﴿ اعمال روز عاشور     

PDF

تعزیتی زیارت - عصر کے بعد پڑھی جانے والی

زیارت عاشورا کے بعد کی دعا ۔ دعائے علقمہ زیارت عاشورہ

PDF     Multimedia Link   |    Power point -8 mb download      | Urdu link

Muharram Article (use for press)   |    Lessons from Kerbala   |  Listen to Lectures-Azadari.com

نویں محرم کا دن

          یہ روز تاسوعا حسینی ہے ،امام جعفر صادق (ع)سے روایت ہے کہ نو(۹) محرم کے دن فوج یزید نے امام حسین (ع)اور ان کے انصار کا گھیراؤ کر کے لوگوں کو ان کے قتل پر آمادہ کیا ابن مرجانہ اور عمر بن سعد اپنے لشکر کی کثرت پر خوش تھے اور امام حسین(ع) کو ان کی فوج کی قلت کے باعث کمزور و ضعیف سمجھ رہے تھے ۔انہیں یقین ہو گیا تھا کہ اب امام حسین (ع)کا کوئی یار و مددگار نہیں آسکتا اور عراق والے ان کی کچھ بھی مدد نہیں کرسکتے امام جعفر صادق (ع)نے یہ بھی فرمایا کہ اس غریب و ضعیف یعنی امام حسین (ع) پر میرے والد بزرگوار فدا وقربان ہوں ۔

دسویں محرم کی رات

  یہ شب عاشور ہے ،سید نے اس رات کی بہت سی بافضیلت نمازیں اور دعائیں نقل فرمائی ہیں ۔ان میں سے ایک سو رکعت نماز ہے ،جو اس رات پڑھی جاتی ہے اس کی ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد تین مرتبہ سورۃ توحید پڑھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر مرتبہ کہے :

پاک تر ہے اللہ حمد اللہ ہی کے لئے ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ بزرگتر ہے اور نہیں ہے کوئی طاقت وقوت مگر وہی جو خدائے بلند و برتر سے ملتی ہے ۔

سُبْحانَ اللهِ، وَالحَمْدُ للهِ، وَلاَ إِلہَ إِلاَّ اللهُ، وَاللهُ أَکْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ باللهِ العَلِیِّ العَظِیمِ

         بعض روایات میں ہے کہ العَلِیِّ العَظِیمِ کے بعد استغفار بھی پڑھے :اس رات کے آخری حصے میں چار رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد دس مرتبہ آیةالکرسی۔دس مرتبہ سورۃ توحید دس مرتبہ سورۃ فلق اور دس مرتبہ سورۃ ناس کی قرائت کرے اور بعد از سلام سومرتبہ سورۃ توحید پڑھے :آج کی رات چار رکعت نماز ادا کرے جس کی ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورۃ توحید پڑھے ،یہ وہی نماز امیرالمؤمنین (ع)ہے کہ جس کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اس نماز کے بعد زیادہ سے زیادہ ذکر الہی کرے حضرت رسول پر صلوات بھیجے اور آپ کے دشمنوں پر بہت لعنت کرے ۔اس رات بیداری کی فضیلت میں روایت وارد ہوئی ہے کہ اس رات کو جاگنے والا اس کے مثل ہے جس نے تمام ملائکہ جتنی عبادت کی ہو، اس رات میں کی گئی عبادت ستر سال کی عبادت کے برابر ہے، اگر کسی شخص کیلئے یہ ممکن ہو تو آج رات کو اسے سر زمین کربلا میں رہنا چاہیے، جہاں وہ حضرت امام حسین (ع)کے روضہ اقدس کی زیارت کرے اور حضرت امام حسین (ع) کے قرب میں شب بیداری کرے تاکہ خدا اس کو امام حسین(ع) کے ساتھیوں میں شمار کرے جو اپنے خون میں لتھڑے ہوئے تھے۔

 دسویں محرم کادن

          یہ یوم عاشور ہے جو امام حسین(ع) کی شہادت کا دن ہے یہ ائمہ طاہرین(ع) اور ان کے پیروکاروں کیلئے مصیبت کا دن ہے اور حزن و ملال میں رہنے کادن ہے ،بہتر یہی ہے کہ امام علی (ع) کے چاہنے اور ان کی اتباع کرنے والے مومن مسلمان آج کے دن دنیاوی کاموں میں مصروف نہ ہوں اور گھر کے لئے کچھ نہ کمائیں بلکہ نوحہ و ماتم اور نالہ بکاء کرتے رہیں ،امام حسین (ع) کیلئے مجالس برپا کریں اور اس طرح ماتم و سینہ زنی کریں جس طرح اپنے کسی عزیز کی موت پر ماتم کیا کرتے ہوں آج کے دن امام حسین(ع) کی زیارت عاشور پڑھیں جو تیسرے باب میں ذکر ہوگی ،حضرت کے قاتلوں پر بہت زیادہ لعنت کریں اور ایک دوسرے کو امام حسین(ع) کی مصیبت پر ان الفاظ میں پرسہ دیں۔

اللہ زیادہ کرے ہمارے اجر و ثواب کو اس پر جو کچھ ہم امام حسین(ع) کی سوگواری میں کرتے ہیں اور ہمیں تمہیں امام حسین(ع) کے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار

 دے اپنے ولی امام مہدی(ع) کے ہم رکاب ہو کر کہ جو آل محمد(ع) میں سے ہیں ۔

أَعْظَمَ اللهُ أُجُورَنا بِمُصأبِنا بِالْحُسَیْنِں وَجَعَلَنا وَإِیَّاکُمْ مِنَ الطَّالِبِینَ بِثارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الْاِمامِ

الْمَھْدِیِّ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ

   ضروری ہے کہ آج کے دن امام حسین(ع) کی مجلس اور واقعات شہادت کو پڑھیں خود روئیں اور دوسروں کو رلائیں ،روایت میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ (ع)کو حضرت خضر (ع)سے ملاقات کرنے اور ان سے تعلیم لینے کا حکم ہوا تو سب سے پہلی بات جس پر ان کے درمیان مذاکرہ مکالمہ ہوا وہ یہ ہے کہ حضرت خضر (ع)نے حضرت موسیٰ (ع)کے سامنے ان مصائب کا ذکر کیا جو آل محمد(ع) پہ آنا تھے ،اور ان دونوں بزرگواروں نے ان مصائب پر بہت گریہ و بکا کیا ۔ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:میں مقام ذیقار میں امیرالمؤمنین(ع) کے حضور گیاتو آپ نے ایک کتابچہ نکالا جو آپ کا اپنا لکھا ہوا اور رسول اللہ کا لکھوایا ہوا تھا، آپ نے اس کا کچھ حصہ میرے سامنے پڑھا اس میں امام حسین(ع) کی شہادت کا ذکر تھا اور اسی طرح یہ بھی تھا کہ شہادت کس طرح ہو گی اور کون آپ کو شہید کرے گا ،کون کون آپ کی مدد و نصرت کرے گا اور کون کون آپ کے ہمرکاب رہ کر شہید ہوگا یہ ذکر پڑھ کر امیرالمؤمنین(ع) نے خود بھی گریہ کیا اور مجھ کو بھی خوب رلایا ۔مؤلف کہتے ہیں اگر اس کتاب میں گنجائش ہوتی تو میں یہاں امام حسین(ع) کے کچھ مصائب ذکر کرتا ،لیکن موضوع کے لحاظ سے اس میں ان واقعات کا ذکر نہیں کیا جاسکتا ،لہذا قارئین میری کتب مقاتل کی طرف رجوع کریں ۔خلاصہ یہ کہ اگر کوئی شخص آج کے دن امام حسین(ع) کے روضہ اقدس کے نزدیک رہ کر لوگوں کو پانی پلاتا رہے تو وہ اس شخص کی مانند ہے، جس نے حضرت کے لشکر کو پانی پلایا ہو اور آپ کے ہمرکاب کربلا میں موجود رہا ہو آج کے دن ہزار مرتبہ سورۃ توحید پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے، روایت میں ہے کہ خدائے تعالیٰ ایسے شخص پر نظر رحمت فرماتا ہے ،سید نے آج کے دن ایک دعا پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے ۔جو دعائے عشرات کی مثل ہے ،بلکہ بعض روایات کے مطابق وہ دعا ئے عشرات ہی ہے ۔شیخ نے عبداللہ بن سنان سے انہوں نے امام جعفر صادق (ع) سے روایت کی ہے کہ یوم عاشور کو چاشت کے وقت چار رکعت نماز و دعا پڑھنی چاہیے کہ جسے ہم نے اختصار کے پیش نظر ترک کر دیا ہے پس جو شخص اسے پڑھنا چاہتا ہو وہ علامہ مجلسی کی کتاب زادالمعاد میں ملاحظہ کرے۔ یہ بھی ضروری اور مناسب ہے کہ شیعہ مسلمان آج کے دن فاقہ کریں، یعنی کچھ کھائیں پئیں نہیں، مگر روزے کا قصد بھی نہ کریں عصر کے بعد ایسی چیز سے افطار کریں جو مصیبت زدہ انسان کھاتے ہیں مثلا دودھ یا دھی و غیرہ نیز آج کے دن قمیضوں کے گریبان کھلے رکھیں اور آستینیں چڑھا کر ان لوگوں کی طرح رہیں جو مصیبت میں مبتلا ہو تے ہیں یعنی مصیبت زدہ لوگوں جیسی شکل و صورت بنائے رہیں ۔علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ نہ رکھے کیونکہ بنی امیہ اور ان کے پیروکار ان دو دنوں کو امام حسین(ع) کو قتل کرنے کے باعث بڑے بابرکت وحشمت تصور کرتے ہیں اور ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے ،انہوں نے بہت سی وضعی حدیثیں حضرت رسول کی طرف منسوب کر کے یہ ظاہر کیا کہ ان دو دنوں کا روزہ رکھنے کا بڑا اجر و ثواب ہے حالانکہ اہلبیت(ع) سے مروی کثیر حدیثوں میں ان دودنوں اور خاص کر یوم عاشور کا روزہ رکھنے کی مذمت آئی ہے ،بنی امیہ اور ان کی پیروی کرنے والے برکت کے خیال سے عاشورا کے دن سال بھر کا خرچہ جمع کر کے رکھ لیتے تھے اسی بنا پر امام رضا(ع) سے منقول ہے کہ جو شخص یوم عاشور اپنا دنیاوی کاروبار چھوڑے رہے تو حق تعالیٰ اس کے دنیا و آخرت سب کاموں کو انجام تک پہنچا دے گا ،جو شخص یوم عاشور کو گریہ و زاری اور رنج و غم میں گزارے تو خدائے تعالیٰ قیامت کے دن کو اس کیلئے خوشی و مسرت کا دن قرار دے گا اور اس شخص کی آنکھیں جنت میں اہلبیت(ع) کے دیدار سے روشن ہوں گی ،مگر جو لوگ یوم عاشورا کو برکت والا دن تصور کریں اور اس دن اپنے گھر میں سال بھر کا خرچ لا کر رکھیں تو حق تعالیٰ ان کی فراہم کی ہوئی جنس و مال کو ان کے لئے بابرکت نہ کرے گا اور ایسے لوگ قیامت کے دن یزید بن معاویہ ،عبیداللہ بن زیاد اور عمرابن سعد جیسے ملعون جہنمیوں کے ساتھ محشور ہوں گے اس لئے یوم عاشور میں کسی انسان کو دنیا کے کاروبار میں نہیں پڑنا چاہیے اور اس کی بجائے گریہ و زاری ،نوحہ و ماتم اور رنج و غم میں مشغول رہنا چاہیے نیز اپنے اہل و عیال کو بھی آمادہ کرے کہ وہ سینہ زنی و ماتم میں اس طرح مشغول ہوں جیسے اپنے کسی رشتہ دار کی موت پر ہوا کرتے ہیں ۔آج کے دن روزے کی نیت کے بغیر کھانا پینا ترک کیئے رہیں اور عصر کے بعد تھوڑے سے پانی و غیرہ سے فاقہ شکنی کریں اور دن بھر فاقے سے نہ رہیں مگر یہ کہ اس پر کوئی روزہ واجب ہو جیسے نذر وغیرہ آج کے دن گھر میں سال بھر کیلئے غلہ و جنس جمع نہ کرے ،آج کے دن ہنسنے سے پرہیز کریں، اور کھیل کود میں ہرگز مشغول نہ ہوں اور امام حسین(ع) کے قاتلوں پر ان الفاظ میں ہزار مرتبہ لعنت کریں:

اے اللہ:امام حسین (ع)کے قاتلوں پر لعنت کر

اَللّٰھُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ الْحُسَیْنِ

     مؤلف کہتے ہیں اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوم عاشور کا روزہ رکھنے کے بارے میں جو حدیثیں آئیں وہ سب جعلی اور بناوٹی ہیں اور ان کو جھوٹوں نے حضرت رسول کی طرف منسوب کیا ہے

اے اللہ ! یہ وہ دن ہے جس کو بنی امیہ نے بابرکت قرار دیا ہے ۔

اَللَّھُمَّ انَّ ھَذَا یُوْمَ تَبَرَکْتَ بِہ بَنُوْ اُمَیَّةِ ۔

  صاحب شفا ء الصدور نے زیارت کے مندرجہ بالا جملے کے ذیل میں ایک طویل حدیث سے اس کی تشریح فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی امیہ آج کے منحوس دن کو چند وجوہات کی بنا پر بابرکت تصور کرتے تھے ۔

(۱) بنی امیہ نے آج کے دن آیندہ سال کے لئے غلہ و جنس جمع کر رکھنے کو مستحب جانا اور اس کو وسعت رزق اور خوشحالی کا سبب قراردیا چنانچہ اہلبیت(ع) کی طرف سے ان کے اس زعم باطل کی باربار تردید اور مذمت کی گئی ہے ۔

(۲)بنی امیہ نے آج کے دن کو روز عید قرار دیا اور اس میں عید کے رسوم جاری کیے ۔جیسے اہل و عیال کے لئے عمدہ لباس و خوراک فراہم کرنا ،ایک دوسرے سے گلے ملنا اور حجامت بنوانا وغیرہ لہذا یہ امور ان کے پیروکاروں میں عام طور پر رائج ہو گئے ۔

(۳)انہوں نے آج کے دن کا روزہ رکھنے کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وضع کیں اور اس دن روزہ رکھنے پر عمل پیرا ہوئے ۔

(۴)انہوں نے عاشور کے دن دعا کرنے اور اپنی حاجات طلب کرنے کو مستحب قرار دیا اس لئے اس سے متعلق بہت سے فضائل اور مناقب گھڑ لیے ،نیز آج کے دن پڑھنے کے لئے بہت سی دعائیں بنائیں اور انہیں عام کیا تاکہ لوگوں کو حقیقت واقعہ کی سمجھ نہ آئے چنانچہ وہ آج کے دن اپنے شہروں میں منبروں پر جو خطبے دیتے ،ان میں یہ بیان ہوا کرتا تھا کہ آج کے دن ہر نبی کے لئے شرف اور وسیلے میں اضافہ ہوا مثلا نمرود کی آگ بجھ گئی حضرت نوح کی کشتی کنارے لگی ،فرعون کا لشکر غرق ہوا حضرت عیسیٰ کو یہودیوں کے چنگل سے نجات حاصل ہوئی یعنی یہ سب امور آج کے دن وقوع میں آئے ۔تاہم ان کا یہ کہنا سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اس بارے میں شیخ صدوق نے جبلہ مکیہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے میثم تمار سے سنا وہ کہتے تھے: خدا کی قسم ! یہ امت اپنے نبی کے فرزند کو دسویں محرم کے دن شہید کرے گی اور خدا کے دشمن اس دن کو بابرکت دن تصور کریں گے یہ سب کام ہو کر رہیں گے اور یہ باتیں اللہ کے علم میں آچکیں ہیں یہ بات مجھے اس عہد کے ذریعے سے معلوم ہے ،جو مجھ کو امیرالمؤمنین(ع) کی طرف سے ملا ہے جبلہ کہتے ہیں کہ میں نے میثم سے عرض کی کہ وہ لوگ امام حسین(ع) کے روز شہادت کو کس طرح بابرکت قراردیں گے ؟تب میثم رو پڑے اور کہا لوگ ایک ایسی حدیث وضع کریں گے جس میں کہیں گے کہ آج کا دن ہی وہ دن ہے کہ جب حق تعالیٰ نے حضرت آدم (ع)کی توبہ قبول فرمائی۔ حالانکہ خدائے تعالیٰ نے ان کی توبہ ذی الحجہ میں قبول کی تھی وہ کہیں گے آج کے دن ہی خدانے حضرت یونس(ع) کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا حالانکہ خدانے ان کو ذی القعدہ میں شکم ماہی سے نکالا تھا وہ تصور کریں گے کہ آج کے دن حضرت نوح (ع) کی کشتی جودی پر رکی ،جبکہ کشتی ۱۸ ذی الحجہ کو رکی تھی وہ کہیں گے کہ آج کے دن ہی حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (ع)کیلئے دریا کو چیرا ،حالانکہ یہ واقعہ ربیع الاول میں ہوا تھا خلاصہ یہ کہ میثم تمار کی اس روایت میں مذکورہ تصریحات وہ ہیں جو اصل میں نبوت و امامت کی علامات ہیں اور شیعہ مسلمانوں کے برسر حق ہونے کی روشن دلیل ہیں ۔ کیونکہ اس میں ان باتوں کا ذکر ہے جو ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں پس یہ تعجب کی بات ہے کہ اس واضح خبر کے باوجود ان لوگوں نے اپنے وہم وگمان کی بنا پر قراردی ہوئی جھوٹی باتوں کے مطابق دعائیں بنا لی ہیں جو بعض بے خبر اشخاص کی کتابوں میں درج ہیں کہ جن کو ان کی اصلیت کا کچھ بھی علم نہ تھا ۔ان کتابوں کے ذریعے سے یہ دعائیں عوام کے ہاتھوں میں پہنچ گئی ہیں، لیکن ان دعاؤں کا پڑھنا بدعت ہونے کے علاوہ حرام بھی ہے ان بدعت و حرام دعاؤں میں سے ایک یہ ہے۔

 

خدا کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے پاک ہے اللہ ترازو کے پورا ہونے علم کی آخری حدوں اور خوشنودیکی رسائی اور وزن عرش کے برابر ۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، سُبْحانَ اللهِ مِلءَ الْمِیزانِ، وَمُنْتَھَی الْعِلْمِ، وَمَبْلَغَ الرِّضا، وَزِنَةَ الْعَرْشِ

          دو تین سطروں کے بعد یہ ہے کہ دس مرتبہ صلوات پڑھے پھر یہ کہے :

اے روز عاشور آدم(ع) کی توبہ قبول کرنے والے اے عاشور کے دن ادریس (ع)کو آسمان پر لے جانے والے ایاے روز عاشور

 نوح(ع) کی کشتی کو جودی پہاڑ پر ٹکانے والے اے یوم عاشور ابراہیم (ع)کو آگ سے نجات دینے والے

یَا قَابِلَ تَوْبَةِ آدَمَ یَوْمَ عاشُوراءَ یَارافِعَ إِدْرِیسَ إِلَی السَّماءِ یَوْمَ عاشُوراءَ یَا مُسَکِّنَ سَفِینَةِ

نُوحٍ عَلَی الْجُودِیِّ یَوْمَ عاشُوراءَ، یَا غِیاثَ إِبْراھِیمَ مِنَ النَّارِ یَوْمَ عاشُورآءَ ۔

          اس میں شک نہیں کہ یہ دعا مدینے کے کسی ناصبی یا مسقط کے کسی خارجی نے یا ان کے کسی ہم عقیدہ نے گھڑی ہے ،اس طرح اس نے وہ ظلم کیا ہے جو بنی امیہ کے ظلم کو انتہاء تک پہنچا دیتا ہے یہ بیان کتاب شفاء الصدور کے مندرجات کا خلاصہ ہے جو یہاں ختم ہو گیا ہے ۔بہرحال یوم عاشور کے آخری وقت میں امام حسین(ع) کے اہل حرم انکی دختران اور اطفال کے حالات و واقعات کو نظر میں لانا چاہیے کہ اس وقت میدان کربلا میں ان پر کیا بیت رہی ہے ۔جب کہ وہ دشمنوں کے ہاتھوں قید میں ہیں اور اپنی مصیبتوں میں آہ و زاری کررہے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ اہلبیت(ع) پر وہ دکھ اور مصیبتیں آئی ہیں جو کسی انسان کے تصور میں نہیں آسکتیں اور قلم دان کو لکھنے کا یارا نہیں ،کسی شاعر نے اس سانحہ کو کیا خوب بیان کیا ہے :

یہ ایسی مصیبت ہے اگر اسے لکھوں          کسی یاد کرنے والے کیلئے مجمل سی یاد دھانی        تو میرے آنسو نکل پڑتے ہیں اور

میری آنکھوں اور اوراق کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں میرا دل کہتا ہے رحم کر مجھ پر نہیں میں  بخدا کو ئی پتھر کہ میری تو جان نکلے جارہی

اس پر روئے ہیں زمین و آسماں       اور جو کچھ ان کے درمیان ہے خون کے آنسو

 

فاجِعةٌ إِنْ أَرَدْتُ أَکْتُبُھا     مُجْمَلَةً ذِکْرَةً لِمُدَّکِرِ جَرَتْ دُمُوعَی فَحالَ حائِلُھا

مَا بَیْنَ لَحْظِ الْجُفُونِ وَالزُّبُرِ      وَقال قَلْبی بُقْیا عَلَیَّ فَلاَ     وَاللهِ مَا قَدْ طُبِعْتُ مِنْ حَجَرِ

بَکَتْ لَھَا الْاََرْضُ وَالسَّماءُ        وَمَا بَیْنَھُما فی مَدامِعٍ حُمُرِ

          یوم عاشور کے آخر وقت کھڑا ہو جائے اور رسول اللہ ، امیرالمؤمنین، جناب فاطمہ، امام حسن اور باقی ائمہ(ع) جو اولادامام حسین(ع) میں سے ہیں ،ان سب پر سلام بھیجے اور گریہ کی حالت میں ان کو پرسہ دے اور یہ زیارت پڑھے :

خدا کے نام سے( شروع کرتا ہوں)جو بڑا مہربا ن نہایت رحم والا ہے

بِسْمِ اللهِ الرَحْمنِ الرَحیمْ

آپ پر سلام ہو اے آدم(ع) کے وارث جو برگزیدئہ خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے نوح (ع)کے وارث جو اللہ کے نبی ہیں

آپ پر سلام ہو اے ابراہیم (ع)کے وارث جو اللہ کے دوست ہیں آپ پر سلام ہو اے موسیٰ (ع)کے وارث جو خدا کے کلیم (ع)ہیں

آپ پر سلام ہو اے عیسٰی (ع)کے وارث جو خدا کی روح ہیں آپ پر سلام ہو اے محمد کے وارث جو خدا کے حبیب ہیں

آپ پر سلام ہو اے علی(ع) کے وارث جو مؤمنوں کے امیر اور ولی خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے حسن(ع)کے وارث جو شہید ہیں

 اللہ کے رسول کے نواسے ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول کے فرزند آپ پر سلام ہو اے بشیر و نذیر اور وصیوں کے سردار کے فرزند آپ پر سلام

 ہو اے فرزند فاطمہ(ع) جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں آپ پر سلام ہو اے ابو عبدا(ع)للہ آپ پر سلام ہو اے خدا کے

 پسند کیے ہوئے اور پسندیدہ کے فرزند آپ پر سلام ہو اے شہید راہ خدا اور شہید کے فرزند آپ پر سلام ہو اے وہ مقتول جس کے قاتل ہلاک ہوگئے

 آپ پرسلام ہو اے ہدایت و پاکیزگی والے امام اور سلام ان روحوں پر جوآپ کے آستاں پر سوگئیں اور آپ کی قربت میں رہ رہی ہیں

اور سلام ہو ان پر جو آپکے زائروں کیساتھ آئیں میرا آپ پر سلام ہو جب تک میں زندہ ہوں اور جب تک رات دن کا سلسلہ قائم ہے

یقینا آپ پر بہت بڑی مصیبت گزری ہے اور اس سے بہت زیادہ سوگواری ہے مومنوں اور مسلمانوں میں آسمانوں میں رہنے والی

ساری مخلوق میں اور زمین میں رہنے والی خلقت میں پس اللہ ہم ہی کیلئے ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹ کر جائیں گے خدا کی رحمتیں

ہوں اس کی برکتیں آپ پر سلام ہو اور آپ کے آباء واجداد پر جو پاک نہاد نیک سیرت اور برگزیدہ ہیں اور ان کی اولاد پر کہ جو ہدایت یافتہ پیشوا ہیں

آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اور ان سب پرسلام ہو آپ کی روح پر اور ان کی روحوں پراور سلام ہو آپکے مزار پر اور ان کے مزاروں پر اے اللہ !ان سے

 مہربانی خوشنودی مسرت اور خوش روئی کے ساتھ پیش آئے آپ پر سلام ہو اے میرے سردار اے ابوعبد(ع)اللہ اے نبیوں کے خاتم کے فرزند

اے اوصیاء کے سردار کے فرزند اے جہانوں کی عورتوں کی سردار کے فرزند آپ پر سلام ہو اے شہید اے فرزند

 شہید اے برادر شہید اے پدر شہیداں اے اللہ! پہنچا ان کو میری طرف سے اس گھڑی میں آج کے دن میں اور موجودہ وقت میں

اور ہرہر وقت میں بہت بہت درود اور سلام، آپ پر اللہ کا سلام ہواللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں اے جہانوں

کے سردار کے فرزند اور ان پرجو آپ کے ساتھ شہید ہوئے سلام ہو لگاتار سلام جب تک رات دن باہم ملتے ہیں

حسین(ع) ابن علی(ع) شہید پر سلام ہو علی(ع) ابن حسین(ع) شہید پر سلام ہو

عباس(ع) ابن امیر المؤمنین(ع) شہید پر سلام ہوان شہیدوں پر سلام ہو جو امیرالمؤمنین(ع) کی اولاد میں سے ہیں

ان شہیدوں پر سلام ہو جواولاد حسن(ع) سے ہیں ان شہیدوں پر سلام ہو جو اولاد حسین(ع) سے ہیں ان شہیدوں پر سلام ہو جو جعفر

(ع)اور عقیل (ع)کی اولاد سے ہیں مومنوں میں سے ان سب شہیدوں پر سلام ہو جو ان کے ساتھشہید ہوئے اے اللہ! محمد و آل(ع) محمد پر رحمت نازل کر اور پہنچا ان

 کو میری طرف سے بہت بہت درود اور سلام آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول خدائے تعالیٰ آپ کے فرزند حسین (ع) کے بارے میں آپ کے ساتھ بہترین

تعزیت کرے آپ پر سلام ہو اے فاطمہ (ع) خدائے تعالیٰ آپ کے فرزند حسین (ع) کے بارے میں آپ کے ساتھ بہترین تعزیت کرے آپ پر سلام ہو اے

امیرالمؤمنین (ع) خدائے تعالیٰ آپ کے فرزند حسین (ع)کے بارے میں آپ کے ساتھ بہترین تعزیت کرے آپ پر سلام ہو اے ابومحمد(ع) حسن(ع) خدائے تعالیٰ

آپکے بھائی حسین (ع)کے بارے میں آپکے ساتھ بہترین تعزیت کرے اے میرے سردار اے ابوعبد(ع)اللہ میں اللہ کا مہمان اور آپ کا مہمان ہوں اور خدا کی

 پناہ اور آپکی پناہ میں ہوں یہاں ہر مہمان اور پناہ گیر کی پذیرائی ہوتی ہے اور اس وقت میری پذیرائی یہی ہے کہ آپ سوال کریں اللہ سے جو پاک تر اور

 عالی قدر ہے یہ کہ میری گردن کو عذاب جہنم سے آزاد کردے بے شک وہ دعا کا سننے والا ہے نزدیک تر قبول کرنے والا ۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ اللهِ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

یَا وارِثَ إِبْراھِیمَ خَلِیلِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ

عَیسی رُوحِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عَلِیٍّ

أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ لِیِّ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ الْحَسَنِ الشَّھِیدِ سِبْطِ رَسُولِ اللهِ اَلسَّلَامُ

عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ وَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ

عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا 

خِیَرَةَ اللهِ وَابْنَ خِیَرَتِہِ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ اللهِ وَابْنَ ثارِہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّھَا الْوِتْرُ الْمَوْتُورُ،

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا الْاِمامُ الْھادِی الزَّکِیُّ وَعَلَی أَرْواحٍ حَلَّتْ بِفِنائِکَ وَأَقامَتْ فَی جِوارِکَ

وَوَفَدَتْ مَعَ زُوَّارِکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مِنِّی مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ،فَلَقَدْ عَظُمَتْ بِکَ

الرَّزِیَّةُ وَجَلَّ الْمُصابُ فِی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ وَفِی أَھْلِ السَّمٰوَاتِ أَجْمَعِینَ وَفِی سُکَّانِ

الْاَرَضِینَ فَإِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ راجِعُونَ، وَصَلَواتُ اللهِ وَبَرَکاتُہُ وَتَحِیَّاتُہُ عَلَیْکَ وَعَلَی آبائِکَ

الطَّاھِرِینَ الطَّیِّبِینَ الْمُنْتَجَبِینَ وَعَلَی ذَرارِیھِمُ الْھُداةِ الْمَھْدِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ

وَعَلَیْھِمْ وَعَلَی رُوحِکَ وَعَلَی أَرْواحِھِمْ،وَعَلَی تُرْبَتِکَ وَعَلَی تُرْبَتِھِمْ اَللّٰھُمَّ لَقِّھِمْ رَحْمَةً 

وَرِضْواناً وَرَوْحاً وَرَیْحاناً اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ اللهِ یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ،وَیَابْنَ

سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، وَیَابْنَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَھِیدُ، یَابْنَ الشَّھِیدِ، یَا أَخَ

الشَّھِیدِ،یَا أَبَا الشُّھَداءِ ۔ اَللّٰھُمَّ بَلِّغْہُ عَنِّی فی ھذِہِ السَّاعَةِ وَفِی ھذَا الْیَوْمِ وَفِی ھذَا الْوَقْتِ

وَفِی کُلِّ وَقْتٍ تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً،سَلامُ اللهِ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکاتُہُ یَابْنَ سَیِّدِ الْعالَمِینَ

وَعَلَی الْمُسْتَشْھَدِینَ مَعَکَ سَلاماً مُتَّصِلاً مَا اتَّصَلَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ

عَلِیٍّ الشَّھِیدِ،اَلسَّلَامُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ الشَّھِیدِ،اَلسَّلَامُ عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ

الشَّھِیدِ اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّھَداءِ مِنْ وُلْدِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّھَداءِ مِنْ وُلْدِ الْحَسَنِ،

اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّھَداءِ مِنْ وُلْدِ الْحُسَیْنِ،اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّھَداءِ مِنْ وُلْدِ جَعْفَرٍ وَعَقِیلٍ اَلسَّلَامُ

عَلَی کُلِّ مُسْتَشْھَدٍ مَعَھُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْھُمْ عَنَّی

تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً۔اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللهِ أَحْسَنَ اللهُ لَکَ الْعَزاءَ فَی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ،

اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَةُ أَحْسَنَ اللهُ لَکِ الْعَزاءَ فَی وَلَدِکِ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ 

الْمُؤْمِنِینَ أَحْسَنَ اللهُ لَکَ الْعَزاءَ فِی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ

أَحْسَنَ اللهُ لَکَ الْعَزاءَ فَی أَخِیکَ الْحُسَیْنِ، یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ اللهِ أَنَا ضَیْفُ اللهِ وَضَیْفُکَ

وَجارُ اللهِ وَجارُکَ، وَ لِکُلِّ ضَیْفٍ وَجارٍ قِریً وَقِرایَ فِی ھذَا الْوَقْتِ أَنْ تَسْأَلَ اللهَ سُبْحانَہُ

وَتَعَالی أَنْ یَرْزُقَنِی فَکَاکَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ إِنَّہُ سَمِیعُ الدُّعاءِ قَرِیبٌ مُجِیبٌ ۔

Other Ziaraats at www.Ziaraat.org  & www.Ziaraat.com

Real Audio Ziarats below  :- 
Ashura (a) (b)
Arbaeen (a) (b)
Jameah (a) (b)
Warisa (a) (b)
Rasool Allah (sawa.)  (a) (b)
Naheyah (a) (b)
 
مفاتیح انڈیکس پر جایئں ہوم پیج پر جایئں قرآن انڈیکس پر جایئں
محرم صفر ربیع الاول رجب شعبان رمضان ذی القعد ذی الحج

 براہ مہربانی  اپنی  تجاویز  یہاں بھیجیں  

اس سائٹ کا کاپی رائٹ نہیں ہے