﴾ہ ٢٧ رجب المرجب کی رات کے اعمال﴿ 

PDF

  یہ بڑی متبرک راتوں میں سے ہے کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺکے مبعث (مامور بہ تبلیغ ہونے) کی رات ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں:

(۱)   مصباح میں شیخ نے امام ابو جعفر جواد (ع)سے نقل کیا ہے کہ فرمایا : ماہ رجب میں ایک رات ہے کہ وہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج چمکتا ہے اور وہ ستائیسویں رجب کی رات ہے کہ جس کی صبح رسول اعظم ﷺمبعوث بہ رسالت ہوئے۔ ہمارے پیروکاروں میں جو اس رات عمل کرے گا تو اس کو ساٹھ سال کے عمل کا ثواب حاصل ہوگا۔ میں نے عرض کیا اس رات کا عمل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : نماز عشا کے بعد سوجائے اور پھر آدھی رات سے پہلے اٹھ کر بارہ رکعت نماز دو دو رکعت کرکے پڑھے اور ہر رکعت میں سورۃ حمد کے بعد قرآن کی آخری مفصل سورتوں (سورۃ محمد سے سورۃ ناس) میں سے کوئی ایک سورۃ پڑھے۔ نماز کا سلام دینے کے بعد سورۃ حمد، سورۃ فلق سورۃ ناس، سورۃ توحید، سورۃ کافرون اور سورۃ قدر میں سے ہر ایک سات سات مرتبہ نیز آیة الکرسی بھی سات مرتبہ پڑھے اور ان سب کو پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھے:

حمد ہے اس خدا کیلئے جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی اس کی حکومت میں اس کا شریک ہے نہ وہ کمزور ہے کہ کوئی اس کا حامی ہو اور تم اس کی بڑائی

خوب بیان کرو اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے عرش پر تیرے مقامات عزت کے واسطے سے اور اس انتہائی رحمت کے واسطے سے جو تیرے قرآن میں

ہے اور بواسطہ تیرے نام کے جو بہت بڑا، بہت بڑا، بہت ہی بڑا ہے بواسطہ تیرے ذکر کے جو بلند تر، بلندتر اور بہت بلندتر ہے اور بواسطہ تیرے کامل

کلمات کے سوالی ہوں کہ تو حضرت محمد اور ان کی آل (ع)پر رحمت فرما اور مجھ سے وہ سلوک فرما جو تیرے شایان شان ہے۔

الْحمْد لِلّٰہِ الّذِی لمْ یتّخِذْ ولداً، ولمْ یکنْ لہ شرِیکٌ فِی الْملْکِ، ولمْ یکنْ لہ و لِیٌّ مِن الذّلِّ

وکبِّرْھ تکْبِیراً اللّٰھمّ إِنِّی أسْأ لک بِمعاقِدِ عِزِّک علی أرْکانِ عرْشِک ومنْتھی الرّحْمةِ مِنْ

کِتابِک، وبِاسْمِک الْاعْظمِ الْاعْظمِ الْاعْظمِ، وذِکْرِک الْاعْلی الْاعْلی الْاعْلی، وبِکلِماتِک

التّامّاتِ أنْ تصلِّی علی محمّدٍ وآلِہِ وأنْ تفْعل بِی ما أنْت أھْلہ ۔

          اس کے بعد جو دعا چاہے پڑھے۔ نیز اس رات میں غسل کرنا مستحب ہے اور اس شب میں پندرہ رجب کی رات میں پڑھی جانے والی نماز بھی بجا لانی چاہیئے۔

(۲)   امیرالمؤمنین (ع)کی زیارت پڑھنا کہ جو اس رات کے تمام اعمال سے بہتر وافضل ہے، اس رات میں آنجناب(ع) کی تین زیارتیں ہیں جن کا ذکر انشاء اللہ باب زیارات میں آئے گا۔واضح ہو کہ مشہور اہل سنت عالم ابو عبداللہ محمد ابن بطوطہ نے چھ سو سال قبل مکہ معظمہ و نجف اشرف کا سفر کیا اور امیرالمومنین کے روضہ پر حاضری دی، انہوں نے اپنے سفر نامہ(رحلہ ابن بطوطہ) میں مکہ سے نجف اشرف میں داخل ہونے کے بعد جوار امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) کے روضہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ تحریر کیا ہے کہ اس شہر کے رہنے والے سب کے سب رافضی ہیں اور اس روضہ سے بہت سی کرامات ظہور میںآ تی ہیں۔ یہ لوگ لیلة المحیا (جاگنے کی رات) کہ جو ستائیسویں رجب کی شب ہے۔ اس میں کوفہ، بصرہ، خراسان اور بلاد فارس و روم و غیرہ سے ہر بیمار،مفلوج، شل شدہ اور زمین گیرکو یہاں لاتے ہیں کہ جن کی تعداد عموماً تیس چالیس تک ہوتی ہے وہ لوگ نماز عشاء کے بعد ان اپاہجوں کو امیرالمومنین (ع)کی ضریح مبارک پر لے جاتے ہیں جہاں بہت سے لوگ ان کے اردگرد جمع ہوجاتے ہیں ۔ ان میں سے بعض نماز، تلاوت اور ذکر میں مشغول رہتے ہیں اور بعض صرف ان بیمار لوگوں کو ہی دیکھتے رہتے ہیں کہ کب وہ تندرست ہوکر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ جب آدھی یا دوتہائی رات گزر جاتی ہے تو جو مفلوج و زمین گیر حرکت ہی نہ کرسکتے تھے وہ اس حالت میں اٹھتے ہیں کہ انہیں کوئی بیماری نہیں ہوتی اور کلمہ طیبہ لااِلہ اِلاّ الله محمّد رّسوْل اللهِ علِیّ ولِیّ اللهِ پڑھتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوجاتے ہیں۔ یہ مشہور و مسلمہ کرامت ہے اگر چہ اس رات میں خود وہاں موجود نہ تھا، لیکن قابل اعتماد اور نیکوکار لوگوں کی زبانی مجھ تک پہنچی ہے تا ہم میں نے امیرالمومنین(ع) کے روضہ اقدس کے قریب واقع مدرسہ میں تین آدمی دیکھے جو اپاہج زمین پر پڑے تھے ان میں سے ایک اصفہان کا دوسرا خراسان کا اور تیسرا اہل روم سے تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ تندرست کیوں نہیں ہوئے؟ وہ کہنے لگے کہ ہم ستائیس رجب کو یہاں پہنچ نہیں سکے۔ لہذا ہم آئندہ ستائیس رجب تک یہیں رہیں گے تا کہ ہمیں شفا حاصل ہو اور پھر ہم واپس جائیں۔ آخر میں ابن بطوطہ کہتے ہیں کہ اس رات دوردراز شہروں کے لوگ زیارت کے لیے اس روضہ اقدس پر جمع ہوجاتے ہیں اور یہاں بہت بڑا بازار لگتا ہے جو دس دن تک جما رہتا ہے۔مؤلف کہتے ہیں کہ لوگ اس واقعہ کو بعید نہ سمجھیں کیونکہ ان مشاہد مشرفہ سے اتنی کرامات ظاہر ہوئی ہیں جن کا شمار نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ماہ شوال ۱۳۴۳ئھ میں امت عاصی کے ضامن امام ثامن یعنی ابوالحسن امام علی رضا (ع)کے مشہد اطہر میں تین مفلوج و زمین گیر عورتیں لائی گئیں۔ جن کے علاج سے طبیب و معالج عاجز آگئے تھے۔ ان کو وہاں سے شفا ملی اور وہ تندرست ہوکر اس حرم سے واپس گئیں اس مشہد مبارک کے معجزات و کرامات ایسے واضح و آشکار ہیں، جیسے آسمان پر سورج کا چمکنا اور بدوؤں کیلئے حرم نجف کے دروازے کا کھلنا ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ ان عورتوں کا واقعہ ایسا ظاہر وباہر تھا کہ جو معالج ان کے کامیاب نہ ہوسکے تھے ۔انہوں نے اعتراف کیا کہ ہمارا خیال یہی تھا کہ یہ عورتیں صحت یاب نہیں ہوسکتیں، لیکن، انہیں حرم مطہر سے شفا مل گئی ہے، پھر انہوں نے باقاعدہ تحریری تصدیق نامہ بھی لکھ کر دیا اور اگر اختصار مدنظر نہ ہوتا تو ایسے بہت سے واقعات کا ذکر کیا جاسکتا تھا ، ہمارے بزرگ شیخ حر عاملی نے اپنے قصیدہ میں کیا خوب فرمایا ہے:

جو برکتیں ان کی درگاہ سے ظاہر ہوئیں       آج کی طرح کل بھی عیاں ہوں گی

یعنی بیماری و نابینا پن دور ہوتا ہے  ان کی درگاہ پر دعائیں قبول ہوتی ہیں

وما بدا مِنْ برکاتِ مشْھدِہ      فِی کلِّ یوْمٍ أمْسہ مِثْل غدِہ

وکشِفا الْعمی والْمرضی بِہِ     إِجابة الدّعاءِ فِی أعْتابِہِ

(۳)   شیخ کفعمی نے بلدالامین میں فرمایا ہے کہ بعثت کی رات یہ دعا بھی پڑھی جائے:

اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ بہت بڑی نورانیت کے جو آج کی رات اس بزرگتر مہینے میں ظاہر ہوئی ہے اور بواسطہ عزت والے رسول کے

 یہ کہ تو محمد اور ان کی آل(ع) پر رحمت فرما اور ہمیں وہ چیزیں عطا فرما کہ تو انہیں ہم سے زیادہ جانتا ہے اے وہ جو

جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے اے معبود! برکت دے ہمیں آج کی رات میں کہ جسے تو نے آغاز رسالت سے فضیلت بخشی اپنی بزرگی

سے اسے برتری دی اورمقام بلند دے کر اس کو زینت بخشی ہے اے معبود! پس ہم تیرے سوالی ہیں بواسطہ بعثت شریف اور مہربان اور پاکیزہ

 سردار و پارسا ذات کے یہ کہ تو محمد اور ان کی آل(ع) پر رحمت نازل فرما اور آج کی رات اور تمام راتوں میں ہمارے اعمال کو شرف قبولیت عطا فرما ہمارے

 گناہوں کو بخش دے ہماری نیکیوں کو پسندیدہ قرار دے ہماری خطاؤں کو ڈھانپ دے ہمارے دلوں کو اپنے عمدہ کلام سے خود سند فرما اور ہماری روزی میں

اپنی بارگاہ سے آسانی اور اضافہ کردے اے معبود! تو دیکھتا ہے اور خود نظر نہیں آتا کہ تو مقام نظر سے بالا و بلندتر ہے اور جائے آخر و بازگشت

تیری ہی طرف ہے اور موت دینا اور زندہ کرنا تیرے اختیار میں ہے اور تیرے ہی لیے ہے آغاز و انجاماے معبود! ہم ذلت و خواری میں پڑنے سے

 تیری پناہ کے طالب ہیں اور وہ کام کرنے سے جس سے تو نے منع کیا ہے اے معبود! ہم تیری رحمت کے ذریعے تجھ سے جنت کے طلبگار ہیں اور دوزخ سے

 تیری پناہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس سے پناہ دے اپنی قدرت کے ساتھ اور ہم تجھ سے زیبا ترین حوروں کی خواہش کرتے ہیں وہ بواسطہ اپنی عزت کے عطا فرما

 اور بڑھاپے کے وقت ہماری روزی میں اضافہ فرما موت کے وقت ہمارے اعمال کو پسندیدہ قرار دے ہمیں اپنی اطاعت اوراپنی نزدیکی کے اسباب میں

ترقی عطا فرمادے اپنے ہاں حصے اور منزلت کی خاطر ہماری عمریں دراز کردے تمام حالات اور تمام معاملوں میں ہمیں بہترین معرفت

 عطا فرما ہمیں اپنی مخلوق میں سے کسی کے حوالے نہ فرما کہ وہ ہم پر احسان رکھے اور دنیا اورآخرت کی تمام ضرورتوں اور حاجتوں کیلئے ہم پر احسان فرما اورہم

نے تجھ سے اپنے لیے جن چیزوں کاسوال کیا ہے ان کی عطا میں ہمارے پہلے بزرگوں، ہماری اولاد اور دینی بھائیوں کو بھی شامل فرما اے سب سے زیادہ رحم

کرنے والے اے معبود! ہم سوالی ہیں بواسطہ تیرے عظیم نام اور تیری ازلی حکومت کے کہ تو محمد اور آل محمد پر رحمت فرما اور ہمارے سارے کے سارے گناہ

 بخش دے کیونکہ کثیر گناہوں کو بزرگتر ذات کے سوا کوئی نہیں بخش سکتا اے معبود! یہ عزت والا مہینہ رجب ہے جسے تو نے حرمت والے مہینوں میں اولیت

دے کر ہمیں سرفراز کیا تو نے اس کے ذریعے ہمیں دوسری امتوں میں ممتاز کیا پس تیرے ہی لیے حمد ہے اے عطا وبخشش کرنے والے پس تیرا سوالی

ہوں بواسطہ اس ماہ کے اور تیرے بہت بڑے، بہت بڑے، بہت ہی بڑے نام کے جو روشن بزرگی والا ہے، اسے تونے خلق کیا وہ تیرے ہی زیر سایہ

 قائم ہے پس وہ تیرے ہاں سے دوسرے کی طرف نہیں جاتا بواسطہ اس کے سوالی ہوں کہ تو حضرت محمد اور ان کی پاکیزہ اہلبیت (ع)پررحمت فرما اور یہ کہ اس

 مہینے میں ہمیں اپنی فرمانبرداری میں رہنے والے اور اپنی شفاعت کے امیدوار قرار دیاے معبود! ہمیں راہ راست کی ہدایت دے اور اپنے ہاں ہمارا قیام

 بہترین جگہ پر اپنے بلندسایہ اور اپنی عظیم حکومت میں قرار دے پس ضرور تو ہمارے لیے کافی اور بہترین سرپرست ہے اے معبود! ہمیں فلاح پانے اور

کامیابی والے بنادے نہ ہم پر غضب کیا جائے اورنہ ہم گمراہ ہوں واسطہ ہے تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تیری یقینی بخشش اور تیری حتمی رحمت کے واسطے سے ہر گناہ سے بچائے رکھنے، ہر نیکی سے حصہ پانے،

جنت میں داخلے کی کامیابی اور جہنم سے نجات پانے کا اے معبود! دعا کرنیوالوں نے، تجھ سے دعا کی اور میں بھی دعا کرتاہوں سوال

کیا تجھ سے سوال کرنیوالوں نے، میں بھی سوالی ہوں تجھ سے طلب کیا طلب کرنیوالوں نے میں بھی تجھ سے طلب کرتا ہوں اے

معبود! تو ہی میر اسہارہاور امیدگاہ ہے اور دعا میں تیری ہی طرف انتہائے رغبت ہے اے معبود! پس تو محمد اور ان کی آل(ع) پر رحمت نازل فرما

 اور میرے دل میں یقین، میری آنکھوں میں نور، میرے سینے میں نصیحت، میری زبان پر رات دن اپنا ذکر و اذکار قرار دے کسی کے احسان اور کسی رکاوٹ

 کے بغیر زیادہ روزی دے پس جو رزق تونے مجھے دیا ا س میں میرے لیے برکت عطا کر اور میرے دل کو سیر فرما اورجو تیرے پاس ہے اس میں رغبت

 دے واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنیوالے۔                  حمد ہے ا س خدا کیلئے جس نے اپنی معرفت میں ہماری رہنمائی کی اپنی

اللّٰھمّ إِنِّی أسْأ لک بِالتّجلِّی الْاعْظمِ فِی ہذِھِ اللّیْلةِ مِن الشّھْرِ الْمعظّمِ، والْمرْسلِ الْمکرّمِ،

أنْ تصلِّی علی محمّدٍ وآلِہِ وأنْ تغْفِر لنا ما أنْت بِہِ مِنّا أعْلم، یا منْ یعْلم ولا نعْلم اللّٰھمّ بارِکْ

لنا فِی لیْلتِنا ہذِھِ الّتِی بِشرفِ الرِّسالةِ فضّلْتہا، وبِکرامتِک أجْللْتہا، وبِالْمحلِّ الشّرِیفِ

أحْللْتہا۔اللّٰھمّ فإِنّا نسْأ لک بِالْمبْعثِ الشّرِیفِ، والسّیِّدِ اللّطِیفِ، والْعنْصرِ الْعفِیفِ، أنْ

تصلِّی علی محمّدٍ وآلِہِ وأنْ تجْعل أعْمالنا فِی ہذِھِ اللّیْلةِ وفِی ساِئرِ اللّیالِی مقْبولةً وذنوبنا

مغْفورةً وحسناتِنا مشْکورةً وسیِّئاتِنا مسْتورةً وقلوبنا بِحسْنِ الْقوْلِ مسْرورةً وأرْزاقنا مِنْ

لدنْک بِالْیسْرِ مدْرورةً ۔ اللّٰھمّ إِنّک تریٰ ولا تریٰ، وأ نْت بِالْمنْظرِ الْاعْلی، و إِنّ إِلیْک

الرّجْعٰی والْمنْتہیٰ وإِنّ لک الْممات والْمحْیا،وإِنّ لک الاْخِرة والاْولی اللّٰھمّ إِنّا نعوذبِک

أنْ نذِلّ ونخْزی وأنْ نأْتِی ما عنْہ تنْہی اللّٰھمّ إِنّا نسْألک الْجنّة بِرحْمتِک، ونسْتعِیذ بِک

مِن النّارِ فأعِذْنا مِنْہا بِقدْرتِک،ونسْألک مِن الْحورِ الْعِینِ فارْزقْنا بِعِزّتِک، واجْعلْ أوْسع

أرْزاقِنا عِنْد کِبرِ سِنِّنا، وأحْسن أعْمالِنا عِنْد اقْتِرابِ آجالِنا، وأطِلْ فِی طاعتِک وما یقرِّب

إِلیْک ویحْظِی عِنْدک ویزْ لِف لدیْک أعْمارنا وأحْسِنْ فِی جمِیعِ أحْوالِنا وأمورِنا معْرِفتنا، و

لا تکِلْنا إِلی أحدٍ مِنْ خلْقِک فیمنّ علیْنا، وتفضّلْ علیْنا بِجمِیعِ حوائِجِنا لِلدّنْیا والْاخِرةِ وابْدأْ

بِآبائِنا وأبْنائِنا وجمِیعِ إِخْوانِنا الْمؤْمِنِین فِی جمِیعِ ما سألْناک لاِ نْفسِنا یا أرْحم الرّاحِمِین

اللّٰھمّ إِنّا نسْألک بِاسْمِک الْعظِیمِ، وملْکِک الْقدِیمِ، أنْ تصلِّی علی محمّدٍ وآلِ محمّدٍ وأنْ

تغْفِر لنا الذّنْب الْعظِیم، إِنّہ لا یغْفِر الْعظِیم إِلاّ الْعظِیم ۔ اللّٰھمّ وہذا رجبٌ الْمکرّم الّذِی 

أکْرمْتنا بِہِ أوّل أشْھرِ الْحرمِ، أکْرمْتنا بِہِ مِنْ بیْنِ الْاممِ، فلک الْحمْد یا ذا الْجودِ والْکرمِ،

فأسْألک بِہِ وبِاسْمِک الْاعْظمِ الْاعْظمِ الْاعْظمِ الْاجلِّ الْاکْرمِ الّذِی خلقْتہ فاسْتقرّ فِی ظِلِّک

فلا یخْرج مِنْک إِلی غیْرِک أنْ تصلِّی علی محمّدٍ وأھْلِ بیْتِہِ الطّاھِرِین، وأنْ تجْعلنا مِن

الْعامِلِین فِیہِ بِطاعتِک، والاْمِلِین فِیہِ لِشفاعتِک۔اللّٰھمّ اھْدِنا إِلی سواءِ السّبِیلِ، واجْعلْ مقِیلنا 

عِنْدک خیْر مقِیلٍ،فِی ظِلٍّ ظلِیلٍ،وملْکٍ جزِیلٍ،فإِنّک حسْبنا ونِعْم الْوکِیل۔اللّٰھمّ اقْلِبْنا  

مفْلِحِین منْجِحِین غیْر مغْضوبٍ علیْنا ولا ضالِّین بِرحْمتِک یا أرْحم الرّاحِمِین۔اللّٰھمّ إِنِّی

أسْأ لک بِعزائِمِ مغْفِرتِک، وبِواجِبِ رحْمتِک، السّلامة مِنْ کلِّ إِثْمٍ،والْغنِیمة مِنْ کلِّ بِرٍّ

والْفوْز بِالْجنّةِ والنّجاة مِن النّارِ اللّٰھمّ دعاک الدّاعون ودعوْتک وسألک السّائِلون و

سألْتک وطلب إِلیْک الطّالِبون وطلبْت إِلیْک اللّٰھمّ أ نْت الثِّقة والرّجاء، و إِلیْک منْتھیٰ

الرّغْبةِ فِی الدّعاءِ۔اللّٰھمّ فصلِّ علی محمّدٍ وآلِہِ واجْعلِ الْیقِین فِی قلْبِی والنّور فِی بصرِی 

والنّصِیحة فِی صدْرِی وذِکْرک بِاللّیْلِ والنّہارِ علی لِسانِی ورِزْقاً واسِعاً غیْر ممْنونٍ ولا

محْظورٍ فارْزقْنِی، وبارِکْ لِی فِیما رزقْتنِی واجْعلْ غِنای فِی نفْسِی ورغْبتِی فِیما عِنْدک

بِرحْمتِک یا أرْحم الرّاحِمِین ۔اب سجدہ میں جائے اور سو مرتبہ کہے :الْحمْد للهِ الّذِیْ ھدٰانا لِمعْرِفتِہ و خصّنا

بِوِلایتِہ و وفّقنا لِطاعِتہ شکْراً شکْراً

 

 پھر سجدے سے سر اٹھائے اور کہے :

 سرپرستی میں خاص کیا اور اپنی اطاعت کی توفیق دی شکر ہے اس کا بہت شکر            اے معبود! میں اپنی حاجت لیے تیری طرف

 آیا اور اپنے سوال میں تجھ پر بھروسہ کیا ہے میں اپنے اماموں(ع) اورسرداروں کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوا اے معبود! ہمیں ان کی محبت سے نفع

دے ان کے مقام تک پہنچا ہمیں ان کی رفاقت عطا کر اور ہمیں ان کے ساتھ جنت میں داخل فرما واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

اللّٰھمّ إِنِّی قصدْتک بِحاجتِی،

واعْتمدْت علیْک بِمسْألتِی، وتوجّھْت إِلیْک بِأئمّتِی وسادتِی اللّٰھمّ انْفعْنا بِحبِّھِمْ، وأوْرِدْنا

موْرِدھمْ، وارْزقْنا مرافقتھمْ، وأدْخِلْنا الْجنّة فِی زمْرتِھِمْ بِرحْمتِک یا أرْحم الرّاحِمِین۔

          سید(علیہ الرحمہ) نے فرمایا ہے کہ یہ دعا مبعث کے دن میں بھی پڑھی جائے۔

ستائیس رجب کا دن

          یہ عیدوں میں سے بہت بڑی عید کا دن ہے کہ اسی دن حضور مبعوث بہ رسالت ہوئے اور اسی دن جبرائیل (ع)احکام رسالت کے ساتھ حضور پر نازل ہوئے ، اس دن کیلئے چند ایک عمل ہیں:

(۱)غسل کرنا۔                     

(۲)روزہ رکھنا، یہ دن سال بھر میں ان چار دنوں میں سے ایک ہے کہ جن میں روزہ رکھنے کی ایک خاص امتیازی حیثیت ہے، اور اس دن کا روزہ ستر سال کے روزے کا ثواب رکھتا ہے۔

(۳)کثرت سے درود شریف پڑھنا۔      

(۴)حضرت رسول اللہ ﷺاور امیر المومنین (ع)کی زیارت کرنا۔

(۵)   مصباح میں شیخ نے ذکر کیا ہے کہ ریان ابن صلت سے روایت ہے کہ جب امام محمد تقی (ع) بغداد میں تھے تو آپ پندرہ اور ستائیس رجب کا روزہ رکھتے اور آپ کے تمام متعلقین بھی روزہ رکھتے تھے۔ نیزحضرت نے ہمیں بارہ رکعت نمازپڑھنے کا حکم دیا تھا جس کی ہر رکعت میں الحمد کے بعد ایک سورۃ پڑھے اور اس کے بعد سورۃ حمد، توحید اور الفلق، الناس میں سے ہر ایک چار چار مرتبہ پڑھنے کے بعد چار مرتبہ کہتے:

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگتر ہے خدا پاک ہے اور حمد خدا ہی کیلئے ہے اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو خدائے بلند وبرتر سے ہے

لاإِلہ إِلاّالله والله أکْبر۔سبْحان اللهِ والْحمْد لِلّٰہِ ولاحوْل ولاقوّة إِلاّبِاللهِ الْعلِیّ الْعظِیمِ

چار مرتبہ
وہ اللہ، وہی اللہ میر ارب ہے میں کسی چیز کو اسکا شریک نہیں بناتا الله الله ربِّیْ لاا شْرِک بِہ شیْئاً
چارمرتبہ
           میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں گردانتا لاا شْرِک بِربِّیْ احداً

(۶)    شیخ نے جناب ابوالقاسم حسین بن روح (علیہ الرحمہ)سے روایت کی ہے کہ ستائیس رجب کو بارہ رکعت نماز پڑھے اور ہر دو رکعت کے بعد بیٹھے اور تشہد اور سلام کے بعد کہے:

حمد خدا ہی کے لیے ہے جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنا یا اور نہ ازلی سلطنت میں کوئی اس کا شریک ہے نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا مددگار ہو اور

 اس کی بڑائی بیان کرو بہت، بہت اے میری عمر میں میری آمادگی، اے سختی میں میرے ساتھی، اے نعمت میں میرے سرپرست، اے میری توجہ پر میرے

 فریاد رس، اے میریحاجت میں میری کامیابی، اے میری پوشیدگی میں میرے نگہبان، اے میری تنہائی میں میری کفایت، کرنے والے، اے میری

 تنہائی میں میرے انس تو ہی میرے عیب کا پردہ پوش ہے توحمد تیرے ہی لیے ہے اور تو ہی میری لغزش سے درگزر کرنے والا ہے حمد تیرے ہی لیے ہے

 تو ہی مجھے بے ہوشی سے ہوش میں لانے والا ہے پس حمد ہے تیرے لیے محمد و آل محمد پر رحمت فرما اور میرے عیب چھپا دے مجھے خوف سے بچائے رکھ میری

 خطا معاف فرما میرے جرم سے درگزر فرما میرے گناہ معاف کرکے مجھے اہل جنت میں سے قرار دے یہ وہ سچا وعدہ ہے جو دنیا میں ان سے کیا جاتا ہے۔

الْحمْد لِلّٰہِ الّذِی لمْ یتّخِذْ ولداً، ولمْ یکنْ لہ شرِیکٌ فِی الْملْکِ، ولمْ یکنْ لہ و لِیٌّ مِن الذّلِّ،

وکبِّرْھ تکْبِیراً۔یا عدّتِی فِی مدّتِی،یا صاحِبِی فِی شِدّتِی،یا و لِیِّی فِی نِعْمتِی یا غِیاثِی فِی رغْبتِی 

یا نجاحِی فِی حاجتِی یا حافِظِی فِی غیْبتِی یا کافِیّ فِی وحْدتِی، یا أ نْسِی فِی وحْشتِی،أ نْت السّاتِر

عوْرتِی،فلک الْحمْد،وأ نْت الْمقِیل عثْرتِی،فلک الْحمْد،وأ نْت الْمنْعِش صرْعتِی، فلک

الْحمْد، صلِّ علی محمّدٍ وآلِ محمّدٍ واسْترْ عوْرتِی، وآمِنْ روْعتِی، وأقِلْنِی عثْرتِی،واصْفحْ

عنْ جرْمِی وتجاوزْ عنْ سیِّئاتِی فِی أصْحابِ الْجنّةِ وعْد الصِّدْقِ الّذِی کانوا یوعدون

          اس نماز اور دعا کے بعد سورۃ حمد، سورۃ توحید، سورۃ فلق، سورۃ ناس، سورۃ کافرون، سورۃ قدر اور آیت الکرسی سات سات مرتبہ پڑھے۔ پھر سات مرتبہ کہے:

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگتر ہے اورخدا پاک ہے نہیں کوئی حرکت اورقوت مگر وہی جو خدا سے ہے 

لاإِلہ إِلاّالله والله أکْبروسبْحان الله ولاحوْل ولاقوّة إِلاّبِاللهِ

پھر سات مرتبہ کہے:

وہ اللہ ہی میرا رب ہے

میں کسی چیز کو اس کاشریک نہیں بناتا 

 الله الله ربِّیْ

لاا شْرِک بِہ شیْئاً

اس کے بعد جو بھی دعا پڑھنا چاہے وہ پڑھے۔

(۷)   کتاب اقبال اور مصباح کے بعض نسخوں میں ستائیس رجب کے دن اس دعا کا پڑھنا مستحب قرار دیا گیا ہے:

 

اے وہ جس نے عفو ودرگزر کا حکم دیا ہے اور خود کو عفو و درگزر کا ضامن قرار دیا ہے اے وہ جس نے معاف کیا اور درگزر

کی مجھے معافی دے اور درگزر فرما اے بزرگتر اے معبود! طلب نے مجھے مشقت میں ڈال دیا چارہ جوئی ختم اور راستہ بند ہوگیا آرزوئیں

پرانی ہوگئیں اور تیرے علاوہ ہر کسی سے امید ٹوٹ گئی ہے تو ہی یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اے معبود! میں اپنے مقاصد کے راستے تیری طرف آتا ہوں اور

امید کے سرچشمے تیرے پاس لبالب بھرے ہوئے ہیں اور جو تجھ سے دعا کرے اس کیلئے دعا کے دروازے کھلے ہوئے ہیں تجھ سے مد دمانگنے والے کے لیے

تیری مدد عام ہے اور میں جانتا ہوں کہ بے شک تو پکارنے والے

کیلئے مرکزِ قبولیت ہے تو فریاد کرنے والے کے کیے دادرسی کا ٹھکا نہ ہے اور یقینا تیری عطا میں رغبت اور تیرے وعدے پر اعتماد ہی ہے جو کنجوسوں

 کی طرف سے رکاوٹ کا مداوا اور مالداروں کے قبضے میں آئے ہوئے مال پر رنج سے بچانے والاہے بے شک تو اپنی مخلوق سے اوجھل نہیں ہے مگر بات یہ

ہے کہ ان کے برے اعمال نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ تیری طرف سفر کرنے والے کا بہترین زاد راہ تجھے پالینے کا پکا ارادہ

ہی ہے بے شک یکسوئی کے ساتھ تیری یاد میں لگا ہوا ہے اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ایسی دعا کے ذریعے جو کسی امیدوار نے کی اور قبول ہوئی یا ایسے

 فریادی کی سی فریاد جس کی تونے داد رسی کی ہے یااس رنجیدہ دکھی کی سی فریاد جس کی تکلیف تونے دور کی ہے یا ایسے خطاکار گنہگار کی سی پکار جسے تونے بخش دیا

ہے یاایسے با آرام جیسی دعا جسے تونے سب نعمتیں عطا کیں ہیں یا اس محتاج جیسی دعا جسے تونے دولت عطا کی ہے اور ایسیدعا جس نے تجھ پر اپنا حق پیدا کیا اور تیرے

 حضورگرامی ہوئی وہ یہی ہے کہ تو محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور دنیا و آخرت میں میری تمام حاجات پوری فرما اور یہ ماہ رجب ہے کہ عزت شان والا ہے جس

 سے تونے ہمیں سرفراز کیا جو حرمت والے مہینوں میں پہلا ہے اس سے تو نے ہمیں امتوں میں سے ممتاز کیا اے عطا وبخشش کے مالک پس میں سوالی ہوں

اسکے واسطے سے اور تیرے نام کے واسطے سے جو بہت بڑا، بہت بڑا، بہت بڑا ہے روشن تر اور بزرگی والا جسے تو نے خلق کیا پس وہ تیرے بلند سایہ میں ٹھہرا اور

تیرے ہاں سے کسی اور کی طرف نہیں گیا میں سوالی ہوں کہ محمد پر اور ان کے پاکیزہ تر اہلبیت(ع) پر رحمت فرما اور ہمیں اپنی فرمانبرداری پر کارمند اور اپنی شفاعت

کا طلبگار اور امیدوار بنا دے اے معبود ہمیں راہ راست کیطرف ہدایت فرما اور ہماری روز مرہ زندگی اپنی جناب سے بہترین زندگی قرار دے جو تیرے

 بلند ترین سایہ میں ہو پس تو ہمارے لئے کافی اور بہترین کام بنانے والا ہے اور سلام ہو خدا کے چنے ہوئے افراد پر اور ان سبھوں پر اس کی رحمت نازل ہو

اے معبود! آج کا دن ہمارے لئے مبارک فرما کہ جسے تو نے فضیلت دی اور اپنی مہربانی سے اس کو زیبائش دی اور اسے بلند تر مقام پر اتارا ہے اس دن میں

اس ذات پر رحمت فرما جسے تو نے اپنے بندوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور اسے عزت والی جگہ پر اتاراہے اے معبود، آنحضرتپر رحمت فرما

ہمیشہ کی رحمت کہ جو تیرے شکر کا موجب بنے اور ہمارے لئے ذخیرہ ہو اور ہمارے کاموں میں آسانی اور سہولت قرار دے اور ہماری زندگیوں کو سعادت

مندی و نیک بختی کے ساتھ انجام پر پہنچا اور تو نے کمتر اعمال کو شرف قبولیت بخشا ہے اور اپنی رحمت سے ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب کیا ہے بے شک تو ہر

چیز پر قدرت رکھتا ہے اور درود و سلام ہو محمد اور ان کی پاک و پاکیزہ آل(ع) پر۔

یا منْ أمر بِالْعفْوِ والتّجاوزِ، وضمّن نفْسہ الْعفْو والتّجاوز، یا منْ عفا وتجاوز اعْف عنِّی و

تجاوزْ یا کرِیم۔اللّٰھمّ وقدْ أکْدی الطّلب،وأعْیتِ الْحِیلة والْمذْھب،ودرستِ الْامال،وانْقطع

الرّجاء إِلاّ مِنْک وحْدک لا شرِیک لک ۔ اللّٰھمّ إِنِّی أجِد سبل الْمطالِبِ إِلیْک مشْرعةً،

ومناھِل الرّجاءِ لدیْک متْرعةً، وأبْواب الدّعاءِ لِمنْ دعاک مفتّحةً، والاسْتِعانة لِمنِ اسْتعان

بِک مباحةً، وأعْلم أ نّک لِداعِیک بِموْضِعِ إِجابةٍ،ولِلصّارِخِ إِلیْک بِمرْصدِ إِغاثةٍ،وأنّ فِی 

اللّھْفِ إِلی جودِک والضّمانِ بِعِدتِک عِوضاً مِنْ منْعِ الْباخِلِین ومنْدوحةً عمّا فِی أیْدِی 

الْمسْتأْثِرِین،وأ نّک لا تحْتجِب عنْ خلْقِک إِلاّأنْ تحْجبھم الْاعْمال دونک، وقدْ علِمْت

أنّ أ فْضل زادِ الرّاحِلِ إِلیْک عزْم إِرادةٍ یخْتارک بِہا وقدْ ناجاک بِعزْمِ الْاِرادةِ قلْبِی، وأسْأ لک 

بِکلِّ دعْوةٍ دعاک بِہا راجٍ بلّغْتہ أملہ، أوْ صارِخٌ إِلیْک أغثْت صرْختہ،أوْ ملْھوفٌ مکْروبٌ

فرّجْت کرْبہ،أوْ مذْنِبٌ خاطِیٌ غفرْت لہ،أوْمعافیً أ تْممْت نِعْمتک علیْہِ، أوْ فقِیرٌ أھْدیْت

غِناک إِلیْہِ،ولِتِلْک الدّعْوةِ علیْک حقٌّ وعِنْدک منْزِلةٌ إِلاّ صلّیْت علی محمّدٍ وآلِ محمّدٍ

وقضیْت حوائِجِی حوائِج الدّنْیا والاْخِرةِ، وہذا رجبٌ الْمرجّب الْمکرّم الّذِی أکْرمْتنا بِہِ

أوّل أشْھرِ الْحرمِ أکْرمْتنا بِہِ مِنْ بیْنِ الاْممِ یا ذا الْجودِ والْکرمِ فنسْألک بِہِ وبِاسْمِک

الْاعْظمِ الْاعْظمِ الْاعْظمِ ، الْاجلِّ الْاکْرمِ الّذِی خلقْتہ فاسْتقرّ فِی ظِلِّک فلا یخْرج مِنْک إِلی 

غیْرِک أنْ تصلِّی علی محمّدٍ وأھْلِ بیْتِہِ الطّاھِرِین وتجْعلنا مِن الْعامِلِین فِیہِ بِطاعتِک والْامِلِین  

فِیہِ بِشفاعتِک اللّٰھمّ واھْدِنا إِلی سواءِ السّبِیلِ واجْعلْ مقِیلنا عِنْدک خیْر مقِیلٍ فِی ظِلٍّ ظلِیلٍ

فإِنّک حسْبنا و نِعْم الْوکِیل والسّلام علی عِبادِہِ الْمصْطفیْن وصلواتہ علیْھِمْ أجْمعِین۔ اللّٰھمّ

وبارِکْ لنا فِی یوْمِنا ھذا الّذِی فضّلْتہ، وبِکرامتِک جلّلْتہ، وبِالْمنْزِلِ الْعظِیمِ الْاعْلی أنْزلْتہ

صلِّ علی منْ فِیہِ إِلی عِبادِک أرْسلْتہ، وبِالْمحلِّ الْکرِیمِ أحْللْتہ اللّٰھمّ صلِّ علیْہِ صلاةً دائِمةً 

تکون لک شکْراً، ولنا ذخْراً، واجْعلْ لنا مِنْ أمْرِنا یسْراً، واخْتِمْ لنا بِالسّعادةِ إِلی منْتہی 

آجالِنا، وقدْ قبِلْت الْیسِیر مِنْ أعْمالِنا، وبلّغْتنا بِرحْمتِک أفْضل آمالِنا إِنّک علی کلِّ

شیْءٍ قدِیرٌ وصلّی الله علی محمّدٍ وآلِہِ وسلّم

مولف کہتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظم (ع)کو جب بغداد لے جا رہے تھے تو اس روز آپ نے یہ دعا پڑھی اور وہ ستائیس رجب کا دن تھا پس یہ دعا رجب کی خاص دعاؤں میں شمار ہوتی ہے ۔

(۸) سید (علیہ الرحمہ) نے اقبال میں فرمایا ہے کہ ۲۷/رجب کو یہ دعا پڑھے:اللّھمّ اِنِّی اسْئلک بِالنجْل الْاعْظمِ الخیہ دعا صفحہ نمبر پر ذکر ہو چکی ہے ۔کفعمی کی روایت کے مطابق یہ دعا ستائیس رجب کی رات کو پڑھی جانے والی دعاؤں میں بھی ذکر ہوئی ہے۔جس کا ذکر صفحہ نمبر پرہو چکا ہے

رجب کا آخری دن

          اس روز غسل کرنے کا حکم ہے اور اس دن کا روزہ رکھنا گذشتہ و آئندہ گناہوں کی معافی کا موجب ہے نیز اس دن نمازسلمان (ع)پڑھے کہ جس کا طریقہ یکم رجب کے اعمال میں گذر چکا ہے۔

مفاتیح انڈیکس پر جایئں

ہوم پیج پر جایئں

قرآن انڈیکس پر جایئں

محرم صفر ربیع الاول رجب شعبان رمضان ذی القعد ذی الحج

براہ مہربانی  اپنی  تجاویز  یہاں بھیجیں  

اس سائٹ کا کاپی رائٹ نہیں ہے