہ خالد ابن ولید نے یہ سوچا اور ہوا یہی کہ ایک نماز ختم ہوئی اور پیغمبر نے فوراًدوسری نماز شروع کرا دی دوسری نماز عصر کی نماز وہ جو بعض لوگوں ہمارے لوگوں کے ذہن میں بھی ہے کہ رسول اور امام کے زمانے میں نمازیں الگ پڑھی جاتی تھیں بعد میں شاید علماء نے یہ مسئلہ بنایا یہ واقعات اگرچہ سفر کا مسئلہ ہے لیکن بہرحال سفر بھی سہی نماز جمع کی گئی ۔

          خیر پیغمبر نے دوسری نماز جمع کرنا چاہی عین اُس موقع پہ جبرائیل آئے ، اب اُدھر سن چھ ہجری کا واقعہ ہے چھ ہجری کا مقصد کیا ہوا تیرہ سال مسلمان مکہ میں رہے چھٹا سال یہ اُنیس سال ہو گئے ہیں اسلام کو اب تک نمازِخوف صرف ایک مرتبہ پڑھی گئی ، صرف ایک مرتبہ اس کے بعد دوبارہ ضرورت نہیں آئی ، نمازِ خوف اگر کبھی دشمن کا خوف ہو پھر حکم یہ ہے کہ مسلمان ایک ساتھ نماز نہ پڑھیں پہلے آدھا لشکر نماز پڑھے اور دوسرا آدھا لشکر حفاظت کرتا رہے ، پھر حفاظت کرنے والے نماز پڑھیں اور نماز پڑھنے والے جا کے پہرہ سنبھالیں ۔

          اب پہلی نماز ظہر کی ہوئی سب نے ایک ساتھ پڑھی ، عصر کی نماز پیغمبر نے کہا کہ ابھی ابھی جبرائیل میرے پاس آئے اورخُدا کا حکم پہنچا گئے کہ وہ جو ایک دفعہ ہم نے نماز خوف پڑھی وہی دوبارہ پڑھنا ہے ۔ سارے مسلمان قریب نہ آئیں آدھے مسلمان چاروں طرف بکھر کے حفاظت کریں اور باقی آدھے مسلمان نماز کو مکمل کریں اورپھر جو یہ لوگ پوری کریں نماز تو وہ لوگ آجائیں ۔

          خالدابن ولید نے جب یہ منظر دیکھا ایک مرتبہ محاورةً سر پیٹ لیا کہ پوری کی پوری سکیم اور منصوبہ ناکام ہو گیا ۔ مسلمانوں کو کس نے بتایا عین وہ موقع کہ مَیں تیاری کر کے بیٹھا یہ تو اب سراغ رسانی اور جاسوسی کا مسئلہ بھی نہیں رہا اتنے جلدی کوئی جاسوس نہیں جا سکتا نہ گیا ۔

          گھبرا کے اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ کس نے مسلمانوں کو چالاکی کا یہ طریقہ بتایا ہے؟ نماز بھی ہو گئی، نماز توڑنے کی ضرورت بھی نہ ہوئی، اور لشکرِاسلام بچ بھی گیا خیر نماز مکمل ہوئی ، پیغمبراسلام ایک مرتبہ کہتے ہیں :

          اے مسلمانو! تمہیں معلوم ہے کہ وہ سراغ رسان، وہ جاسوس اطلاع دے گیا کہ کفارِمکہ ہمارا راستہ روکنا چاہتے ہیں اور مَیں اس وقت جنگ نہیں کرنا چاہتا ، ہم صرف زیارت کیلئے جا رہے ہیں ، چنانچہ آؤ ہم لوگ راستہ بدل لیں۔

          اچھا خاصا جو راستہ مدینے سے مکہ آ رہا ہے اُس کے قریب رسول پہنچ چکے ہیں یہ اُس وقت کی بات ہے جب قریب پہنچ گئے ۔

          پیغمبر نے راستہ بدل لیا اور بہت ہی دُور گھوم گھوم کے جا رہے ہیں ایسے علاقے میں جس کے لیے مسلمان تیار ہو کے نہیں آئے نہ کھانے کا انتظام اتنا کیا ہے نہ پینے کا انتظام اتنا کیا ہے ۔

          اب عجیب منظر ہے پورے واقعات تو آج نہیں آ سکتے بس یہ آخری آخری مرحلے ، ایک مرتبہ جب یہ خبر مل گئی کہ اب تک مسلمان سکون کیساتھ تھے کہ اب تو جا رہے ہیں عمرے کیلئے اب اطلاع ملی کہ دشمن پیچھے لگ گیا اور ایسا دشمن کہ پیغمبر منع کر چکے ہیں کہ اُس سے لڑنا ہی نہیں ہے ۔اب تو خطرہ ہی خطرہ ہے اور اتنا خطرہ کہ رسول راستہ بدل کے جا رہے ہیں۔

           اب مسلمان خوفزدہ ہو گئے اب مسلمانوں میں سے بعض کے حوصلے پست ہونے لگے اب بعض مسلمان گھبرا گھبرا کر سوچنے لگے کہ اگر یہ سب کچھ ہونا تھا تو کاش رسول بتا دیتے کہ ہم تیاری کر کے آتے کہ عین وہ وقت آگیا کہ مسلمان راستہ بدل چکے ہیں حدیبیہ کے قریب پہنچ رہے ہیں اُس سے پہلے بڑی اونچی پہاڑی آئی ایسی پہاڑی کہ اُسے دیکھ کے لوگ خوفزدہ ہو گئے اچھا پہاڑی سے مراد کے ۔ٹو یا ماؤنٹ ایورسٹ نہیں ہے ایک اتنا اونچا ٹیلہ کہ یہ پتا نہیں کہ اس کے دوسری طرف کیا ہے؟ ابھی ابھی یہ خطرہ کہ کافر پیچھے لگے ، ہم جنگ نہیں کریں گے اسلحہ بھی نہیں ہے ایسی پہاڑی کہ اس کے اوپر سے ہی جا کے اُترنا ہے ہر ایک کے دل میں خیال کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے نیچے کفار بیٹھے ہوئے ہوں اب ایک مرتبہ پہاڑی کے اوپر پہنچیں اور انھوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ہر جگہ پہ یہ اصول ہے کہ پہاڑی کے اوپر والا ہمیشہ طاقتور ہوتا ہے پہاڑی سے نیچے والا کمزور ہوتا ہے لیکن کب؟ جب پہاڑی کے اوپر والے کے پاس تِیر اور نیزے اور برچھے ہوں تلواریں اگر ہوں تو وہ اوپر بھی ہے تو بیکار ہے پہاڑی اس لیے کہ اوپر اگر ہے تلوار چلائے گا تو کس کے لگے گی تلوار، مسلمانوں کے پاس تیر نہیں کمان نہیں نیزے نہیں یا برچھیاں نہیں تلوار ہے ، تلوار اگر ہاتھ میں ہے تو پہاڑی کے اوپرجانابھی بیکار ہے اب ہر ایک کے دل میں خوف کہ اس کے دوسری جانب کیا ہے؟ہم کسی پریشانی میں نہ پھنس جائیں۔

          اُس وقت ایک عجیب جملہ پیغمبراسلام نے کہا یہ جملہ وہ ہے کہ اس کی تشریح میں نکل جاؤں ناں تو بیس منٹ موضوع سے مَیں ہٹ جاؤں ۔ پیغمبر نے مسلمانوں کی یہ حالت دیکھی پہاڑی کے خطرے کو دیکھا اور کہا کہ مسلمانو! آگے بڑھو اور اس پہاڑی کے اوپر چڑھتے چلے جاؤ اور یاد رکھو کہ اس پہاڑی پر جانا ایسا جیسے بابِ حِطہ میں داخل ہونا ہے ، حِطہ بنی اسرائیل کا امتحان

          اُدخل بعد قرآن کہہ رہا ہے کہ بنی اسرائیل فرعون کے دریا میں ڈوبنے کے بعد خدا کی نافرمانی کی بنا پر چالیس سال تک صحرا کے اندر راستہ بھٹکتے رہے ہیں ، آخر منزلِ مقصود آئی وہ بھی کب جب اپنی غلطیوں کا احساس ہوا کہ ہم نے خدا کی نعمتوں کے مقابلے میں کتنا ناشکرا پن کیا ، خُدا نے توبہ قبول کرنا چاہی وہ بھی جب اعلان ہوا کہ جس شہر میں جا رہے ہو اس کے دروازے سے جب گذرنا تو حِطہ کہتے ہوئے داخل ہونا ، سجدہ کرتے ہوئے اُدخلل بعدسجدہ سجدے کے عالم میں جانا اور حِطہ کہنااُس کی توبہ کو خدا قبول کرے گا حِطہ جو سریانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں توبہ کے معنی ہیں۔

          چالیس سال صحرا میں بھٹک چکے ہیں کھانے اور پانی کے لالے پڑ چکے ہیں یہ وہ ہیں جو من وسلویٰ کو ٹھکرا گئے تھے روزانہ ایک جیسی ڈش ہم سے نہیں کھائی جا رہی ہے نتیجے میں کچھ بھی نہ مِلا۔ اب یہ پیغام آیا اور جیسے ہی وہ دروازہ نظر آیااُس کے اندر بھرا ہوا شہر دیکھا وہی کیفیت جو اکثر آپ نے محاورةً سُنا کہ کھجور کے درخت پہ کوئی صاحب پھنسے اور ایک مرتبہ اُترنا بھول گئے اتنا اونچا درخت نیچے زمین نظر آ رہی ہے گھبرا گئے یہ کیا ہوا خداوندا میری جان بچا لے تو مَیں اونٹ دوں گا لیکن جیسے جیسے نیچے اُترتے جا رہے ہیں زمین قریب آ تی جا رہی ہے اونٹ سے گائے پر آئے گائے سے بکری پر آئے بکری سے مرغی پر آئے مرغی سے انڈے پر آئے اب قریب پہنچ گئے خداوندا تُو قادرِمطلق ہے تجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔

          جو حالت ہوئی کہ ایک مرتبہ بھرا ہوا شہر نظر آیا اب کیسا حِطہ، کیسی توبہ اور کیسا استغفار؟ قرآن نے کہا سجدہ کرو اور توبہ کرو ایک مرتبہ اکڑ کے چلے اور جو تاریخوں میں ہے کہ چلے بھی اس طرح کہ اُلٹا چلے اور زیادہ نافرمانی کے لیے کہ ہم ذرا بھی جھکنے کو تیار نہیں کہ اگر سیدھے سیدھے جائیں گے ہو سکتا ہے کہ تھوڑی سی گردن کہیں جھک جائے اللہ سجدہ کہہ رہا ہے سجدہ تو چھوڑو ہم ذرا سی گردن بھی نہیں جھکائیں گے، اُلٹا چل کے جاؤ تاکہ ذرا سا جھکنے کا سوال بھی پیدا نہ ہو اُس وقت صرف وہ بچے جنہوں نے حکم کو مانا اور جنھوں نے حکم کو نہیں مانا اکڑ دکھائی سجدہ بھی نہیں کیااور جو لفظ بتایا تھا اُس کو حنطہ میں بدل دیا گندم گندم مذاق شریعت کیساتھ مذاق ۔

          پیغمبر نے کہا یاد رکھو اِس وقت حدیبیہ کی پہاڑی پہ چڑھنا ایسا ہے کہ جیسے دروازے میں حطہ کہتے ہوئے داخل ہونا ، یہ واقعہ بس ایک اشارہ کر دیا رسول نے اتنا اہم ایمان کا امتحان بن گیا اتنا جملہ سُنا مدینے کے جو پُرانے باشندے ہیں اوس وخزرج اُن کو جوش آیا ایک مرتبہ   نوجوان تکبیر کی آواز بلند کر کے تیزی کیساتھ اُس پہاڑی پر چڑھے اور جب پہاڑی کے اوپر چڑھے تو دیکھا کہ پہاڑی کے نیچے انتہائی سرسبز میدان بھی ہے اور ایک کنواں بھی نظر آ رہا ہے پانی کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے پانی ختم ہو چکا ہے مسلمانوں کے پاس ۔ وہ جس راستے کیلئے تیار ہو کے آئے تھے وہ راستہ ہی بدل گیا ہے جیسے ہی پہاڑی پہ چڑھے وہی چیز خدا امتحان لیتا ہے ایک مرتبہ ارادہ کر لے انسان امتحان دینا ہے آگے پھر آسانی ہی آسانی ہے راحت ہی راحت ہے انہوں نے آواز دی مسلمانوں آجاؤ خدا کی نعمتیں انتظار کر رہی ہیں ہمیں پانی مل گیا ہے، لشکرِ اسلام اُترا ایک عورت اپنے بچے کو کھڑا کر کے پانی پلا رہی ہے لشکراسلام پہ نگاہ پڑی گھبرا کے وہ ماں اپنے بیٹے کو لے کے بھاگی بیٹا بلکہ زیادہ تیزی کیساتھ بھاگا ، دشمن کا لشکر جب آتا ہے اور وہ قرآنِ کریم میں بھی وہ چیونٹیوں کا جملہ ہے کہ جب بادشاہ کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اُسے تباہ کر دیتے ہیں ۔

          عورت بھی یہی سمجھی بیٹا تیزی سے بھاگ رہا ہے ماں بھی بھاگ رہی ہے کہ ایک مرتبہ اُس کی نگاہ پڑی پلٹ کے آواز دی کہ بیٹا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ مسلمان آ رہے ہیں اگرچہ کافر ماں ہے اگرچہ کافر بیٹا ہے لیکن کیا کہہ رہی ہے کہ بیٹا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہ تو مسلمان آ رہے ہیں یعنی اُس وقت تک عرب کے چپے چپے تک یہ بات پہنچ چکی تھی کہ لشکر اسلام کبھی ظلم نہیں کرتا ہے کبھی زیادتی نہیں کرتا ہے کسی مظلوم پہ ہاتھ نہیں اُٹھاتا ہے کسی عورت اور نابالغ بچے کو چاہے دشمن بھی ہو قتل نہیں کرتا ہے ۔

          دیکھئے وہ جو تین تقریریں آپ نے مسلسل سُنیں کہ خندق کے بعد اور حدیبیہ سے پہلے پیغمبر نے اتنے سارے لشکر بھجوائے تو کسی ایسے آدمی کے ذہن میں جو مکمل طور پہ تابع حکمِ رسالت نہیں ہے یہ وسوسہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اتنی لڑائیاں پیغمبر نے کیوں کیں؟ وہ لڑائی بھی ایک تبلیغ تھی ۔

          دیکھئے وہ جو تین تقریریں آپ نے مسلسل سُنیں کہ خندق کے بعد اور حدیبیہ سے پہلے پیغمبر نے اتنے سارے لشکر بھجوائے تو کسی ایسے آدمی کے ذہن میں جو مکمل طور پہ تابع حکمِ رسالت نہیں ہے یہ وسوسہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اتنی لڑائیاں پیغمبر نے کیوں کیں؟ وہ لڑائی بھی ایک تبلیغ تھی جس جس قبیلے میں لشکر گیا اور پھر طاقت ہونے کے باوجود واپس آ گیا اُس قبیلے نے یہ حیرت والا واقعہ کہاں کہاں نہ پہنچایا ہو گا جب مکہ کی سرحد پر کافرہ ماں اپنے کافر بیٹے کی جان بچانے کیلئے پریشان ہے لیکن جیسے ہی دیکھا کہ مسلمان آ گئے اُسے اطمینان ہو گیا کہ یہ دشمن سہی ، ان کا عقیدہ ہمارے عقیدے کے خلاف سہی ، یہ اس وقت مکہ میں جانے کے ارادے سے آئے سہی لیکن کبھی ہم پر اور ہمارے بیٹے پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے ۔

          ایک مرتبہ اطمینان دلایا اُس کا بیٹا واپس آیا ، پیغمبراسلام اس دوران پہاری کو طے کر کے کنویں کے قریب پہنچ چکے تھے اور اُس عورت سے کہتے ہیں کہ کنویں سے پانی نکال کے ہمیں پلا دو ۔ اُس نے ایک مرتبہ کہا کہ اے مسلمانو! اس کنویں میں پانی اتنا کم ہے ، اتنا کم ہے کہ بعض اوقات ایک آدمی کی خاطر پا نی لینے کیلئے گھنٹوں کھڑا رہنا پڑتا ہے ، مَیں اپنے بیٹے کو پانی پلانے کے لئے کتنی دی سے کھڑی ہوں ۔

          اتنا سُننا تھا کہ رسول آگے بڑھے حدیبیہ کی اس لڑائی میں کھانے اور پینے کے متعلق تین معجزے پیش آئے ، تین معجزے اُن میں سے پہلا معجزہ یہی ہے اللہ کا رسول آگے بڑھا اور آگے بڑھنے کے بعد ایک مرتبہ کنویں جھانک کے دیکھا ، لعابِ دہن کو اس کنویں میں پھینکا پیغمبر نے اور اب نہ صرف یہ کہ پانی ہوا بلکہ اس کثرت کیساتھ کہ پانی کنویں کی طے سے بلند ہوتے ہوتے کنویں کی منڈھیر تک اس طرح آ گیا کہ ڈول کی ضرورت بھی نہ رہی کہ چاہے چلو سے آگے بڑھ کے پانی پی سکتا ہے اور وہ عورت حیرت زدہ ہو کے پانی پی رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ میرے گھرانے کی زندگیاں یہاں پہ گذری ہیں اس کنویں میں اوّل تو پانی تھا نہیں اور جو پانی تھا بھی یہ مزہ تو اس کا تھا ہی نہیں اتنا شیریں اتنا خوشگوار اتنا میٹھا پانی ۔

          درود بھیجیں محمد وآلِ محمد پر

          اللھم صلی علی محمد وآل محمد۔

          پیغمبراسلام حدیبیہ کے میدان میں دو مرتبہ کنووٴں کا مسئلہ ہوا ، ایک یہ راستے میں اور ایک حدیبیہ میں اور ایک مرتبہ کھانے کا مسئلہ لیکن وہ بعد میں ۔

          خیر پانی کے مرحلے پہ فارغ ہو کے آگے بڑھے، مسلمانوں کو کچھ نہیں پتا کہ ہمیں کہاں جانا ہے مکہ جانا ہے پیغمبر کسی اور راستے سے لے کے چلے اس وقت ایک مکہ سے مدینے کا راستہ ہے جو مسجدِ عائشہ کے سامنے سے گذرتا ہے اور ایک اُس سے اُلٹ مکہ سے جدہ کا راستہ ہے جو حدیبیہ کے سامنے سے گذرتا ہے تقریباً 45یا 60ڈگری کا اینگل ہے ان دو راستوں کے درمیان، پیغمبر دوسرتے راستے سے جا چکے ہیں ، چلتے چلتے ایک کنواں نظر آیاجس کنویں کا نام تھا حدیبیہ جس کی وجہ سے یہ علاقہ حدیبیہ کا علاقہ کہلاتا ہے ۔

          وہ کنواں نظر آیا اُس وقت وہاں کوئی آبادی نہیں تھی اور اُس کنویں کے فوراً بعد حدودِ حرم شروع ہو جاتے ہے وہ بانڈری اب یہ مکہ نہیں ہے مکہ وہاں سے تئیس کلومیٹر ہے لیکن وہ علاقہ شروع ہوتا ہے جہاں کسی جانور حتیٰ کہ کسی پودے یا کسی گھاس کے پتے کو بھی توڑنا حرام اور گناہ ہے ۔

          من دخلہ کانہ آمنا جس کے بارے میں قرآن نے کہا وہ سرحد ایک قدم آگے بڑھیں حدودِ حرم جہاں کی ہر چیز کو خدا نے سیکورٹی دی ہے تحفظ دیا ہے اُس سے چند قدم پہلے حدیبیہ کا کنواں ہے ۔جہاں پہ مسلمان پہنچے اسی لیے مَیں تقریر کے بیچ میں ایک جملہ کہا ہے اس سال پیغمبر نے خواب دیکھا لیکن اس سال خانہ کعبہ میں چھوڑیں مسجد الحرام میں چھوڑیں مکہ میں چھوڑیں مکہ سے تئیس کلومیٹر دُور حدودِ حرم اس میں بھی مسلمان قدم نہیں رکھ سکے اُس سے بھی باہر باہر رہے یہاں جا کے لشکرِ اسلام رُکا ۔

          مکہ کے کافروں کو اطلاع ملی، لشکر کیسے رُکا ، کیسے رُکا یہ لشکر؟ پیغمبر کی اونٹنی جس کا نام قصویٰ ہے چلتے چلتے گھٹنوں کو موڑ کے گھٹنے سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی ۔ پیغمبر تو خاموش ہیں مسلمان گھبرا گھبرا کے آگے آئے اور کوشش کی کہ اس اونٹنی کو اٹھایا جائے اب یہ پیغمبر کی بہت ہی زیادہ محبوب اونٹنی ہے پیغمبر کی سواری میں رہی ہے وہ اونٹنی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہو ریہ ہے ۔

          پیغمبر نے فرمایا چھوڑ دو یہ وہیں پہ بیٹھی ہے جہاں پہ خدا نے اس کو حکم دیا ہے اور اب وہ منزل آگئی جس سے آگے بڑھنے کی ہم کو اجازت نہیں ہے ، اس کے پیغمبر نے مزید ایک جملہ کہا سرسری طور پہ لیکن بعض اوقات اس میں توہین کا پہلو بھی آجاتا ہے ، پیغمبر نے فرمایا کہ جس طرح ابرہہ جب اپنا لشکر لے کر آیا ہے اُس کے سب سے آگے والے ہاتھی جس کا نام محمود تھا، محمود ہاتھی کا نام ہے اُسے خدا نے کہا تھا کہ اس جگہ سے آگے نہ بڑھنا تو ابرہہ نے اپنے ہاتھی کو اتنا مارا اتنا مارا کہ وہ مر گیا مگر اپنی جگہ سے آگے نہ بڑھا پیغمبر فرماتے ہیں جیسے وہ حکمِ خدا سے معمور تھا ہاتھی محمود ویسے ہی میری اونٹنی قصویٰ یہ بھی حکمِ خدا سے معمور ہے جتنا ہی کرو یہ شہید ہو جائے گی لیکن اپنی جگہ سے آگے نہیں بڑھے گی کیونکہ ہمیں یہیں ٹھہرنا ہے۔

          یہ جملہ سُنا سب کے سب ایک مرتبہ اُتر پڑے اور وہاں خیمے لگا دئیے گئے۔ اب پروردگارِ عالم نے بیک وقت دوامتحانوں میں مسلمانوں کو ڈال دیا۔

          بس یہ آخری جملے اس کے بعد باقی باتیں ، مکہ والوں کا ری ایکشن وہاں سے قافلوں کا آنا، وہاں سے قاصدوں کا آنااگلے منگل کواب یہاں پہ مسلمان صرف دس دن کے کھانے کا سامان لائے تھے یہ سوچ کر کہ مدینے سے مکہ کا آٹھ دن کا راستہ ہے اور ایک آدھ دن وہاں پھر تو وہاں جب جائیں گے تو بازار سے راستے سے سامان خرید لیں گے ، مگر دس دن سے زیادہ راستے میں لگ گئے ، راستہ بدلنا پڑا پہاڑیوں سے آنا پڑا ، یہاں پہنچے تو کھانے پینے کا سامان ختم ، فاقے کی نوبت آ گئی پانی میں بھی مسئلہ کھانے میں بھی مسئلہ فاقوں کی نوبت آ گئی اور خدا نے بھی ایک عجیب امتحان لے لیا مسلمانوں کا ۔

          ہمارے چھٹے امام صادقِ آلِ محمد (اللھم صلی علی محمد وآل محمد) سورہ مائدہ کی آیت کی تشریح فرما رہے ہیں :

          وَلَنَبْلُوَنَّکُمُ اللهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِلاَ تَنَالُہٓ اَیْدِیْکُمْ وَ رِمَاحُکُمْ

          یادرکھو خدا تمہارا امتحان لیتا ہے کبھی شکار کے ذریعے سے ایسا شکار کہ نہ تم اپنا ہاتھ اُس تک پہنچا سکتے ہو نہ اپنے تیر

          یہ قرآن کی آیت ہے کہ امتحان کا ایک طریقہ شکار بھی ہے ۔ بڑا عجیب جملہ ہے بھئی امتحان کیا ہے فاقہ ، امتحان کیا ہے اولاد کی قربانی، امتحان کیا ہے دولت کی قربانی سورہ مائدہ لَنَبْلُوَنَّکُمُ کہ ضروربالضرور ہم امتحان لیں گے تمہارا یا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللهُ ضروربالضرور اللہ تمہارا امتحان لے گا شکار کے ذریعے سے ۔

          معصوم فرما رہے ہیں کیا تمہیں پتا ہے یہ کس امتحان کا تذکرہ ہے ؟

          راوی نے کہا نہیں مولا! مَیں تو خود اس سے پہلے پریشان ہوتاتھا۔

          کہاسُن یہ حدیبیہ کا تذکرہ ہے جب حدیبیہ کے مقام پر لشکراسلام اُتر گیا اور کھانے پینے کو کچھ نہ رہا فاقے ہونے لگے مکہ قریب ترین شہر ہے وہاں سے پیغام آ گیا کہ ایک مسلمان اگر حدودِ حرم میں قدم رکھے گا اُسے قتل کر دیا جائے گا حتیٰ کہ پیغمبر نے اپنا قاصد بھیجا اُس پر اٹیک ہو گیا اُس کے جانور کی بوٹیاں اُڑا دی گئیں اور اُس کی بھی بوٹیاں اُڑ جاتیں وہ تو کسی نے بچا لیا ۔قاصد جسے ہر جگہ تحفظ دیا جاتا ہے تو خریدوفروخت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

          اب امام کہتے ہیں سُنو! یہ سب لوگ احرام پہنے ہوئے ہیں ، احرام یعنی سفید چادر

          بس میرے آخری جملے

          یہ سب احرام پہنے ہوئے تھے سفید چادر سے اور آپ کسی بھی حاجی یا عمرہ کرنے والے سے پوچھ لیجئے کہ جب انسان احرام پہن لیتا ہے تو تئیس چوبیس چیزیں حرام ہو جاتی ہیں اُن میں جانوروں کا شکار بھی حرام ہے ۔

          امام فرما رہے ہیں صلح حدیبیہ کے موقع پہ خدا نے مسلمانوں کا بالکل وہ امتحان لیا جو بنی اسرائیل سے ہفتے کے دن مچھلیوں کے بارے میں امتحان لیا گیا۔ بنی اسرائیل ہفتے کے دن شکار حرام ہے ، مچھلیوں کو اطلاع ملی کہ آج کوئی ہمیں نہیں پکڑ سکتا کثرت کیساتھ مچھلیاں نکل کے دریاؤں میں آتی ہیں اور بنی اسرائیل کے لوگوں کے دلوں پہ سانپ لوٹتے تھے کہہ رہے ہیں کہ کیسا بہترین شکار ہمارے سامنے ہے یہ کیسا حکمِ خدا ہے کہ ہاتھ نہ لگاؤ پھر دوواقعات اُس جگہ اور اس کی مخالفت پہ لوگ بندر بنے اس لیے کہ امتِ موسیٰ تھے اور یہ امتِ رسول ہے رحمت بھی نازل ہوئی اور لوگوں نے امتحان دیا اور وہ اس طرح کہ سب احرام پہنے تھے اور احرام کی حالت میں شکار حرام اور گناہ ہے اور اس کا کفارہ بھی ہے۔

          ٹھیک ہے حرم میں نہیں گئے حرم کے باہر ہیں۔ یادرکھئے حرم میں اگر کوئی پہنچ جائے تو احرام کے بغیر بھی ہو حرم میں تو سب کے لئے شکار حرام ہے، حرم کے باہر عام لباس میں ہو تو شکار کر سکتے ہو احرام میں نہیں ۔

          امام فرما رہے ہیں کہ اب جنگل کے جانوروں کو خدا نے پیغام دے دیا کہ یہ مسلمان بھوکے ہیں لیکن احرام کی حالت میں ہیں ، کسی جانور کو ٹچ نہیں کریں گے ہاتھ نہیں لگائیں گے ۔

          راوی کہتا ہے کہ حدیبیہ کے میدان میں جو لوگ تھے ۔ یہ تو امام نے کہا خدا نے امتحان لیا۔ راوی کہتا ہے کہ حدیبیہ کے میدان میں جو لوگ تھے انہوں نے اپنی اولادوں کو بتایا ، واقعہ مجھ تک پہنچا لیکن اب اس آیت سے اس کا ربط ملا کہ حدیبیہ کے مسلمان کہتے تھے کہ اب وہ وقت آ گیا کہ جانور اور جنگلی ہرن جو انسان کی شکل دیکھ کے بلکہ آواز سن کے بھاگتا ہے وہ ہمارے خیموں میں آکے بیٹھ جایا کرتے تھے یہاں تک کہ بلکہ ہمارے جسم کے قریب کہ ہاتھ بڑھا کر اُن کو گردن سے پکڑ سکتے ہیں سارے جانور جو حلال جانور اللہ نے دئیے ہیں وہ سب آجاتے ہیں باقاعدہ ٹہلتے ہیں ہمارے خیموں کے بیچ ، خیموں کے اندر آتے ہیں ہمارے بستروں کے قریب پہنچ جاتے ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ فاقہ ہے بھوک لگ رہی ہے بڑی شدت کیساتھ ایک آدھ دن کا فاقہ نہیں ہے پتا نہیں کتنے دن گذر گئے ہیں ، شکار آنکھوں کے سامنے ہے وہ گویا خود اپنے آپ کو ہمارے ہاتھوں میں دئیے دے رہا ہے مگر احرام کی حالت میں شکار حرام ہے۔ فاقہ ہے بھوک ہے تکلیف ہے ہاتھ باندھے بیٹھے ہیں ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتے ہیں اُتنے دن تک حکم رہا جب تک ہم نے احرام نہیں اُتارا پھر تو وہی جانور ایسی بے مروتی وبے وفائی کی جھلک نظر نہیں آ تی ہے ۔

          دیکھئے اس طرح خدا نے امتحان لیا ہے، حدیبیہ کا یہ واقعہ بہت کم مومنین کے علم میں ہے حدیبیہ کے مسلمان خیموں میں گھیرا ڈالنے لگے، خیموں میں جنگلی جانور آنے لگے اور اُس حالت کے اندر کہ جب فاقے کی شدت ہے ۔ شکار ایک ایسی چیز ہے کہ عام حالت میں جب پیٹ بھرا ہو تو انسان برداشت نہیں کر سکتا ہے چاہے شرعاً عام حالت میں فضول شکار حرام ہی کیوں نہ ہو مگر فاقے کی حالت ہے یہی اسلام ہے یہی اسلام ہے کہ واقف ہو کہ حرام چیز کی جانب ہاتھ نہیں بڑھانا ہے بھوکے رہیں گے حرام کی جانب ہاتھ نہیں بڑھائیں گے ۔

          جو بینک کی نوکریاں چھوڑیں جاتی ہیں وہ اسی اصول کی بنیاد پر کہ حدیبیہ کے میدان میں حالت یہ ہے کہ شکار اپنے آپ کو دئیے دے رہا ہے ہمارے ہاتھ میں اور ہم اس کو ہاتھ نہیں لگا رہے کہ احرام کی حالت میں حرام ہے ۔

          یہ شکار کے ذریعے خدا نے امتحان لیا، ذرا سوچو اتنا بڑا امتحان ہے کہہ دینا بہت آسان ہے مگر جس پر گذر رہی ہو بھوک کی شدت اور سامنے یہ جانور یہ مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارا ہی دل جانتا ہے کہ ہم نے کس طرح سے یہ امتحان دیا ہے؟

          ہم اور آپ چند گھنٹے کے لیے اس امتحان سے گذرتے ہیں ، رمضان کے روزوں میں تقریباً یہی حالت ہوتی ہے مگر اسی خوف کیساتھ کہ وہ چند گھنٹوں کی بھوک اور پیاس ہوتی ہے اس کے باوجود انسان بعض اوقات بے چین ہو جاتا ہے ۔یہ دنوں کی بھوک اور پیاس ہے ،فرق بھی ہے جس کا درجہ بڑا ہے اس کا امتحان بڑا ہے ۔

          حدیبیہ کے مسلمان ایک حد تک کے مسلمان تھے خدا نے ان کا اتنا ہی امتحان لیا ایک آدھ ہفتے کا امتحان ساری زندگی کا نہیں ۔

          یہ رتبہ تو فقط فاطمہ زہراء کے گھرانے کو ملا جہاں کی حالت وکیفیت یہ تھی کہ ساری زندگی امتحان میں گذر گئی خانہ فاطمہ کی شان یہی ہے اور اس پر راضی ہیں اہلبیتِ اطہار ایک امتحان تو وہ ہے کہ ہم اس لیے برداشت کرتے ہیں کہ خدا لے رہا ہے تو دینا پڑے گا امتحان راضی تو نہیں، خوش تو نہیں مگر خدا کہہ رہا ہے ۔ اور ایک وہ حالت ہے خانہٴ فاطمہ کی کہ فاقہ ہے اور اختیاری فاقہ ہے ، یہ حدیبیہ والے تو بہت مجبور ہیں اختیاری فاقہ ہے وہ اس طرح کہ گھر میں سامان بھی موجود ہے مگر یتیم ومسکین واسیر آکے سوال کرتا ہے ، اپنے آگے کی وہ روٹیاں اٹھا کے دی جاتی ہیں جس کو شریعت کہہ بھی نہیں رہی ۔

          خاص خدا نہیں کہہ رہا حدیبیہ میں خدا نے کہا ہے مجبور ہے وہاں خدا بھی نہیں کہہ رہا ہے مگر جانتے ہیں اہلبیت اطہار یہی منزلت ہے فاطمہ کے گھرانے کی ، پتا ہے کہ جو خدا کی پسند ہے خدا کہے نہ کہے وہی ہماری زندگی کا طریقہ ہے اور یہی وہ منزل ہے کہ جہاں فِضّہ کا واقعہ بھی مَیں اکثر پڑھا کرتا ہوں ۔

          فِضّہ حبشہ کی شہزادی جس کے بارے میں ایک نطریہ یہ بھی ہے کہ بہرحال وہ تھی ہندوستان کی شہزادی وہاں سے حبشہ گئیں اور پھر حبشہ سے مدینے آئیں ۔ کئی گھرانوں میں کنیزی کی زندگی گذار چکی ہیں دیکھتی رہتی ہیں کہ کنیزوں اور غلاموں کیساتھ کی سلوک کیا جاتا ہے، کیسے ان کو دھتکارا جاتا ہے کیسے ان پر ہر ظلم توڑا جاتا ہے مگر عجیب گھرانہ ہے فاطمہ کا کہ جہاں تصور نہیں کہ کسی کی توہین کی جائے بلکہ اتنا احترام کہ جب رسول ایک دن آئے بیٹی کے گھر میں کہ دیکھا بستر پہ پریشانی کے عالم میں بیٹھی ہیں اچھا بستر پہ تو اس لیے بیٹھیں کہ یہ طریقہ ہے کہ فاطمہ اور فضہ کاکہ ایک دن فضہ کام کریں گی تو فاطمہ بستر پر آرام کریں گی اور ایک دن فاطمہ کام کریں گی اور فضہ بستر پر آرام کریں گی ، فضہ کے کپڑے بھی فاطمہ دھوئیں گی اور فضہ کے آگے کھانا بھی فاطمہ لا کے رکھیں گی ۔

          خالی ہیں پریشان ہیں کہا اے فضہ بہت پریشان ہو کیا فاطمہ کے گھر میں تمہیں سکون و آرام نہیں مل رہا ؟ مَیں تمہیں کہیں اور بھی بھیج سکتا ہوں ۔

          گھبرا کے کہا اللہ کے رسول یہ آپ نے کیا کہہ دیا پریشان تو اس لیے ہوں کہ خانہٴ فاطمہ کو دیکھنے کے بعد سوچ رہی ہوں کہ جنّت لے کر بھی کیا کروں گی عجیب گھرانہ ہے صبح کو اُٹھتی ہوں میرا مولا علی آتا ہے اور کہتا ہے بہن فضہ میرا سلام لے لو ، میری شہزادی فاطمہ آتی ہیں ۔

          ارے دھتکارنا اور دوسرے گھروں کا تصور چھوڑیں فضہ بہن مَیں سلام کرنے تمہارے پاس آئی ہوں ، ارے میرے شہزادے حسن وحسین آتے ہیں امّاں ہمارا سلام قبول کرو ، جو جنّت کے مالک ووارث وہ کوئی ماں کہہ کر کوئی بہن کہہ کر مجھے سلام کرتا ہے ۔

          اس چیز نے فضہ کو ایسا بدلا کہ فضہ جنہیں سونا بنانے کا علم آتا ہے وہ جو اس وقت کے شاہی گھرانوں کے افراد کو یہ علم سکھایا جاتا ہے اگر کبھی حالات خراب ہو جائیں اور تمہیں فقیر بن کر نکلنا پڑے تو ہونا ہو کہ زندگی گذار دو۔ ایک دن آئیں مولا کے پاس جب میرا مولا مصروفِ عبادت ہے ہاتھ جوڑ کے کہا مولا ایک سونے کا ٹکڑا لے کر آئی ہوں ، پتھر کا ٹکڑا ہے یا لوہے کا ٹکڑا ہے جسے فضہ نے علمِ کیمیا سے سونے میں بدلا ہے ۔

          میرے مولا نے دیکھا مسکرائے کہا فضہ تمہارا شکریہ مگر جس طرح لائی ہو اُسی طرح لے جاؤ ۔

          کہا مولا آپ تو خیر اتنے طاقتور اور شجاع مَیں دیکھ رہی ہوں کہ تین وقت مسلسل اس گھر میں فاقے کے گذر گئے ہیں مَیں تو حسن اور حسین کی حالت کو دیکھ کے پریشان ہوں ، یہ ننھی ننھی بچیاں زینب و امِ کلثوم تین وقت کا فاقہ چہرے فق ہو چکے ہیں جسم کانپ رہا ہے ، مولا اپنا نہ سہی انہیں کا خیال کریں ان کے کھانے کا انتظام کریں ۔

          میرے مولا نے دیکھا فضہ کو تفصیل بتانا ضروری ہے کہا فضہ تمہارا کیا خیال ہے کیا یہ فاقہ یہ مصیبت یہ پریشانی مجبوری کی وجہ سے ہم برداشت کر رہے ہیں کہا تمہیں نہیں معلوم یہ ہماری اختیار شدہ زندگی ہے ہم اس پہ راضی ہیں اس لیے کہ اللہ راضی ہے ورنہ ہم چاہیں تو کیا نہیں ہو سکتا ذرا مصلے کو پلٹو۔

          مصلہ پلٹا گیا فضہ نے دیکھا زمین شق ہوئی مَیں تو سونے کا ٹکڑا لے کر سوچ رہی تھی کہ آج مَیں نے بڑی خدمت کر دی وہاں سونے کا دریا مصلے کے نیچے بہہ رہا ہے ۔

          کہا فضہ ٹھوکر ماریں تو ساری زمین سونا بن جائے مگر ہم اسی فقروفاقہ پہ راضی ہیں کیونکہ ہمارا پروردگار اس پہ راضی ہے ، ہمارا پروردگار اس پہ خوش ہے جو فاطمہ اس فاقے سے اس طرح سے راضی ہیں ماں کی حالت دیکھئے ماں خود فاقہ کر لیتے ہے مگر اولاد چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں اس سے بھی فاطمہ راضی ہیں کیا وہ ایسے مومن اور مومنہ کے دعویٰ ٴ غلامی کو قبول کریں گی جو فاقہ تو چھوڑو حرام چیز کو بھی چھوڑنے کو تیا ر نہیں ہے ۔

          پتا ہے کہ فلاں کاروبار حرام ہے پتا ہے کہ فلاں نوکری حرام ہے پتا ہے نوکری میں فلاں کو حصّہ دار بنانا حرام ہے مگر حلال تو چھوڑو فاطمہ تو کہہ رہی ہیں کہ ہم حلال میں بھی اپنے آپ کو فاقے میں پسند کرتے ہیں یہ حرام کو ترک کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔

          دعویٰ کیا ہے؟ غلامانِ اہلبیت، کنیزانِ سیّدہ جو فاطمہ کی زندگی ہے وہ آپ کے سامنے ہے بس پتا چلے گا کہ واقعااہلبیت نے کس طرح سے زندگی گذاری ہے لیکن اتنی سی بات ہے ، اتنی سی بات ہے کہ ساری زندگی ان مصیبتوں اور پریشانیوں میں گذر گئی ہے حدیبیہ کے مسلمان چارپانچ دن کیا پریشانی میں رہے اتنا اہم واقعہ بن گیا کہ اپنی نسلوں کو سنایا واقعہ ۔

          دیکھئے نا چھٹے امام کا صحابی کہتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے والد کے والد کے والد نے یہ امتحان دیا فاطمہ نے ساری زندگی یہ امتحان دیا ہے نہ کبھی شکوہ نہ کبھی شکایت لیکن پھر سُنیں اب سوچئے جو مصیبتوں کو برداشت کرنے کی اتنی عادی ہیں عام حالت میں آپ دیکھیں دو آدمی ذرا سی پریشانی ہوئی تو گھر سے نکل آئے ذرا سی کوئی مصیبت ہوئی فریاد کرتا ہوا نکل آئے ، اور ایک وہ آپ نے دیکھا بڑا صابر اس کا جوان بیٹا بھی مر گیا اس نے صبر کیا کچھ نہ بولا پہلے آدمی کو کہیں بھی آپ دیکھیں گے پلٹ کے توجہ نہیں کریں گے یہ اس کا تو کام ہی یہی ہے ذرا ذرا سی بات پہ چیخنے لگتا ہے لیکن اگر اس دوسری آدمی کو آپ روتے ہوئے پائیں تو آپ کہیں گے آج قیامت آ گئی ہے یہ تو اپنے جوان بیٹے کی موت پہ کبھی نہیں اتنا رویا اگر وہ کسی مصیبت پہ رو رہا ہے تو یقینا اتنی ہی بڑی مصیبت ہے کہ قیامت آ گئی ہو ۔

          بس مجھے اتنا ہی کہنا ہے کہ جو اتنا صبر کرنے والی شہزادی ہیں بچے فاقے سے بچیاں فاقے سے شوہر کی یہ حالت گھر میں غربت کتنی مصیبت کبھی ، کبھی اظہارِپریشانی چھوڑو اس کے چہرے پہ کبھی پریشانی نہیں آئی ہمیشہ خوشی میں ہمیشہ شکر میں وہ اگر کبھی کہہ دے

صُبَّتْ عَلَیَّ مَصَائِبٌ لَوْاَنَّھَا

صُبَّتْ عَلَی الْاَیَامِ صِرْنَ لَیَا لِیَا

          ایسی صابرہ وشاکرہ بی بی اگر اُس کی زبان پر کبھی یہ جملہ آ جائے آپ سوچ سکتے ہیں کیا کچھ مصیبت برداشت نہ کی ہو گی ، جب فاطمہ جیسی صابرہ کو یہ جملہ کہنا پڑا ۔

          دیکھئے فاطمہ کا دل اس وقت غم سے کتنا بھرا ہوا ہے عجیب جملہ ہے تاریخ کہتی ہے بس اسی پہ اختتام ۔ پہلی مجلس میں ہمیشہ مَیں یہ جملہ کہا کرتا ہوں شہادت کی تین مجالس کی پہلی مجلس میں یہ جملہ تاریخ کہہ رہی ہے فاطمہ کو اور غموں کے علاوہ جو غم سب سے زیادہ پریشان کر رہا ہے وہ یہ کہ جو مصیبتیں آئیں سو آئیں مجھے اپنے بابا کاماتم بھی نہیں کرنے دیا جا رہا اس لیے کہ شکایت کی گئی ابوالحسن! فاطمہ کو روکیں یا دن کو رویا کریں یا رات کو رویا کریں ۔

          ہائے رسول کی بیٹی ہائے علی کی بیوی ہائے فاطمہ زہراء میرے مولا نے پیغام پہنچایا ۔ کہا ابوالحسن مَیں نے زندگی بھر کوئی خواہش ظاہر نہیں کی اب ایک ہی خواہش ہے میرے لیے مدینے سے باہر ایک مکان بنا دیا جائے جہاں مَیں اپنے بابا کا ماتم تو کر سکوں ۔

          اب کیفیت یہ ہے کہ روزانہ فاطمہ صبح کو حجرے سے نکل جاتی ہیں شام کو حجرے میں آتی ہیں رات بھر حجرے میں ماتم ، دن بھر فاطمہ کا ماتم مدینے سے باہر بیت الحزن نامی اُس امام باڑے میں اور جب گھر سے نکلتی ہیں صبح کو تو تاریخ کہتی ہے بڑی شان کیساتھ نکلتی ہیں اس طرح نکلتی ہیں کہ ایک ہاتھ میں عصا ہوتا ہے ایک ہاتھ میں حسین کا ہاتھ ہوتا ہے حسن ماں کیساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔بیت الحزن میں فاطمہ پہنچیں زمین پر بیٹھ گئیں بیٹے ماں کے سامنے بیٹھ گئے۔

          اربابِ عزاء

          آپ نے ہزاروں مجلسیں سُنی ہیں ایسی عجیب مجلس نہ کبھی دیکھی نہ کبھی سُنی ایسی عجیب مجلس کہ ایک معصومہ مجلس پڑھ رہی ہے دو معصوم امام بیٹھے مجلس سُن رہے ہیں۔ جب فاطمہ مجلس پرھتی ہیں تو کیا پڑھتی ہوں گی مجھے تاریخ میں نہیں ملا مگر میرے دل نے کہا اپنا ہی لکھا ہوا نوحہ پرھتی ہوں گی:

صُبَّتْ عَلَیَّ مَصَائِبٌ لَوْاَنَّھَا

صُبَّتْ عَلَی الْاَیَامِ صِرْنَ لَیَا لِیَا

          ماں نے مجلس پڑھی جو معصومہ ماں ہے بیٹوں نے   مجلس سُنی جو معصوم سننے والے ہیں مگر ایک اور جملہ مجھے پریشان کر گیا فاطمہ روزانہ گھر سے نکلتی ہیں ایک ہاتھ میں عصا لے کے نکلتی ہیں شام کو آتی ہیں عصا لے کے آتی ہیں ۔

          اربابِ عزاء

          عصا بڑھاپے کی نشانی ہے عصا ضعیفی کی نشانی ہے عصا ناطاقتی کی نشانی ہے ۔ مَیں نے تاریخ سے پوچھا اے تاریخ! یہ تو بتا دے رسول کی بیٹی ہماری شہزادی عمر کیا تھی کہ عصا لینا پڑا ؟ عمر کیا تھی کہ عصا لینا پڑا اسّی سال ستّر سال پچہتر سال جی نہیں موٴرخ نے پلٹ کر کہا سُنواے فاطمہ کے ماننے والو رسول کی بیٹی اٹھارہ سال عالمِ شباب کا آغاز۔

          ارے میری شہزادی اٹھارہ سال میں اتنی کمزور کر دی گئی کہ عصا کے سہارے کے بغیر چل نہیں سکتی۔

          اجرکم علی اللہ ولعنة اللہ علی اعدائھم اجمعین ۔

          پروردگارا واسطہ مصائبِ فاطمہ زہراء کا فاطمہ کے تمام ماننے والوں خصوصاً اس مجلس میں موجود مومنین ومومنات کو بحقِ فاطمہ دنیاوآخرت کی ہر مصیبت وپریشانی سے محفوظ فرما۔

          پروردگارا جس اسلام کی خاطر رسول کی بیٹی نے اتنے مصائب برداشت کیے ہم میں سے ہر ایک کو اس اسلام کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ۔

          پروردگارا شہادتِ زہراء کی ان تاریخوں کا واسطہ ہمارے جملہ مرحومین کی مغفرت فرما ۔

          پروردگارا مصائبِ فاطمہ زہراء کا واسطہ آج کی دنیا میں جو جو ظالم مصروفِ ظلم ہے خصوصاً صدامِ ملعون ان سب کو بحقِ فاطمہ نیست ونابود فرما ۔

          پروردگارا فاطمہ کے ماننے والے تمام مومنین ومومنات ، تمام علماء وتمام مجتہدینِ کرام خصوصاً آیت اللہ خوئی ان کے اہل وعیال کی بحقِ فاطمہ زہراء نگہبانی فرما ۔

          پروردگارا ان مظالم کے اختتام کیلئے فاطمہ ہی کے فرزند آخری امام حجت کے ظہور میں تعجیل فرما ۔

          ربنا تقبل منا انک انت سمیع العلیم ۔

 

ژژژ

 

 

 

 

 

۱۰۵

بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

لَقَدْ صَدَقَ اللهُ رَسُوْلَہُ الرُّئْیَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللهُ ٰامِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُئُوْسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ

          سیرت پیغمبراسلام ایک سو پانچویں تقریرصلح حدیبیہ کے حالات بیان ہو رہے تھے اور جیسا کہ باربار یہ اعلان تو ہوتا ہی رہتا ہے کہ تقریر کا وقت نو بجے نہیں ہے بلکہ نو بج کر پانچ منٹ ہے تاکہ جلدی آجانے والوں کو یہ خیال رہے کہ پانچ منٹ کی تاخیر نہیں ہوئی ہے بلکہ وقت ہی پانچ منٹ سے ہے ۔

          صلح حدیبیہ جس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہی ہے کہ قرآن کریم نے پیغمبراسلام کے زمانے میں ہونے والی اسّی (۸۰)جنگوں اور اسّی (۸۰)لڑائیوں میں سے کسی کے ساتھ وہ لفظ استعمال نہیں کیا جو ہمیشہ جنگ کے بعد ہوتا ہے یعنی

          اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا

          لفظ فتح کامیابی جیت فتح حاصل کر لینا یہ                 ایسا لفظ کہ جس کو سنتے ہی جنگوں کا تصور ذہن میں آتا ہے لیکن اللہ کے رسول کے زمانے میں تقریباً اسّی لرائیاں ہوئیں ، کچھ غزوے کچھ سریے ۔ عجیب بات ہے کہ ُان میں سے کسی کے لیے یہ لفظ نمایاں طور پر نہیں آیا تو آیا یہ لفظ تو ایسے واقعے کے بارے میں جسے شاید کوئی شخص بھی کامیابی اور جیت نہ سمجھے یعنی صلح اور اُن حالات میں صلح کہ لگ ایسا رہا ہے کہ ہم کو جُھکنا پڑا اور دشمن جو ہے وہ سر پہ چڑھا جا رہا ہے ۔

          اب یہی قرآن کریم کا لفظ ، قرآن جو الفاظ کے استعمال میں بہت ہی محتاط ہے ایسا عظیم لفظ استعمال کر دینا

          فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا

          اللہ نے خالی کامیاب ہی نہیں کیا بلکہ فتح مبین عطا کی، کُھلی ہوئی کامیابی خود یہ بتا رہی ہے کہ یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا کتنا اہم واقعہ ہو گا اور پھر ہمارے پاس اسی واقعے کے سلسلے میں معتبر ترین احادیث میں سے ایک ہے۔ صادقِ آلِ محمد امام جعفر صادق علیہ الصلوٰة والسلام (اللھم صلی علی محمد وآلِ محمد) یہ فرمان بھی آرہا ہے کہ

          ماکان قضیة اعظم برکت منھا

          اسلام کی پوری تاریخ میں یا یہ کہ رسول کی پوری زندگی میں ۔

          ماکان قضیة اعظم برکت منھا

          کہ کوئی واقعہ برکت میں واقعہ حدیبیہ سے بڑھ کر نہیں ہے ۔

          ماکان قضیة

          کوئی قضیہ اسلام میں پیش نہیں آیا ۔

          اعظم برکت منھا

          جس میں برکت زیادہ ہو ، جو عظیم البرکت ہو منھی صلح حدیبیہ کے واقعہ کے ۔

          جس واقعہ کو معصوم یہ کہہ دیں کہ سیرت رسول کا عظیم ترین واقعہ، بابرکت ترین واقعہ، برکت کے اعتبار سے اس سے بڑھ کوئی واقعہ نہیں ہے ۔ خود ہی سوچا جا سکتا ہے کہ وہ کتنا اہم واقعہ ہو گا ۔البتہ معصوم نے بعد میں اس برکت کی تھوڑی تشریح کی کہ برکت سے مُراد کیا ہے؟جس کا خلاصہ یہی ہے امام نے کہا کہ یہ وہ واقعہ ہے جس کے بعد اسلام سب سے تیزی سے پھیل سکا ۔

          بدرواُحد خندق وحنین کی لڑائیوں میں اسلام کو بچایا لیکن تبلیغِ اسلام کے لئے اہم ترین سبب اور اہم ترین واقعہ یہی صلح حدیبیہ کا واقعہ ثابت ہوا ۔

          توقرآن کا اس واقعہ کو فتح مبین کہنا اور امامِ معصوم کا اس واقعہ کو برکت کے اعتبار سے عظیم ترین کہنا ہمارے ذہنوں کو اور زیادہ تیار وآمادہ کر دیتا ہے کہ دیکھیں تو سہی کہ یہ واقعات پیش کیا آئے اور پھر ان واقعات کے نتیجے میں اسلام کو کیا فائدہ ہوا؟

          تو واقعات کی ترتیب یہ ہے کہ اللہ کا رسول تیرہ سو سے اٹھارہ سو تک صحابیوں کو لے کر، روایتیں مختلف ہیں لیکن زیادہ معتبر چودہ سو (۱۴۰۰) کی روایت ہے ۔ تیرہ سو سے اٹھارہ سو تک کسی بھی تعداد میں لیکن الغرض یہی ہے کہ چودہ سو اصحاب کو لے کر مدینے سے نکلا اور مسلمان اس حالت ہی میں چل رہے ہیں کہ دُور سے بھی اگر کوئی اس لشکر کو دیکھے تو سمجھ جائے کہ نہ یہ جنگ کرنے جا رہے ہیں، نہ حملہ کرنے جا رہے ہیں، نہ کسی پر ظلم کرنے جا رہے ہیں ، سفید احرام پہنے ہوئے ہیں اپنی قربانیوں کو ساتھ لئے ہوئے ہیں ، جن جانوروں کے گلے اور کوہان پر یہ نشانی لگی ہے جسے عرب کا رہنے والا تو دُور سے دیکھ کر پہچان لیتا ہے کہ یہ جانور جنگ میں استعمال نہیں ہو سکتے صرف خانہ کعبہ پر قربان کیے جائیں گے ۔

          احرام پوش چودہ سو کی جماعت قربانی کے جانوروں کو لے کر چل رہی ہے اور اسلحہ اور ہتھیار کے نام سے ان کے پاس بجز تلوار کے ان کے پاس کچھ نہیں ہے اور تلوار بھی وہ جو نیام کے اندر رکھی ہے اور نیام والی تلوار عرب میں ہتھیار مانا ہی نہیں جاتا ہے یہ تو ایک طرح سے مرد کا زیور اور ضرورت کی چیز قرار دیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ پورا لشکرِ اسلام بالکل خالی ہاتھ ہے نہتا ہے اور جا رہے ہیں اس علاقے میں جہاں اُس وقت تک اسلام کے سب سے بڑے دشمن رہتے ہیں ۔

          دشمنیٴ اسلام کایہ نظارہ یہ منظر لشکر کی یہ جھلک یہ بتا رہی کہ دیکھو یہ لوگ صرف اور صرف عبادت اور قربانی کیلئے جا رہے ہیں ۔

          چلتے چلتے یہ لشکر مکے سے تئیس (۲۳) کلومیٹر کے فاصلے پر ایک کنویں پر پہنچا ، کنویں کا نام حدیبیہ ہے اور اُس کنویں کی وجہ سے اُس پورے علاقے کا نام ہی حدیبیہ کہلانے لگا ۔ اب آجکل اسی جگہ کو سمیسی کہتے ہیں لیکن مزید آجکل یہ سمیسی کا لفظ تو سوسواسو سال تک چلا ، جب اسے آج سے گیارہ سال پہلے بالکل نئی سڑک بن گئی ہے جدے اور مکے کے درمیان ، اب یہ اس راستے سے بالکل نکل گیا ہے ورنہ پہلے جدہ سے مکّہ جانے والا ہر شخص حدیبیہ سے ہو کے گذرتا تھا اور دوسری بات اُسے معلوم نہیں ہوتا تھا کہ مَیں حدیبیہ سے جا رہا ہوں کیونکہ اس علاقہ کا نام تقریباً ڈیڑھ سو سال سے تبدیل شدہ نام اب نئی سڑک ایسی بنی کہ بالکل یہ علاقہ دب کے رہ گیا ، اس کی وجہ پچھلی تقریر میں بیان کی جا چکی ہے ویسے بھی حدیبیہ کا علاقہ عرب کے راستے میں نہیں آتا تھا پیغمبر نے صرف اس لیے کہ خالد ابن ولید کے اُس لشکر سے آمنا سامنا نہ ہو جسے قریشِ مکّہ نے مسلمانوں کو روکنے کیلئے بھیجا ہے جان بوجھ کر اپنے راستے کو بدل کے ایک طویل راستہ اختیار کیا ۔

          چناچہ حدیبیہ جو ہر راستے سے ہٹا ہوا تھا وہاں لشکرِاسلام پہنچ گیا ۔ اب واقعات جن کا تعلق اس صلح سے اس سے پہلے دوتین چھوٹی چھوٹی باتوں کی وضاحت :۔

          پیغمبراسلام نے جب تک مکّے میں قیام رہا یعنی رسالت کے پہلے تیرہ(۱۳) سال خابہ کعبہ کی زیارت کی، طواف کیا ، عرفات اور منی کے اعمال انجام دئیے ، جب سے مدینہ مین آئے پانچ ایسے سال گذر گئے شروع والے کہ پیغمبر نہ مسجدالحرام جا سکے، نہ مکّے میں داخل ہو سکے ، نہ خانہ کعبہ کی زیارت کر سکے ۔ پہلے پانچ سال مدینے کے قیام میں پیغمبراسلام کا ظاہری طور پر خانہ کعبہ سے ہر قسم کا رشتہ کٹ گیا پھر چھ ہجری آئی، چھ ہجری پیغمبراسلام مکّے کی جانب چلے مگر جیسا کہ ہر ایک جانتا ہے کہ مکّے میں داخل ہوئے بغیرواپس آگئے یہ سال بھی اسی طرح سے گزر گیا اس کے بعد سات ہجری کا سال وہ آیا اسی صلح کے نتیجے میں مسلمانوں کو مدینے سے مکّے آنے کی اجازت ملی تو سات ہجری یعنی اگلا سال وہ کہ جب پیغمبراسلام ہجرت کے بعد پہلی مرتبہ خانہ کعبہ میں تشریف لے گئے۔

          آٹھ ہجری فتح مکّہ ہوئی، رمضان کے مہینے میں لشکرِ اسلام پیغمبر کے ساتھ گیا ۔ نو ہجری پیغمبر خود تشریف نہیں لے گئے ، پہلے حضرت ابوبکر کو اور اس کے بعد امیرالموٴمنین کو حاجیوں کو یہ پیغام دے کے بھیجا گیا کہ یہ آخری سال ہے اس کے بعدکوئی مشرک حرم کی زمین میں داخل نہیں ہو سکتا ۔

          دس ہجری پھر اللہ کے رسول نے پہلا واجب حج کیااسی کی واپسی پہ غدیرِخُم کے میدان میں خطبہ ٴ ایمان دے کے مدینے آئے اور گیارہ ہجری کے بالکل شروع میں انتقال کیا ۔

          توچھ ہجری سے لے کے دس ہجری تک یا دوسرے الفاظ میں مدینے آنے کے بعد سے لے کر انتقال تک صرف تین مرتبہ مکّے کی جانب اور خانہ کعبہ کی جانب تشریف لے جا سکے ۔ دومرتبہ عمرہ کیا ایک سات ہجری جو صلح حدیبیہ کے اگلے سال اور ایک فتح مکّہ کے موقع پر اور صرف ایک مرتبہ پیغمبر نے حج کیا ۔ یہ اللہ کے رسول ہجرت کے بعد خانہ کعبہ عرفات اور منا کی زیارتوں کی مختصر تفصیل ۔

          ابھی پیغمبراسلام حدیبیہ کے میدان میں پہنچے ہی، یہ چھ ہجری کا سن ہے اور ذیقعدہ کا مہینہ ہے ۔ ذیقعدہ کا مہینہ پھر یاد دلا دیا جائے اگرچہ یہ چیز کئی مرتبہ بیان ہو گئی ہے کہ عربوں نے اسلام کے اعلان سے پہلے ہی ایک قانون بنایا کہ چار مہینے ایسے ہیں کہ جب دو پابندیاں سب کو برداشت کرنا ہیں ۔ نمبر ایک جب پوری سرزمینِ حرم پر کوئی جنگ کوئی لڑائی کسی قسم کا کوئی جھگڑا نہیں ہو گا حتیٰ یہ کہ تمہارا جانی دشمن بھی تمہارے سامنے سے گذرے تو اُسے چھوڑ دینا اور دوسرا یہ کہ اِن چار مہینوں میں جو شخص بھی مکّے میں آنا چاہے اُس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی چارمیں سے تین مہینوں کا تعلق حج سے ہے ذوالحجہ کے مہینے میں حج ہوتا ہے اُس سے ایک مہینہ پہلے سے عرب میں سیز فائر یا جنگ بندی ہو جاتی ہے اور حج سے ایک مہینہ بعد تک امن وامان کی یہ حالت چلتی رہتی ہے چنانچہ تین ماہ تک ذیقعدہ، ذوالحجہ اور محرم یہ تین مہینے ایک ترتیب کیساتھ حاجیوں کے، دُور دُور سے حاجی آ رہے ہیں کوئی تیس دن کا سفر کر رہا، کوئی پینیس دن کا سفر کر رہاتو سب سے دُور سے آنے والا جب اپنے قبیلے سے چلے گا اُس وقت سے جب مکّہ پہنچنا اور مکے سے پھر اتنا ہی سفر طے کر کے اپنے وطن واپس پہنچنا ہے ۔

          اس دُوران سب کی جان مال اور عزّتیں محفوظ رہیں اس لیے یہ پابندی لگائی گئی اور ایک رجب کے عمرے کی خاطر ۔ تو یہ قانون جو عرب میں اسلام سے پہلے چلا آ رہا ہے یہ قانون وہ ہے کہ مسلمانوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔

          گوکہ اللہ کا رسول جو مکے کی جانب چلا صلح حدیبیہ کے موقع پر تو پیغمبر شعبان میں نہیں گئے ، رمضان میں نہیں گئے، شوال میں نہیں گئے ، صفرمیں نہیں گئے، ذیقعدہ کا مہینہ مختص کیا جس کے بارے میں عربوں کا شروع سے ہی یہ طریقہٴ کار رہا کہ یہ حرمت کے تین مہینے ہیں اس میں کسی سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا لیکن اس کے باوجود اسلام سے اتنا جلے بیٹھے تھے عرب کہ اپنے بزرگوں کا اور صدیوں پرانا طریقہ کار بدلنے کو بھی تیار ہو گئے کون عرب؟ وہ عرب جنہوں نے اسلام کی ساری دعوت کو صرف یہ کہہ کے رد کیا کہ اگر ہم اسلام کو مان لیں گے تو اپنے بزرگوں کو بُرا کہنا پڑا گا ان کے طریقے کو چھوڑنا پڑے گا ہم اُن کے طریقے کو چھوڑنے کو تیار نہیں، ہمارے بزرگ کبھی تیار نہیں ہو سکتے ۔

          دیکھئے وہ کچھ سوچ اور گمراہی کا طریقہ کار یہی ہے اُن کے پاس کوئی دلیل کبھی پرماننٹ نہیں ہوتی ہے جس دن جو چیز اُن کو فائدہ دے رہی ہو اُس دن وہی چیز اُن کی دلیل بن جاتی ہے ، سیرت رسول میں آپ کو یاد ہو گا معراج کے واقعات میں بھی یہ جملہ آیا ہے کہ جب پیغمبر نے کہا کہ مَیں راتوں رات ساتوں آسمانوں کی سیر کر کے آ گیا ہوں تو قریش نے کہا کہ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہو گا ، انسان راتوں رات اتنا سفر طے ہی نہیں کر سکتا اور پھر جب پیغمبر ہجرت کر کے مدینے تیرہ دن میں پہنچے کہ آج پتا چل گیا کہ رسول سچا رسول نہیں ہے اس لیے کہ اگر سچا رسول ہوتا تو پلک جھپکنے میں اُس کو مکے سے مدینے میں پہنچنا پڑتا اُس نے تیرہ دن کیوں لگا دئیے ۔

          توخیر کفروشرک کی ہمیشہ سے یہ عادت ہے اُن کے پاس کوئی دلیل ہوتی نہیں ہوتی جس پر ہمیشہ جمے رہیں یہی وجہ ہے کہ جب پیغمبر نے دعوتِ اسلام دی تو کہا کہ ہمارے بزرگوں کے خلاف ہے یہ دین آج تک نہ ہمیں کسی نے بتائی اور نہ ہم نے سُنی اور ہم نے اپنے بزرگوں کو اس سے الگ طریقے پر پایا ہے ان کو مان لو تو اُس کو جھٹلانا پڑے گا اور جب صلح حدیبیہ کا موقع آیا اور پیغمبر اُن مہینوں میں مکے کی جانب جا رہے ہیں یہاں پہ یہی قریش اپنے بزرگوں کو ہمیشہ دیکھ چکے ہیں کہ مکے میں آنے والے کو کبھی نہیں روکا گیا چاہے اُن کے باپ کا قاتل ہی کیوں نہ ہو اور حرمت کے مہینوں میں کسی پہ ہاتھ نہیں اُٹھایا گیا ہے مگر آج جب اللہ کا رسول آ رہا ہے اُسی بزرگوں کے طریقہ کار کو بدلہ جا رہا ہے اپنی اُسی دلیل کو توڑا جا رہا ہے اپنی اُسی دلیل کو باطل کیا جا رہا ہے ۔

          یہ جملہ میں نے خاص وجہ سے بھی کہا تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے اور حالات بھی ہمارے مُلک کے ایسے ہیں کہ دشمنانِ اسلام معمولی معمولی باتوں کو وجہ فسادبنا کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے دشمنی اور نفرت بھرتے جا رہے ہیں لیکن بہت ہی مختصر جو جمادی اولیٰ کے مہینے کی تاریخ ہے اور جمادی الثانی کے مہینے کا آغاز ہے یہی تو کہا جاتا ہے کہ ایک وجہ شہزادی کے خطبہ دینے کی یہ بھی ہے کہ کل یہ کہا گیا کہ ہمیں قرآن کے بعد کسی حدیث کی ضرورت نہیں لیکن آج جب شہزادی نے اپنا حق مانگا تو کہا گیا کہ قرآن میں تو کچھ نہیں لکھا مگر حدیث کہہ رہی ہے کہ یہ چیز آپ کا حق نہیں ہے یعنی موقع محل کے اعتبار سے جہاں جیسا جواب چاہا ویسا دے دیا ۔

          خیر صلح حدیبیہ یہ بات بالکل واضح طور پر ہمارے سامنے پیش کر رہی ہے کہ وہی قریش جو تیرہ سال پیغمبر پہ پتھراؤ کرتے رہے ، راستے میں کانٹے بچھاتے رہے، کانوں میں انگلیاں ٹھونستے تھے یا روئی داخل کر لیتے تھے کہ اپنے بزرگوں کے طریقے سے ہٹنا ہمیں منظور نہیں ہے اور آج پیغمبر مکے میں داخل ہو رہے ہیں وہی قانون توڑا جا رہا ہے انہیں بزرگوں کے طریقے کی مخالفت کی جا رہی ہے نہ کسی کو غیرت آ رہی ہے نہ کسی مکے والے کو جوش آ رہا ہے نہ اُن میں سے کوئی کہہ رہا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط ہے بہرحال یہ صرف مشرک کا طریقہ ہے ۔

          پیغمبراسلام حدیبیہ کے میدان میں پہنچ گئے اور یہاں پہنچنے کے بعد جو سب سے پہلا مسئلہ مسلمانوں کو پیش آ گیا وہ یہ تھا کہ مدینے سے نکلتے وقت وہ یہ سوچ کے نکلے تھے کہ رسول نے کہا کہ مَیں نے اپنی آنکھوں سے خواب میں یہ دیکھا کہ ہم سب لوگ مکے میں داخل ہو کر مسجدالحرام میں پہنچ کر عمرہ کر رہے ہیں تو قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ

          لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللهُ

          دیکھا یہ گیا تھا کہ ہم مسجدالحرام میں داخل ہو رہے ہیں تو پیغمبر نے جو یہ خواب سنایا تو ہر ایک اس یقین کیساتھ چلا کہ ہمیں مکے جانا ہے مسجد میں پہنچنا ہے طواف کرنا ہے چنانچہ کھانے اور پانی کا معمولی سا انتظام کر کے چلے صرف اُتنا انتظام جو ایک شہر سے دوسرے شہر تک راستے کیلئے ضروری ہوتا ہے ۔یہاں پہنچے تو معاملہ بدل گیا پتا چلا حدیبیہ کے میدان میں اتنی دیر بیٹھنا پڑا کہ نہ پانی باقی رہا اور نہ کھانا باقی رہا ۔

           فاقوں کی حالت ہو رہی ہے پیاس کی حالت ہو رہی ہے اور پھر اسی دوران خُدا نے بھوک اور پیاس کو بڑھانے کیلئے پیاس کا مسئلہ کہ اگر انسان بھوک کے عالم میں ہو اور کھانے کی چیز اُس کے سامنے آ جائے بھوک اور زیادہ بڑھ جاتی ہے، پیاس کے عالم میں پینے کی چیز اُس کے سامنے رکھی جائے خودبخود پیاس بڑھ جاتی ہے، پروردگار نے ان کے امتحان کو اور زیادہ سخت کر دیا یہ آخری واقعہ تھا گذشتہ تقریر میں جو معصوم کی حدیث

          لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ

          اللہ شکار کے ذریعے تمہارا امتحان لے گا

          تو کہا یہ گیا کہ مجاہدین کا امتحان یہاں سے شروع ہو گیا ، کھانے اور پینے کی چیزوں کی کمی ہے اور عین اِس حالت میں جنگلی جانور جنکا گوشت عرب میں کھایا جاتا ہے وہ سارے کے سارے اِن مسلمانوں کے چاروں طرف پھیل رہے ہیں اتنا قریب ان کے آ گئے ان کے خیموں میں داخل ہو گئے کہ قرآن کو کہنا پڑا تَنَالُہٓ اَیْدِیْکُمْتم اپنے ہاتھوں سے اِن کو پکڑ سکتے ہو اتنے قریب آچکے ہیں وہ جانور لیکن وہ حکمِ اسلامی کہ احرام کی حالت میں شکار کرنا حرام ہے اور پیغمبر مدینے سے سب کو احرام پہنا کے لا رہے ہیں ۔

          بھوک ہے فاقہ ہے خیموں کے اندر وہ جانور ٹہل رہے ہیں کہ جن کا گوشت اسلام میں عام حالت میں حلال بھی ہے لیکن اُن کے ہاتھ خبردار گناہ اور حرام نہیں کر سکتے ۔

          بس اسی موقعے پر جو پچھلی تقریر کا آخری واقعہ ہے آج کا پہلا واقعہ اور وہ یہ کہ پروردگارِعالم کا ہمیشہ سے ایک وعدہ ہے انماالعسریسری ہمیشہ خدا زحمت اور پریشانی کے بعد راحت اور خوشی کا انتظام کرتا ، خدا کا کوئی امتحان اتنا طویل نہیں ہوتا کہ انسان ہمیشہ زحمت اور پریشانی میں رہے معصومین کے امتحان کی بات چھوڑیں وہ امتحان امتحان نہیں ہے اُس کا مقصد تو کچھ اور ہے ہمارے سامنے معصوم کی معرفت کرانا ہے لیکن جوعام مومن کا امتحان ہوتا ہے اُس میں خدا کا وعدہ ہے انما العسریسری ہر سختی کے بعد ہم تمہارے لیے نرمی کا انتظام کریں گے اور سورہ عنکبوت کی آخری آیت شبِ قدر میں پڑھا جانیوالا سورہ

          وَ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا

          جو ہمارے راستے پہ چلتا ہے ہم پھر اُس کی ہدایت کرتے ہیں ۔

          ایک ہاتھ مومن بڑھتا ہے پھر خُدا دس ہاتھ آگے بڑھ کے اُس کا استقبال کرتا ہے ۔

          تو صلح حدیبیہ میں بنیادی طور پر یہی پیغام دہرایا گیا ، شروع میں ایک مصیبت ڈالی گئی ایک آزمائش ایک امتحان فاقہ پانی کی کمی شکار سامنے یعنی مجبوری والا امتحان نہیں شکار سامنے ہے مگر دکھانا ہے خُدا کو کہ اگر تم ایک مرتبہ اس زحمت کا سامنا کر لیا تو خُدا کی برکتیں تمہارے ساتھ ہوں گی پھر رسول اور امام کے معجزے تمہارے ساتھ ہوں گے پھر اُس کے بعد تین چھوٹے چھوٹے واقعات حدیبیہ کے میدان میں پیش آئے اور پہلا یہ کہ ایک تو یہ بھوک اور پیاس کا سلسلہ ساتھ میں چل رہا ہے اسی دوران وہ وقت آ گیا کہ یہ خبر پھیل گئی کہ مکے کے دوران پیغمبر کے دوسرے قاصد کو شہید کر دیا گیا بلکہ یہ کہیے کہ تیسرے قاصد کو حضرت عثمان پیغمبر کے تیسرے قاصد تیسرے ایلچی وہ شہید کر دئیے گئے تو اللہ کے رسول نے تمام مسلمانوں کو جمع کر کے بیعت لینا شروع کر دی ۔

          بعد کا واقعہ اس لیے پہلے پڑھ رہا ہوں کہ یہ سارے واقعات ایک جگہ جمع ہو جائیں۔ جب یہ خبر پھیل گئی تو پیغمبر نے مسلمانوں کو بُلایا اور کہا آؤ اور آ کے بیعت کرو کہ جنگ میں حصّہ لو گے اُس وقت بھوک اور پیاس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت تباہ ہو رہی تھی چلنا مشکل ہو رہا تھا اس لیے کہ کئی دن گذر چکے ہیں بھوک اور پیاس کی کیفیت میں ۔ پیغمبر نے یہ حالت دیکھی وہ قرآن کا وعدہ کہ خبردار کبھی مصیبت اور پریشانی سے گھبرا کے حرام کی جانب نہ جانا حرام کی جانب جانے کا مطلب ہے اپنے آپ کو خدا کی رحمت سے محروم کر دینا اپنے آپ کو رسول اور امام کے معجزوں سے محروم کر دینا اب جن لوگوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا بھوک اور پیاس کو برداشت کیا اُن کیلئے بشارت ہے۔

          پیغمبر نے بیعت کیلئے بُلایا اُس وقت مسلمانوں کی وہ حالت دیکھی چنانچہ پانی کا ایک برتن منگوایا پانی کا برتن سامنے رکھا گیا ابوتین الراوندی اپنی معجزات کی مشہور ترین کتاب میں یہ واقعہ نقل کر رہے ہیں پانی کا برتن رکھا گیا اور پیغمبراسلام یعنی ایک برتن بھی نہیں بلکہ کہا کہ قافلے میں جتنے برتن ہیں لے کے آجاؤ ۔ پانی کا برتن ہر آدمی کے پاس اگر چودہ سو آدمی تو ہر ایک کے پاس دودو تین تین برتن اسلئے کہ یہ سب لوگ راستے کیلئے بھی پانی جمع کر کے چلے تھے ، سارے برتن آ گئے اب پیغمبراسلام نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو پھیلایا اور راوی کا یہ کہنا ہے کہ پیغمبر کی پانچوں انگلیوں میں پانی کے چشمے اس انداز سے پھوٹتے نکلتے دیکھا کہ ہر ہر برتن بھرا جا رہا ہے اور اس کثرت کیساتھ پانی جاری ہو رہا ہے کہ ہم تو چودہ سو آدمی تھے اگر ایک لاکھ کا لشکر بھی وہاں ہوتا تو آج اس کثرت کیساتھ پیغمبر کی مقدس انگلیوں سے پانی جاری ہو رہا ہے ہر ایک کو یہ پانی مل جاتا تو وہ ذخیرہ کر سکتا تھا ۔

          خیر ابھی تو پانی کا مسئلہ پیغمبر نے حل کیا اُس کے بعد اللہ کا رسول دیکھ رہا ہے کہ پیاس بجھانے کے باوجود مسلمانوں کی وہ کمزوری مسلمان کی وہ تھکن مسلمانوں کے جسم کی ناطاقتی کا سلسلہ جاری ہے پیغمبراسلام نے حکم دیا کہ اگر کسی کے پاس کوئی سفرا یا دسترخوان موجود ہے تو اُسے لا کے بچھایا جائے چمڑے کا بنا ہوا دسترخوان سفر کیلئے چمڑے کا دسترخوان عرب لیجاتے تھے وہ مل گیا اُسے لا کے بچھا دیا گیا اللہ کے رسول نے حکم دیا کہ اگر کسی کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز بھی ہے خواہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہو وہ لا کے اس دسترخوان پر رکھ دو مسلمانوں کے پاس کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو چکی تھیں لیکن کسی کسی کے پاس مثلاً کسی کے پاس ایک آدھ پھل نکل آیا یا کسی کے پاس آج کی زبان میں ایک آدھ بسکٹ نکل آیا ، پیغمبر نے سب چمڑے کے دسترخوان پہ جمع کیا اور اس کے بعد ایک مرتبہ اپنا ہاتھ ان چیزوں کے اوپر پھیرا دسترخوان بھی اتنا چھوٹا یہ سفر کیلئے دسترخوان اور وہ چیزیں بھی اتنی کم کہ سیکنڈوں میں پیغمبر کا ہاتھ ان چیزوں کیساتھ مَس ہو گیا اور اُس کے بعد اللہ کا رسول اعلان کر رہا ہے کہ آؤ اور اپنی ضروریات کے مطابق آئندہ کی مستقبل کی ضروریات کا خیال کرتے ہوئے اپنی ضروریات کے مطابق کھانے پینے کی چیزوں کو بھر کے لے جاؤ ۔

          چنانچہ مسلمان دوڑتے آئے ہر آنیوالے نے دیکھا اتنا سا سامان اور اسی لیے پیغمبر ایک جملہ دہرا رہے ہیں اگر پیغمبر کہتے کہ آؤ اور آکر کھانا کھاؤ تو شاید جتنے بھی مسلمان تھے ایک دوسرے کا خیال کرتے ہوئے کہ اگر ہم نے پیٹ بھر کے یہ کھانا کھا لیا اور اپنے ساتھ اسے اٹھا کر لے گئے تو ہمارے بعد والوں کو کوئی نقصان نہ ہو شاید مسلمان اس چیز کا خیال کرتے ہوئے دو دو چارچار لقمے کھاتے ، یہ ہمارا آپ کا ماحول تو ہے نہیں کہ ہرشخص یہ چاہتا ہے کہ سب کچھ اُسے مل جائے اور باقی کسی کو کچھ بھی نہ ملے اس لشکرِ اسلام میں ایک بڑی تعداد مخلص ومقتدر صاحبانِ ایمان کی ہے چنانچہ پیغمبر کو یہ اعلان کرنا پڑا، الفاظ تو یہ نہیں ہیں مفہوم یہ ہے کہ غذا کی کمی کا خیال نہ کرنا جس وقت شرم اور مروت سے کام نہ لیں جتنا تمہیں چاہیئے اور جتنا تم آئندہ کیلئے جمع کر سکتے ہو پیغمبر نے یہ اعلان کیا۔

          چنانچہ ہر ایک پیٹ بھر کے کھا بھی رہا ہے اور اچھے طریقے سے چیزیں اُٹھا کے آئندہ آنے والے دنوں کیلئے جمع کر رہا ہے چودہ سوکا چودہ لشکر یہاں سے سیراب اور شکم سیر ہو کے جاتا ہے اور ایک مرتبہ حیرت کے عالم میں واپس ہوئے کہ جب ہم آئے تھے اتنا کھایا اتنا جمع کیا اتنا اٹھا کے لے گئے مگر جاتے وقت بھی سامان اُتنا ہی نظر آرہا ہے جتنا سامان شروع میں نظر آرہا تھا یہاں تک کہ یہ کیفیت ہو گئی کہ جب پورے چودہ سو فارغ ہو گئے جب اللہ کے رسول نے کہا کہ جنہوں نے سب سے شروع میں آکے سامان جمع کرایا تھا وہ جتنا لے گئے وہ تو لے گئے ہیں اب وہ اپنا شروع والا سامان بھی واپس لے جائیں جو امانت تھی وہ واپس پہنچائی جا رہی ہے ۔

          یہ واقعے اگر بہت ہی چھوٹا سا واقعہ ہو مگر اتنے سارے درس اور پیغام پوشیدہ ہیں اسی میں خمس ،صدقہ ، خیرات اور زکوٰة کی فضیلت سامنے آ رہی ہے ، جتنا دوگے شروع میں دیتے ہوئے بڑا بُرا لگتا ہے لیکن اگر حدیبیہ جیسی جگہ پر انسان پھنسا ہوا ہو جب دُور دُور تک کوئی دکان نہیں، خریدو فروخت کا کوئی ذریعہ نہیں کسی قبیلے سے آدمی کچھ خرید نہیں سکتا جو کچھ اپنے لیے چھپا کے بچایا تھا وہ بھی اللہ کا رسول مانگ رہا ہے لیکن پیغام کیا مِلا؟ جو کچھ تم سے مانگاجا رہا ہے وہ سارا کا سارا تم کو واپس کیا جائے گا اور ساتھ جو نفع، ساتھ میں جو پروفٹ ہے وہ تو مل کے رہے گا ۔

          بس اتنی کا امتحان دیناپڑتا ہے اتنی دیر کا کہ جتنا حدیبیہ کے میدان میں ہم نے دیکھا کہ جب ایک آدھ بسکٹ یا ایک آدھ سیب لے کے آ رہے ہوں گے تو کتنا پریشان آرہے ہوں گے مگر دیکھتے ہی دیکھتے جو دیا تھا وہ بھی ملا اور اضافے کے ساتھ ملا ۔

          پیغمبراسلام نے تمام صاحبانِ اسلام کے کھانے کاانتظام کیااور پھر تاریخوں میں ایک جملہ نہیں لیکن اس کے بعد پھر ایک واقعہ پیش آ رہا ہے اس کی وجہ سے ایک جملہ میں اپنے اندازے سے کہہ رہا ہوں کہ دیکھئے اللہ کے رسول نے پہلے پانی اپنی انگلیوں سے جاری کیا اور اس کے بعد کھانے کا انتظام، کھانے کیلئے خاص طور پر یہ کہا کہ خالی اس قوقت پیٹ نہ بھرو بلکہ آئندہ کیلئے بھی سوچ لو وہ بھی جمع کرو وہ شاید اس لیے کہ پانی پیتے وقت لوگوں سے یہی غلطی ہوئی ہوگی کہ آتے تھے تو اُس وقت تو سب نے پیٹ بھر کے پانی پیا مگر اتنا ہی جتنے کی اُس کو ضرورت تھی اور وہ مستقل پانی کا انتظام نہ ہو سکا اس لیے کھانے کے وقت پیغمبر نے الگ سے یہ اعلان کروایا کہ دیکھو صرف اس وقت کے لئے کھانا نہ کھاؤ بلکہ جتنا جمع کر سکتے ہو وہ بھی جمع کر لو ۔

          خیر کھانے اورپانی کا مرحلہ ختم ہوگیا اب کھانے کیلئے تو اتناسامان ہے کہ مدینہ واپسی تک کسی کو مسئلہ پیش نہیں ہو گا، پانی کا مسئلہ پھر پیدا ہو گیا ، چودہ سو آدمی ایک ایسے میدان میں جہاں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ، حدیبیہ کا کنواں ہے مگر وہ چند دنوں کے استعمال میں ہی سوکھ گیا ، چنددنوں کے استعمال میں ہی خشک ہو گیا اب کوئی پانی کا انتظام نہیں تھا ، چنانچہ چنددنوں کے بعد اللہ کے رسول کو پھر اطلاع ملی کہ کھانے کا مسئلہ تو ہمارا حل شدہ ہے ذخیرہ کیا ہوا ہے ہم نے پانی کامسئلہ پھر پیش آ رہا ہے پھر پیاس کی شدت بڑھتی جا رہی ہے ۔

          پیغمبراسلام نے شکایت کرنے والوں کو بلایا اور ایک مرتبہ اپنے ترکش میں سے تِیر نکالا، تِیر نکال کے دیا اور کہا جاؤ یہ جو حدیبیہ کا کنواں ہے جب ہم آئے تھے تو اس میں کچھ پانی تھا استعمال میں سوکھ چکا جاؤ اس کی تہہ میں اُترو اور اِس تِیر کو اس کی تہہ میں نصب کرو جب تک یہ تِیر اس کی تہہ میں رہے اُس وقت تک یہ کنواں خالی نہ ہونے پائے گا۔

          چنانچہ سارا لشکرِ اسلام گواہ بنا کہ اس کے بعد واقعاً ہم نے اپنے آنکھوں سے یہ معجزہ دیکھا کہ جتنے دِن ہم وہاں رہے پیغمبر کا عطا کیا ہوا تِیر کنویں کی تہہ میں نصب رہا اور خدامعلوم کہاں سے پانی آتا تھا اور ایسا پانی کہ جو وہاں رہنے والے ہیں اب جتنے دن مسلمان وہاں رہے اطراف کے قبیلے آ جاتے تھے وہ کھانے اور پانی کا کوئی انتظام نہیں کرتے تھے اُنہیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کو ایک دن واپس جانا ہے ہمیں تو قریش کے ساتھ زندگی بھر وہیں رہنا ہے وہ کچھ سامان لے کے نہیں آ رہے ہیں لیکن خود حیران ہو کے کہہ رہے ہیں کہ ہماری اور ہمارے بزرگوں کی زندگیاں گذر گئیں اس کنویں کو استعمال کرتے ہوئے مگر اتنا ٹھنڈا اتنا میٹھا اتنا لذیذ اور اتنا خوشگوار پانی اس کنویں سے اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھا تھا۔

          اور جب لشکر اسلام چلا گیا وہ پیغمبر کا عطا کیا ہوا تِیر واپس نکال کے پیغمبر کو دیا گیا تو پھر یہی حدیبیہ والے کہتے ہیں کہ پانی پُرانے انداز پر آ گیا جتنے دن رسول رہے اُتنے دن ہم نے خوشگوار پانی کونوش کیاہے ۔

          تو یہ سارے واقعات ایک پیغام ہم کو دے رہے ہیں کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات پر عمل کرنا بعض اوقات بڑا مشکل لگتا ہے شیطان ویسے ہی بہکاتا رہتا ہے اور باقی احکامات پہ آدمی پھر بھی عمل کرلیتا ہے لیکن جہاں بھوک اور پیاس کا مسئلہ آتا ہے جہاں بھوک اور پیاس کا مسئلہ آتا ہے وہ بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے آدمی آپ دیکھیں بے شمار متقی لوگ حرام نوکریاں نہیں چھوڑی جاتیں، رشوت کے پیسے کو نہیں ترک کیا جاتا ہے سود والے ادارے کی ملکیت اور نوکری اب آج کل تو کریڈٹ بینک جب سے بننے لگے ہیں ایک اور مسئلہ پیدا ہو گیا ہے ، دس بارہ سال تک اتنی بات تھی کہ بینک میں پیسہ رکھوائیں یا نہ رکھوائیں نوکری کریں یا نہ کریں اب تو ان بینکس کے شیئر مارکیٹ میں آرہے ہیں اور واقعاً یہ اسی سود کے نظام پہ چل رہے ہیں اب اس شیئر کا خریدنا حرام ہے اب ایک مسئلہ اور آ گیا جس طرح ایک سودی ادارے میں نوکری کرنے کی اجازت نہیں اسی طرح ایک سودی ادارے کا مالک بننے کی بھی اجازت نہیں ۔

          شیئر خریدنے کا مقصد یہ کہ آپ مالک ، پیسے رکھوانا تو شاید پھربھی کسی طرح جائز ہو جائے وہ جو تفصیل آپ نے سُنی لیکن نوکری کا مسئلہ تو مسلسل ایک ہی چلا آ رہا ہے کہ کافر کے بینک میں پیسے رکھوا سکتے ہو اور جو پیسہ پروفٹ کے نام پہ ملے اُسے مالک کافر سمجھ کے رکھ لیں وہ پورے کا پورا حلال ہے ، مسلمان کے بینک میں پیسہ رکھوا سکتے ہیں اور چونکہ شرط آپ کی طرف سے نہیں وہ جتنا بھی آپ کو دیں بغیر شرط کے وہ آپ کے لیے حلال اور جائز ہے، گورنمنٹ کے بینک میں پیسہ رکھوا سکتے ہیں اور چونکہ گورنمنٹ کی اصلی ملکیت اگر حاکمِ شرع اور مجتہد کے پاس ہو تو وہاں سے جو نفع ملے آدھے کوحلال اور آدھے کو حرام کر کے یعنی حرام کا مقصد آدھا صدقہ کریں آدھا اپنے لیے استعمال کریں کسی نہ کسی طرح پیسے کا مسئلہ حل ہوگیا ۔

          مگر اس سے بڑا مسئلہ نوکری کا ہے کہ نوکری تو چاہے گورنمنٹ کی ہو ، چاہے پرائیویٹ بینک کی ہو ، چاہے کافر کے بینک کی ہو ساری نوکریاں حرام اگر اُس کے اندر سود کا عمل دخل ہو ، سود کا عمل دخل کسے کہتے ہیں ؟ کہاکوئی بھی ایسا کام کرناجس کے اندر سود کا لین دین شامل ہو چاہے فقط بینک کی کرسی پہ آپ بیٹھیں اور آپ کو سود کسی کو دینا پڑے یالینا پڑے چاہے کسی ایسے ووچر یا ڈاکومنٹ پر دستخط کرنا پڑیں جس میں سود کا تذکرہ آ گیا چاہے کسی ایسے کمپیوٹر کو آپریٹ کرنا پڑے جس کے اندرسود کی بات شامل ہو یہ سب کے سب سود کے اندر آجائیں ۔

          تو پوچھا گیا آغائے خوئی تو پھر تو بینک کا کوئی ایسا ڈیپارٹمنٹ بچا ہی نہیں تو آپ کے فتوےٰ کا کیا مقصد ہوا؟ تو جو سودی ڈیپارٹمنٹ نہیں ہیں تو ان میں نوکری جائز ہے۔

          توجواب دیا مثلاً بینک میں جوآدمی جھاڑو دینے پہ ملازم ہے یا جو مثلاً گیلے کپڑے سے میز وغیرہ سے صفائی کرتا ہے یا جو چوکیداری یا پہرے داری کا کام کرتا ہے یہ تین چار نوکریاں ہیں جو جائز ہیں باقی سب کی سب حرام ہیں ۔ توسوال ہوا کہ کیا اس میں گورنمنٹ یاپرائیویٹ یا کافر بینک میں کوئی فرق ؟

          تو جواب دیا کہ نفع کے اعتبار سے فرق ہے کہ کافر بینک کا سارا نفع لے سکتے ہیں پرائیویٹ بینک کا سارا نفع لے سکتے ہیں گورنمنٹ کا آدھا نفع حلال آدھا حرام اور لون (Loan)  کے مسئلے میں فرق کافر بینک سے پورا لون لے سکتے ہیں پرائیویٹ بینک سے قطعاً لون لینا حرام ہے گورنمنٹ بینک سے میرے وکیل سے پوچھو اجازت دیں تو جائز منع کریں تو حرام ۔

          لون کے اعتبار سے پیسے رکھ کے نفع لینے میں تو فرق ہے یہ گورنمنٹ ہے یہ پرائیویٹ ہے یہ کافر ہے لیکن نوکری کے اعتبار سے تینوں کے تینوں برابر کہ حرام ہے ہاں صرف تنخواہ میں ایک مسئلہ بن رہا ہے تنخواہ جائز ہو جاتی ہے گورنمنٹ بینک میں لیکن وہ نوکری کا، اب اُس سے بڑا مسئلہ سامنے آ گیا کہ پرائیویٹ بینک کے شیئر لائے جارہے ہیں مارکیٹ میں اور اُس کی خریدوفروخت شروع ہو رہی ہے شیئر کا مقصد ہی یہ ہے کہ آپ اُس کے اندر حصّے دار بن جائیں سودی کام کے اندر حصہ دار بننا یعنی اگر بینک کے اندر پانچ فیصدی بھی سودی تو پچانوے فیصد بھی غیر سودی کام تب بھی اُس کی ملکیت میں حصہ لیناحرام رہے گا البتہ یہ مَیں نہیں جانتا یہ جو پرائیویٹ بینک آ رہے ہیں یہ کس اصول پر کام کر رہے ہیں پرافٹ اینڈ لاس کی بیسز پر معرفت کے اصول پر یا جو وہی پُرانا نظام ہے صرف نام بدلا ہوا ہے یہ جو شیئرز خریدنے والے یا اِس قسم کے شیئرز کی بروکری کرنے والے کی ذمہ داری ہے لیکن جو شیئر خریدنا حرام اپس کا بیچنا بھی حرام اس کا بروکر بننا بھی حرام یہ تو اُن کی ذمہ داری ہے فقہی مسئلہ اپنی حد تک یہی ہے کہ ایسا بینک جس میں نفع اور نقصان حقیقی بنیاد پر نہیں ہوتا نظام وہی سود کا چل رہا ہے اُس کے شیئر خریدنا بھی حرام ۔

          انسان باقی قربانیاں تو دے لیتا ہے لیکن جہاں کھانے اور پانی کا مسئلہ آجائے جہاں پیٹ کا مسئلہ آجائے تو پیغمبر کا جملہ

 

          کہ بھوک اور پیاس اتنا بڑا امتحان ہے کہ یہ فاقہ انسان کو کافر بھی بنا سکتا ہے گوبڑا امتحان ہے لیکن اُس امتحان کیساتھ اُس کا انعام کامیاب ہونیوالوں کیلئے برکتیں وہ بھی اتنی ہی attractiveاور پُرکشش ہیں حدیبیہ کا چھوٹا سا واقعہ یہ بتا رہا ہے کہ چند دنوں کا امتحان جنہوں نے دیا اُس کے بعد کیا نتیجہ نکلا پیغمبرِاسلام کے دستِ مبارک سے مَس ہوا پانی ، پیغمبراسلام کے معجزے سے پیدا شدہ کھانے وار پیغمبراسلام کی برکتوں سے عام نعمت نہیں اتنی لذیذ بن کر صاحبانِ ایمان کو مل رہی ہیں تو ایک مرتبہ امتحان دینا پڑتا ہے شروع میں بڑی جھجک ہوتی ہے شیطان پیروں سے چمٹ جاتا ہے آگے نہیں بڑھنے دیتا ہے ساتھ میں چمٹ جاتا ہے وہ جو

ہے اُس کو قائم نہیں کرنے دیتا نہ صرف یہ کہ برکتیں ملیں گی بلکہ وہی دنیا کی عام نعمتیں ایسی خوشگوار ایسی رحمت والی ایسی لذیذ بن کے ملیں گی جیسے حدیدبیہ کے کنویں کے باشندے کہہ رہے ہیں کہ جتنے دن پیغمبر رہے ہم نے کبھی اتنا لذیذ اور اتنا میٹھا پانی کنویں سے حاصل نہیں کیا جو ساری زندگی ہماری ملکیت میں رہا ہے ۔

          تو حدیبیہ کے باقی پیغامات جو حدیبیہ کے واقعے کو عام طور پر کتابوں میں لکھا ہے اور مجلسوں میں پڑھا جاتا ہے وہ واقعہ تو ابھی آنے والا ہے اُس سے پہلے ہی اتنی ساری ہدایتیں اور ایک آخری بات اور غالباً یہاں پر جزوی پیغام پروردگار نے اور دے دئیے اور وہ یہ کہ وہ پہلے تو دو معجزے سمجھ میں آ رہے ہیں پیغمبر کی انگلیوں سے پانی کے چشمے کا جاری ہو جانا اور پیغمبر کے ہاتھوں سے جو غذا مس ہوئی اُس میں برکت ہوجانا مگر تیسرا معجزہ جو پیغمبر نے اس کنویں کے اندر ہاں جب پیغمبر آرہے تھے حدیبیہ تو راستے کے کنویں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا تھا، اِس کنویں میں اپنا لعابِ دہن نہیں ڈالا نہ اپنے ہاتھ اور جسم سے اِس کو مَس کیا ہے اپنے ترکش سے تِیر نکال کے دیا تِیر وہی عام تِیر جو پیغمبر نے مدینے کی مارکیٹ سے خریدا ہے وہ عام تِیر وہ اتنا بابرکت بن رہا ہے تصور یہ اسلام دینا چاہتا ہے کہ پیغمبر کے مقامِ نبوت کو نہ سمجھنے والے اِس کو تو چھوڑو کہ رسول کی انگلیوں میں کتنی برکت ہے ، رسول کے لعابِ دہن میں کتنی برکت ہے عام سی چیزیں جو پیغمبر سے مَس ہو جاتی ہیں اور پیغمبر سے منسوب ہو جاتی ہیں وہ بھی بابرکت ہو جاتی ہیں ۔

          پیغمبر کے جسم کے اجزاء کی بات چھوڑئیے اُس کا مقام کتنا بلند ہے ہم کیا سوچیں جو مارکیٹ سے خریدا ہوا عام تِیر چند دن پیغمبر کے ترکش میں رہا اور آج پیغمبر نے خالی اپنے ہاتھ سے نکال کے دیا اِس عام تِیر میں اتنی طاقت آ گئی اس عام تِیر میں جب اتنی برکتیں آگئیں تو پیغمبر کے جسم کے اجزاء میں کتنی برکتیں ہوں گی؟ اب جس کی رگوں میں پیغمبر کا خون گردش کر رہا ہو اب اگر اُس کی خاک خاکِ شفاء بن جائے تو انسان کو حیرت اور تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

          درُود بھیجئے محمد وآلِ محمد پر

          اللّٰھُمَّ صل علٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

          اور مَیں پورے اطمینان کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حدیبیہ کے واقعہ کا یہ حصّہ عام طور پر مومنین کے دل میں نہیں ہوتا اُن واقعات کے علاوہ جن کا تعلق معاہدے سے ہے یہ سارے واقعات بھی جو ہماری معتبر ترین کتابوں میں لکھے ہیں ، شیخِ مفید نے ارشاد میں کچھ واقعات کی جانب اشارہ کیا ہے ، شیخِ تبرکی نے اعلام الوریٰ میں تفصیل درج کی ہے اور جیسا کہ ابھی مَیں نے حوالہ دیا سید قطب الدین الراوندی نے غنوزالمعجزات میں ساری Detail اور علامہ مجلسی تو حیات القلوب میں نقل کر ہی رہے ہیں ۔

          خیر یہ سارے واقعات جو پیش آ رہے ہیں یہ بتانے کیلئے کہ حدیبیہ کے میدان میں موجود مسلمان ایک امتحان دے رہے ہیں اور پروردگار اُس امتحان کے بدلے اُن کی کتنی برکتیں عطا کر رہا ہے۔ ضمنی طور پر اس حصہ میں کیونکہ موضوع ہے تو بڑا اہم حالات اور زمانے کا تقاضا ہے کہ اس پر کھل کر بات نہ کی جائے صرف ایک جملہ تو یہاں پریہ پتہ چلا کہ اللہ امتحان میں کامیاب ہونے والوں کو کتنی برکتیں دیتا ہے وہاں یہ بھی پتہ چلاکہ حدیبیہ کا مقام وہ ہے جہاں اتنے معجزات پیش آئیں یہی وہ مقام ہے جہاں سب سے زیادہ رسول سے اختلاف کیا گیا ہے اور معجزات کے بعد اس طرح کیا گیا ہے۔دیکھیں پہلے جن لوگوں نے اختلاف کیا معجزے دیکھ لینے کے بعد خاموش ہو جاتے۔یہاں تو بالکل اُلٹی ترتیب ہے بھوک کا امتحان شروع میں تھا۔یہ آخری معجزے آپ نے سنے او ر پھر وہ دن جس دن پیغمبر نے بیعت لی اُس دن کوئی واقعہ پیش نہیں آیاتو جھگڑے والے واقعات مسلمان اتفاق نہیں کر رہے رسول سے مسلمان احتجاج کر رہے ہیں پیغمبر کی حفاظت کو تیار لیکن پریشانی اور بے چینی کی لہر دوڑ رہی ہے یہ سارے واقعات معجزات پیش آنے کے بعد پیش آگئے اِس کو شریعت کی زبان میں حجت کہا جاتا ہے۔وہ لوگ جو پہلے مدینہ میں ہیں پیغمبر کے معجزات دیکھے ہوئے ہیں اُن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے بارہ پندرہ دن ہو گئے ہیں شاید یہ چیزیں ذہن سے نکل گئی ہوں وہ غصے کے عالم میں احتجاج کر رہے ہوں نہیں اس میدان میں بھی پیغمبر کے سارے معجزات دکھائے گئے ایسے معجزے جن کے بعد بھوک بھی نہ تھی پیاس بھی نہ تھی جانیں بھی محفوظ اِس کے باوجود اِتنا اختلاف ہے تو یقینا ان معجزات میں خداکی مصلحت کی ایک لہر بھی ہو گی خیر واقعات کی ترتیب یہ ہوئی کہ پیغمبر صلح حدیبیہ کے مقام میں پہنچ چکے ہیں پیغمبر اسلام کی اونٹنی جس کا اپنا نام قصویٰ ہے وہ ایک دفعہ اس سرحد پر بیٹھی آگے بڑھنے کو تیا ر نہیں ہے سرحد کا مقام ہے جس کے ایک طرف حرم شروع ہوتا ہے اور ایک طرف حل ہے حل جہاں انسان پر کوئی پابندی نہیں ہیحرم جہاں سے عام آدمی نہ شکار کر سکتا ہے نہ گھاس کے پتے توڑ سکتا ہے۔ لشکر اسلام رُک گیا اس دوران قریش جو پہلے سے اطلاع پا چکے ہیں کہ مسلمان آرہے ہیں تبھی تو خالد ابن ولید کو راستہ روکنے کو بھیج دیا۔ خالد بن ولید رستہ روکنے کیلئے پہنچ چکے ہیں کہ مسلمان کہیں مجھے ایسا موقع نہ ملا کہ میں ان پر حملہ کرتا اور یہ راستہ بدل کر پتہ نہیں کہاں چلے گئے۔ پندرہ سولہ میل کے فاصلہ پر حدیبیہ ہے دقریش کو اطلع تو مل گئی کہ لشکر اسلامی پہنچ چکا ہے۔ اسی دوران بنی خزاعہ کا ایک قبیلہ ہے ؛یہ قبیلہ بہت پہلے جب اسلام بھی نہیں آیا تھا جب پیغمبر کی ولادت بھی نہیں ہوئی تھی۔ پیغمبر کے دادا اور پردادا کے زمانہ میں جناب عبدالمطلب جناب ہاشم ان سے دوستی کے تعلقات تھے۔

          ایک طریقہ تھا عرب میں مکہ میں چودہ قبیلے رہتے ہیں۔ مکہ سے باہر جتنے قبیلے ہیں وہ سب اُن میں سے کسی ایک قبیلے ؛سے دوستی کرتے تھے۔ تاکہ جب مکہ سے آئیں عمرہ کیلئے یا حج کیلئے یا زیارت کیلئے تاکہ وہاں پر ہمارا کوئی جاننے والا ہو جس کے ہاں جا کر قیام کریں۔ تو بنی خزاعہ بہت پہلے سے ہی بنو ہاشم کا عزیز ہے۔ پیغمبر کے دادا اور پردادا کے زمانے سے پرانے تعلقات ہیں اس لئے کفر کے باوجود دوستیاں تعلقات اور بزرگوں کے روابط کا پہچاننا اور بنی ہاشم کے جوانوں کے ساتھ بچپن میں کھیلنا وہ ساری چیزیں ابھی برقرار ہیں۔ یہ بالکل حدیبیہ کے قریب رہتے ہیں۔ ان کا سردار اس وقت مکہ میں تھا جب قریش یہ سوچ رہے تھے کہ اب لشکر اسلامی کا کیا کرنا ہے۔ قریش نے کہا کہ تم اپنے قبیلوں کی جانب تو جا ہی رہے ہو۔ جہاں تمہارے پرانے دوست بھی ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ذرا جاؤ دیکھ کر آؤ کہ ان کا ارادہ کیا ہے۔ اور ان کو بتاؤ کہ ہم میں سے ہر مرد، ہر عورت اور ہر بچے نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ جب تک ہم زندہ رہیں گے مکہ کی سرزمین پر ان لوگوں کو قدم نہیں رکھنے دیں گے۔ اسی لئے کہ آج اگر یہ مکہ میں آگئے تو عرب میں یہ بات پھیل جائے گی کہ قریش اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ اپنے جانی دشمنوں کو بھی مکہ میں آنے سے نہ روک سکے اور اس کا نتیجہ یہ رہے گا کہ ہمارے پاس جو منصب ہے خانہ کعبہ قریش کی یہ بڑی فضیلت تھی کہ وہ خانہ کعبہ کے متولی تھے۔ اس کی وجہ سے انہیں جتنے فائدے تھے وہ تاریخوں میں آپ پڑھتے رہتے ہیں۔ فائدوں میں سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ عرب کا ڈاکو ظالم سے ظالم، سرکش سے سرکش، سنگدل سے سنگدل بھی قریش کے کسی قافلہ پر حملہ نہیں کرتا تھا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے فائدے تھے۔ یہ خبر پھیل جائے گی یہاں بھی قریش کا بڑا مسئلہ ضد کا مسئلہ ہے۔ خبر پھیل جائے گی کہ قریش اپنے جانی دشمنوں کو نہیں روک سکے۔ یہ تو نکل جائیں گے اور وہ قبیلے لعنت کریں گے۔ ہمارے عہدے پر وہ حملہ کرکے ہم سے یہ منصب چھین بھی سکتے ہیں۔ اب اس کے اندر کچھ حقیقت بھی تھی کچھ بہانہ بھی تھا۔

          یہ قمیر کے پاس آتے ہیں۔ جان پہچان تو پہلے سے ہی ہے پیغمبر کو مکہ چھوڑے چند ہی سال ہوئے ہیں اور ہجرت کئے چھٹا سال چل رہا ہے۔ ابھی پورا بھی نہیں ہوا۔ پہلے سے تعلقات ہیں مدین ہمیں بھی اس قبیلہ کے لوگ آتے رہتے ہیںَ اس نے پیغمبر کو سارا پیغام پہنچایا۔ اچھا یہ ساری چیزیں تاریخ میں بہت خشک ہیں۔ مذاکرہ کہاں سے کوئی رخد آیا۔ غدیر آیا اور قریش کا پیغام پہنچایا۔ اب پیغمبر نے کہا جاؤ میں تمہیں ذمہ داری سپرد کرتا ہوں کہ پہلے تم قریش کے قاصد بن کر آئے اب میرے تم پہلے قاصد بن کر جاؤ۔ قریش جا کر بتا دو دیکھو ہم لڑنے نہیں آئے جنگ کرنے نہیں آئے صرف خانہ کعبہ کا طواف کرنے کیلئے آئے ہیں۔ میں خود قریش میں سے ہوں کیوں تم غلطی کر رہے ہو۔ یہ سنتے ہی عزیز واپس چلا گیا۔ واپس جا کر قریش کو یہ پیغام دیا۔ دیکھو وہ آنے والا یہ جملے کہہ رہا ہے۔ یہ جملہ جو سردار لشکر جو بھی تک ابوسفیان تھا سب نے کہا ہم یہ بات برداشت نہیں کر سکتے کہ عزیز تم ہمارے قاصد بن کر گئے۔ اُس نے تم پر جادو تو نہیں کر دیا۔ ہم اس کیلئے تیار اور راضٰ نہیں۔ تم چلے جاؤ اس مسئلہ کو چھوڑ دو۔ ڈھکے چھپے الفاظ میں قریش نے یہ کہہ دیا کہ تم ہمارے کام کے آدمی نہیں ہو۔ تمہیں اس لئے بھیجا تھا کہ تم انہیں ڈرا دھمکا کر واپس بھیج دو۔ تمہارے تعلقات ہیں جو تمہاری بات مان جائیں گے۔ تم ان کی حمایت کر رہے ہو۔ خدا حافظ یہ کہہ کر اسے بھگا دیا۔ یہ جملہ تاریخوں میں نہیں کہ ہمارے قاصد بن کر گئے ان کی حمایت کیوں کر رہے ہو۔ ہم نے تو اپنا پیغام بھجوایا تھا۔

          اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قریش نے ان کو نکال دیا۔ پھر قریش نے سوچا کہ یہ معاملہ ہوگیا ہے ذرا گڑبڑ۔ ہم مکہ سے اپنے کسی کو بھیجتے ہیں ہم تودہ تو پارٹی ہیں۔ اور کسی قبیلے کو ڈھونڈیں جو پہلے سے مسلمانوں کو جانتا ہو کو جا کر سمجھائے اسی دوران قریش نے عرب کے کچھ بہادر قبیلوں کو لینے ملایا تھا۔ جو حبشہ کے رہنے والے نہیں تھے۔ مگر حبشی کہلاتے تھے۔ اُس نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا یہ مکہ کے اتنے پرانے باشندے نہیں قریش نے اس گمنام قبیلے کو اپنے ساتھ ملایا۔ بدر سے خندق تک قریش کے لشکر میں ایک کمی ہمیشہ سے رہی۔

۱۔ یہ اس کی وجہ سے آجکل دنیا میں میزائل بنائے گئے ہیں۔ وہ یہ کہ جب قریش مسلمانوں سے آمنے سامنے مقابلہ کرتے تھے تو علی کی تلوار کا جواب قریش کے پاس نہیں تھا۔ اب انہوں نے نئی جنگی حکمت عملی یہ بنائی جب تک لشکر اسلام میں علی ہیں یہ والی جنگ تو ہو ہی نہیں سکتی کہ میدان میں جا کر لڑو۔ اب ہمیں تیر انداز چاہیں۔ دور بیٹھ کر وہ تیر پھینکیں۔ میدان میں ہی نہ جائیں تاکہ ہمارا مقصد حاصل ہو۔ ہم جیت بھی جائیں اور علی ہمارے جوانوں کو قتل بھی نہ کر سکے۔ آج مولیٰ کی تلوار کی وجہ سے قریش نے نئی پالیسی بنائی ہے کہ آمنے سامنے جا کر لڑنا ہی نہیں۔ قریش کے پاس تیراندازی کا ماہر کوئی نہیں۔ عرب میں ویسے ہی تیزاندازی ذرا برا فن سمجھا جاتا تھا۔ عرب بہادر اس کو سمجھتے تھے کہ آمنے سامنے جا کر مقابلہ کریں۔ چھپ کر دشمن کا تیر مار دیا یہ عرب میں غیرت کے تصور کے خلاف تھا۔ لیکن اب مجبور ہوگئے وہ تلوار کی جنگ تو اب لڑنے کی نہیں۔ اب دنیا میں یہی ہے کہ اپنے ملک سے میزائل چلایا جاتا ہے تاکہ دوسرا ملک تباہ ہو جائے۔ اب تیزانداز قریش کے پاس نہیں ہیں۔ اب ان کے نوجوانوں کو تیز تھما دیے۔ خندق کے بعد سے لیکر اب تک کوئی لڑائی نہیں لڑی لیکن تیاری پوری پوری تھی۔ اب ان کے ساتھ معاہدہ کیا۔ اب جن کا اسلام کے ساتھ پہلے تعلق نہ ہو اس سے معاہدہ یہ کیا کہ خانہ کعبہ کی عزت و احترام خطرے میں ہے تاکہ کعبہ پر کوئی دشمن حملہ کرے تو تم اسے روکو۔

          بات اتنی جذباتی تھی کہ سردار لینے ساتھیوں کی تعداد بڑھانے کیلئے طرح طرح کے جذباتی نعرے لگاتا تھا۔ تاکہ لوگ بغیر دیکھے ہمارے ساتھ آجائیں۔ کعبہ خطرے میں ہے جیسے ہمارے ہاں ایک زمانے میں اسلام خطرے میں ہے کا نعرہ بہت چلتا تھا۔ اب یہ قریش کا ساتھ دینے لگے۔ قریش نے ان کے سردار کو جو بالکل نیا آدمی ہے۔ بھیجنے کا فیصلہ کیا جو سکھا پڑھا کے بھیجو گے وہاں جا کر کہہ کر آجائے گا۔ اور ایسا ہوگا ہی نہیں کہ پیغمبر کے پاس جا کر بیٹھے اورع پرانے تعلقات اثرانداز ہو جائیں۔

          ادھر سردار گیا حبشی سردار لیکن یہ افریقہ والے نہیں تیراندازوں کا سردار بالکل نیا آدمی ادھر اللہ کے رسول نے دیکھا کہ سردار آرہا ہے۔ اللہ کے رسول تو بحرحال جانتے ہیں وہ آدمی جس کو ہمیں واپس بھیجنے کی ضرورت بھی نہیں ہے بالکل نیا آدمی ہے۔ نہ ہم سے دشمنی نہ دوستی اس کا مسئلہ خانہ کعبہ سے ہے۔ خانہ کعبہ سے اتنی دور بیٹھے ہیں اس کو اگر یہ پیغام دے دیا جائے کہ ہم لوگ خانہ کعبہ پر حملہ کرنے نہیں آئے۔ خانہ کعبہ کا طواف کرنے آئے ہیں یہ گروہ کہ جسے دھوکہ دے کر ملایا گیا ہے کہ کعبہ خطرے میں ہے۔ اس پر اثر ہو جائے گا مگر اس وقت پیغمبر اس سے بات چیت کرنا مناسب نہیں سمجھ رہے ۔ پیغمبر نے اپنے ساتھوں سے کہا سب احرام پہنے ہوئے ہو اپنے خیموں سے نکل کر باہر آجائیں۔ ان کی قربانی کے جانوروں کو اپنے آگے چھوڑ دو اگر دور سے کوئی دیکھے تو سب سے پہلے اس کی نگاہ قربانی کے جانوروں پر پڑے۔ جن پر قربانی کا نشان اور ہار ڈالا ہو اہے۔ دور سے آنے والے کو پتہ چل جائے گا کہ کوئی لشکر ہے لگے عبادت کرنے والوں کا کوئی قافلہ اور کوئی ان سے بات نہ کرے پہلی دفعہ وہ مسلمانوں کو دیکھ رہا ہے قریب آیا۔ گھوڑے سے اُترا یہ منظر ہے اس کے سامنے 1400 احرام پوش اور عبادت کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ تسبیح و تہلیل بھی کر رہے ہیںَ ساتھ ساتھ قربانی کے جانور بھی جانور بھی کمزور قربانی کیلئے ہوتا ہے۔ بہتر سے بہتر جانور ہو مگر یہاں جانور کمزور تھے۔ اس کی دو وجوہات ہیں پہلی وجہ اصل میں یہ کمزور نہیں کسی حدیبیہ میں جو فاقہ گذرا اس کی وجہ سے آدمیوں کے ساتھ جانوروں میں بھی فرق پڑا ہے۔

          تاکہ آنے والا شک میں نہ پڑے کہ یہ جنگ کیلئے آئے ہیں۔ دھوکہ دینے کیلئے قربانی کی نشانی لگائی ہے وہ سمجھ جائے گا کہ یہ جانور میدان جنگ میں تو کام آنہیں سکتے۔ پیغمبر کا مقصد یہ ہے کہ آنے والے کو یہ تاثر دیا جائے کہ مسلمانوں کا مقصد کا پتہ چل جائے۔ بات چیت کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ جذبات ابھرنے ہی نہ پائیں۔ اور پیغمبر کسی بہترین طریقہ سے مسلمانوں کا مقصد واضح کر دیا ہے۔ آج کے دور میں یہی طریقہ ٹیلی فون کے ذریعے ہے کہ وہ تعلیم بچوں کے ذہن تک چلی جاتی ہے۔

          اب آنے والے دشمن نہیں کوئی غلط خیال لیکر نہیں آیا۔ جیسے ہی اس نے دیکھا گھبرا گیا احرام پہنے ہوئے مجاہد ہو مصروفِ عبادت اور جانور اتنے کمزور ہیں کہ ایک دوسرے کے بال کھا

رہے ہیںَ بھوک کی سجہ سے وہ سیدھا قریش واپس آیا۔ سردارانِ مکہ حیران ہوگئے کہ تم بھی گئے بھی نہیں اور واپس آگئے۔ کیا ہوا۔ اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مسلمانوں نے اسے ذلیل سمجھ کر نکال دیا ہو اب اس سے ہمارا آدھا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ سردار گھوڑے سے اتر کر احرام میں داخل ہوا اور کہنے لگا تم نے مجھے کن کے پاس بھیجا دیا ہے۔ اتنے نیک اور مقدس لوگ میں دیکھ کر آیا ہوں ان کے ساتھ جو جانور ہیں وہ اتنے بھوکے ہیں کہ چل مشکل سے رہے ہیں۔ میں یقین کر ہی نہیں سکتا کہ وہ مکہ پر حملہ کرنے آئے ہیں۔ یہ دشمنوں کا لشکر نہیں یہ حملہ کرنے والوں کا لشکر نہیں ہے۔

          سردار قریش سوچ کر بیٹھا ہے نتیجہ کچھ آگیا فوراً جلال میں آگیا کہنے لگا ہاں ہاں تو عرب کے پست قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو قریش ہوتے تو کبھی یہ بات نہ کرتے۔ اے ذلیل و پست قبیلہ سے تعلق رکھنے والے ان سے چھوکہ کھا کر آگئے۔ اب اس حبشی سردار کو غصہ آگیا کہنے لگا تم نے کیا سمجھ کر یہ بات کی ہے۔ ہم تمہارے نوکر نہیں تمہارے غلام نہیں ہم نے صرف وعدے پر تمہارے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ جب کعبہ خطرے میں ہوگا تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ لہٰذا ہمارا فریضہ نہیں کہ جو کعبہ کا طواف اور زیارت کرنے آئے ہم اس کی دشمنی کریں۔ خبردار پھر یہ بات کی ورنہ ہم ان کے ساتھ ملکر تم پر تیر برسائیں گے۔ ہم کعبہ کے زائر پر حملہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم کعبہ کے دشمنوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت مکہ کا ماحول ہی بدل گیا۔ کسے ملکر آئے کس نیت کے ساتھ اسے استعمال کریں گے۔ میدان میں مسلمانوں کو شکست دیں گے۔ آج وہی مسلمانوں کی طرفداری کر رہے ہیں۔

          اب ان کی پریشانی میں اضافہ ہوا۔ خالی اُکسانے پر نہیں کہا۔ ہم معاہدہ توڑ کر چلے جائیں گے۔ بلکہ تم پر حملہ کریں گے۔ ابوسفیان جلدی سے گھڑا ہوا۔ صلح صفائی سے بات ہوئی اس کے غصلہ کو ٹھنڈا کرکے بٹھا دیا گیا۔ لیکن اب قریش پریشان کہ دو آدمی ہم نے بھیجے اب دونوں ایسے کہ ہمارے ہی ان سے اختلافات ہوگئے۔ اب کیا کیا جائے۔

          عروہ بن مسعود ثقفی وہاں موجود تھے۔ قریش نے ان سے کہا کہ بس آپ جب ہی شخص آگے بڑھ سکتا ہے جن کا تذکرہ اگلی گفتگو میں تفصیل کیساتھ آئے گا۔