ماہ محرام  اور صفر - مفاتیح الجنان میں

 

ماہ محرام  اور صفر - مفاتیح الجنان میں

 

ساتویں فصل :ماہ محرم کے اعمال

PDF

                 واضح ہو کہ محرم کا مہینہ اہلبیت(ع)اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے ۔امام علی رضا (ع)سے روایت ہے کہ جب ماہ محرم آتا تھا تو کوئی شخص والد بزرگوار امام موسٰی کاظم (ع) کو ہنستے ہوئے نہ پاتا تھا ،آپ پر حزن و ملال طاری رہا کرتا اور جب دسویں محرم کا دن آتا تو آہ وزاری کرتے اور فرماتے کہ آج وہ دن ہے جس میں امام حسین (ع) کو شہید کیا گیا تھا ۔

پہلی محرم کی رات

سید نے کتاب اقبال میں اس رات کی چند نمازیں ذکر فرمائی ہیں :

(۱)سورکعت نماز جس کی ہر رکعت میں سورۃ الحمد اور سورۃ توحید پڑھے :

(۲)دورکعت نماز جسکی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورۃ انعام اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد سورۃ یاسین پڑھے :

(۳)دو رکعت نماز جس کی ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورۃ توحید پڑھے :روایت ہوئی ہے کہ رسول خدا ﷺنے فرمایا کہ جو شخص اس رات دو رکعت نماز ادا کرے اور اس کی صبح جو کہ سال کا پہلا دن ہے روزہ رکھے تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو سال بھر تک اعمال خیر بجا لاتا رہا ،وہ شخص اس سال محفوظ رہے گا اور اگر اسے موت آجائے تو وہ بہشت میں داخل ہو جائے گا ،نیز سید نے محرم کا چاند دیکھنے کے وقت کی ایک طویل دعا بھی نقل فرمائی ہے۔

پہلی محرم کا دن

                اسلامی سال کا پہلا دن ہے اس کے لئے دو عمل بیان ہوئے ہیں ۔

(۱)روزہ رکھے،اس ضمن میں ریان بن شبیب نے امام علی رضا (ع)سے روایت کی ہے ۔ کہ جو شخص پہلی محرم کاروزہ رکھے اور خدا سے کچھ طلب کرے تو وہ اس کی دعا قبول فرمائے گا ،جیسے حضرت زکریا (ع)کی دعا قبول فر مائی تھی ۔

(۲)امام علی رضا (ع)سے روایت ہوئی ہے کہ حضرت رسول ﷺپہلی محرم کے دن دو رکعت نماز ادا فرماتے اور نماز کے بعد اپنے ہاتھ سوئے آسمان بلند کر کے تین مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے :

اَللّٰھُمَّ أَنْتَ الْاِلہُ الْقَدِیمُ، وَھذِہِ سَنَةٌ جَدِیدَةٌ، فأَسْأَلُکَ فِیھَا الْعِصْمَةَ مِنَ الشَّیْطانِ وَالْقُوَّةَ عَلَی 

اے اللہ! تو معبود قدیمی ہے اور یہ نیا سال ہے جو اب آیا ہے پس اس سال کے دوران میں شیطان سے بچاوٴ کا سوال کرتاہوں اس

ھذِہِ النَّفْسِ الْاََمَّارَةِ بِالسُّوءِ وَالاشْتِغالَ بِما یُقَرِّبُنِی إِلَیْکَ یَا کَرِیمُ،یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ

نفس پر غلبے کا سوال کرتا ہوں جو برائی پر آمادہ کرتا ہے اور یہ کہ مجھے ان کاموں میں لگا جو مجھے تیرے نزدیک کریں اے مہربان اے جلالت اور

یَا عِمادَ مَنْ لا عِمادَ لَہُ یَا ذَخِیرَةَ مَنْ لا ذَخِیرَةَ لَہُ یَا حِرْزَ مَنْ لاَ حِرْزَ لَہُ یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَہُ

 بزرگی کے مالک اے بے سہاروں کے سہارے اے تہی دست لوگوں کے خزانے اے بے کسوں کے نگہباناے بے بسوں کے فریاد رس اے بے حیثیتوں کی

یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَہُ یَا کَنْزَ مَنْ لاَ کَنْزَ لَہُ یَا حَسَنَ الْبَلاءِ یَا عَظِیمَ الرَّجاءِ یَا عِزَّ الضُّعَفاءِ یَا 

 حیثیت اے بے خزانہ لوگوں کے خزانے اے بہتر آزمائش کرنے والے اے سب سے بڑی امید اے کمزوروں کی عزت اے ڈوبتوں کو تیرانے والے

مُنْقِذَ الْغَرْقیٰ یَا مُنْجِیَ الْھَلْکَیٰ یَا مُنْعِمُ یَا مُجْمِلُ یَا مُفْضِلُ یَا مُحْسِنُ أَنْتَ الَّذِی سَجَدَ لَکَ

 اے مرتوں کو بچانے والے اے نعمت والیاے جمال والے اے فضل والے اے احسان والے تو وہ ہے جس کو سجدہ کرتے ہیں رات کے اندھیرے دن کے

سَوادُ اللَّیْلِ وَنُورُ النَّھارِ وَضَوْءُ الْقَمَرِ، وَشُعاعُ الشَّمْسِ، وَدَوِیُّ الْماءِ، وَحَفِیفُ الشَّجَرِ

 اجالے چاند کی چاندنیاں سورج کی کرنیں پانی کی روانیاں اور درختوں کی سرسراہٹیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں اے اللہ ہمیں لوگوں نیک گماں کافی ہے

یَا اللهُ لاَ شَرِیکَ لَکَ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنا خَیْراً مِمَّا یَظُنُّونَ وَاغْفِرْ لَنا مَا لاَ یَعْلَمُونَ وَلاَ تُؤاخِذْنا بِما 

اسکے سوا کوئی معبود نہیں میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے ہمارا ایمان ہے کہ سب کچھ ہمارے رب کیطرف سے ہے اور صاحبان عقل

یَقُولُونَ حَسْبِیَ اللهُ لاَ إِلہَ إِلاَّ ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ، وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ

سے بھی زیادہ نیک بنا دے لوگ ہم کو اچھا سمجھتے ہیں ہمارے وہ گناہ بخش جن کو وہ نہیں جانتے اور جو کچھ وہ ہمارے بارے میں کہتے ہیں اس پرہماری گرفت نہ کر اللہ

رَبِّنا وَمَا یَذَّکَّرُ إِلاَّ أُولُوا الْاََلْبابِ، رَبَّنا لا تُزِغْ قُلُوبَنا بَعْدَ إِذْ ھَدَیْتَنا وَھَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً

کے سوا کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے جبکہ ہمیں تو نے ہدایت دی ہے اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر

إِنَّکَ أَنْتَ الْوَھَّابُ ۔

بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے ۔

                شیخ طوسی(علیہ الرحمہ) نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہے مگر یوم عاشورہ کو عصر تک کچھ نہ کھائے پیئے، عصر کے بعد، تھوڑی سی خاک شفا سے فاقہ شکنی کرے، سید نے پورے ماہ محرم کے روزے رکھنے کی فضیلت لکھی اور فرمایا ہے کہ اس مہینے کے روزے انسان کو ہر گناہ سے محفوظ رکھتے ہیں۔(۱)

 (۱) سوائے یوم عاشور کے کیونکہ اس دن کا روزہ مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک حرام ہے۔

تیسری محرم کا دن

                یہ وہ دن ہے جس دن حضرت یوسف (ع)قید خانے سے آزاد ہوئے تھے ،جو شخص اس دن کا روزہ رکھے حق تعالیٰ اس کی مشکلات آسان فرماتا ہے اور اس کے غم دور کر دیتا ہے نیز حضرت رسول ﷺسے روایت ہوئی ہے کہ اس دن کا روزہ رکھنے والے کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔

نویں محرم کا دن

                یہ روز تاسوعا حسینی ہے ،امام جعفر صادق (ع)سے روایت ہے کہ نو(۹) محرم کے دن فوج یزید نے امام حسین (ع)اور ان کے انصار کا گھیراؤ کر کے لوگوں کو ان کے قتل پر آمادہ کیا ابن مرجانہ اور عمر بن سعد اپنے لشکر کی کثرت پر خوش تھے اور امام حسین(ع) کو ان کی فوج کی قلت کے باعث کمزور و ضعیف سمجھ رہے تھے ۔انہیں یقین ہو گیا تھا کہ اب امام حسین (ع)کا کوئی یار و مددگار نہیں آسکتا اور عراق والے ان کی کچھ بھی مدد نہیں کرسکتے امام جعفر صادق (ع)نے یہ بھی فرمایا کہ اس غریب و ضعیف یعنی امام حسین (ع) پر میرے والد بزرگوار فدا وقربان ہوں ۔

دسویں محرم کی رات

                یہ شب عاشور ہے ،سید نے اس رات کی بہت سی بافضیلت نمازیں اور دعائیں نقل فرمائی ہیں ۔ان میں سے ایک سو رکعت نماز ہے ،جو اس رات پڑھی جاتی ہے اس کی ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد تین مرتبہ سورۃ توحید پڑھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر مرتبہ کہے :

سُبْحانَ اللهِ، وَالحَمْدُ للهِ، وَلاَ إِلہَ إِلاَّ اللهُ، وَاللهُ أَکْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ باللهِ العَلِیِّ العَظِیمِ

پاک تر ہے اللہ حمد اللہ ہی کے لئے ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ بزرگتر ہے اور نہیں ہے کوئی طاقت وقوت مگر وہی جو خدائے بلند و برتر سے ملتی ہے ۔

                بعض روایات میں ہے کہ العَلِیِّ العَظِیمِ  کے بعد استغفار بھی پڑھے :اس رات کے آخری حصے میں چار رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد دس مرتبہ آیةالکرسی۔دس مرتبہ سورۃ توحید دس مرتبہ سورۃ فلق اور دس مرتبہ سورۃ ناس کی قرائت کرے اور بعد از سلام سومرتبہ سورۃ توحید پڑھے :آج کی رات چار رکعت نماز ادا کرے جس کی ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورۃ توحید پڑھے ،یہ وہی نماز امیرالمؤمنین (ع)ہے کہ جس کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اس نماز کے بعد زیادہ سے زیادہ ذکر الہی کرے حضرت رسول پر صلوات بھیجے اور آپ کے دشمنوں پر بہت لعنت کرے ۔اس رات بیداری کی فضیلت میں روایت وارد ہوئی ہے کہ اس رات کو جاگنے والا اس کے مثل ہے جس نے تمام ملائکہ جتنی عبادت کی ہو، اس رات میں کی گئی عبادت ستر سال کی عبادت کے برابر ہے، اگر کسی شخص کیلئے یہ ممکن ہو تو آج رات کو اسے سر زمین کربلا میں رہنا چاہیے، جہاں وہ حضرت امام حسین (ع)کے روضہ اقدس کی زیارت کرے اور حضرت امام حسین (ع) کے قرب میں شب بیداری کرے تاکہ خدا اس کو امام حسین(ع) کے ساتھیوں میں شمار کرے جو اپنے خون میں لتھڑے ہوئے تھے۔

دسویں محرم کادن

                یہ یوم عاشور ہے جو امام حسین(ع) کی شہادت کا دن ہے یہ ائمہ طاہرین(ع) اور ان کے پیروکاروں کیلئے مصیبت کا دن ہے اور حزن و ملال میں رہنے کادن ہے ،بہتر یہی ہے کہ امام علی (ع) کے چاہنے اور ان کی اتباع کرنے والے مومن مسلمان آج کے دن دنیاوی کاموں میں مصروف نہ ہوں اور گھر کے لئے کچھ نہ کمائیں بلکہ نوحہ و ماتم اور نالہ بکاء کرتے رہیں ،امام حسین (ع) کیلئے مجالس برپا کریں اور اس طرح ماتم و سینہ زنی کریں جس طرح اپنے کسی عزیز کی موت پر ماتم کیا کرتے ہوں آج کے دن امام حسین(ع) کی زیارت عاشور پڑھیں جو تیسرے باب میں ذکر ہوگی ،حضرت کے قاتلوں پر بہت زیادہ لعنت کریں اور ایک دوسرے کو امام حسین(ع) کی مصیبت پر ان الفاظ میں پرسہ دیں۔

أَعْظَمَ اللهُ أُجُورَنا بِمُصأبِنا بِالْحُسَیْنِں وَجَعَلَنا وَإِیَّاکُمْ مِنَ الطَّالِبِینَ بِثارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الْاِمامِ

اللہ زیادہ کرے ہمارے اجر و ثواب کو اس پر جو کچھ ہم امام حسین(ع) کی سوگواری میں کرتے ہیں اور ہمیں تمہیں امام حسین(ع) کے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار  دے اپنے ولی امام مہدی(ع) کے ہم رکاب ہو کر کہ جو آل محمد(ع) میں سے ہیں ۔

                ضروری ہے کہ آج کے دن امام حسین(ع) کی مجلس اور واقعات شہادت کو پڑھیں خود روئیں اور دوسروں کو رلائیں ،روایت میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ (ع)کو حضرت خضر (ع)سے ملاقات کرنے اور ان سے تعلیم لینے کا حکم ہوا تو سب سے پہلی بات جس پر ان کے درمیان مذاکرہ مکالمہ ہوا وہ یہ ہے کہ حضرت خضر (ع)نے حضرت موسیٰ (ع)کے سامنے ان مصائب کا ذکر کیا جو آل محمد(ع) پہ آنا تھے ،اور ان دونوں بزرگواروں نے ان مصائب پر بہت گریہ و بکا کیا ۔ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:میں مقام ذیقار میں امیرالمؤمنین(ع) کے حضور گیاتو آپ نے ایک کتابچہ نکالا جو آپ کا اپنا لکھا ہوا اور رسول اللہ ﷺکا لکھوایا ہوا تھا، آپ نے اس کا کچھ حصہ میرے سامنے پڑھا اس میں امام حسین(ع) کی شہادت کا ذکر تھا اور اسی طرح یہ بھی تھا کہ شہادت کس طرح ہو گی اور کون آپ کو شہید کرے گا ،کون کون آپ کی مدد و نصرت کرے گا اور کون کون آپ کے ہمرکاب رہ کر شہید ہوگا یہ ذکر پڑھ کر امیرالمؤمنین(ع) نے خود بھی گریہ کیا اور مجھ کو بھی خوب رلایا ۔مؤلف کہتے ہیں اگر اس کتاب میں گنجائش ہوتی تو میں یہاں امام حسین(ع) کے کچھ مصائب ذکر کرتا ،لیکن موضوع کے لحاظ سے اس میں ان واقعات کا ذکر نہیں کیا جاسکتا ،لہذا قارئین میری کتب مقاتل کی طرف رجوع کریں ۔خلاصہ یہ کہ اگر کوئی شخص آج کے دن امام حسین(ع) کے روضہ اقدس کے نزدیک رہ کر لوگوں کو پانی پلاتا رہے تو وہ اس شخص کی مانند ہے، جس نے حضرت کے لشکر کو پانی پلایا ہو اور آپ کے ہمرکاب کربلا میں موجود رہا ہو آج کے دن ہزار مرتبہ سورۃ توحید پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے، روایت میں ہے کہ خدائے تعالیٰ ایسے شخص پر نظر رحمت فرماتا ہے ،سید نے آج کے دن ایک دعا پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے ۔جو دعائے عشرات کی مثل ہے ،بلکہ بعض روایات کے مطابق وہ دعا ئے عشرات ہی ہے ۔شیخ نے عبداللہ بن سنان سے انہوں نے امام جعفر صادق (ع) سے روایت کی ہے کہ یوم عاشور کو چاشت کے وقت چار رکعت نماز و دعا پڑھنی چاہیے کہ جسے ہم نے اختصار کے پیش نظر ترک کر دیا ہے پس جو شخص اسے پڑھنا چاہتا ہو وہ علامہ مجلسی کی کتاب زادالمعاد میں ملاحظہ کرے۔ یہ بھی ضروری اور مناسب ہے کہ شیعہ مسلمان آج کے دن فاقہ کریں، یعنی کچھ کھائیں پئیں نہیں، مگر روزے کا قصد بھی نہ کریں عصر کے بعد ایسی چیز سے افطار کریں جو مصیبت زدہ انسان کھاتے ہیں مثلا دودھ یا دھی و غیرہ نیز آج کے دن قمیضوں کے گریبان کھلے رکھیں اور آستینیں چڑھا کر ان لوگوں کی طرح رہیں جو مصیبت میں مبتلا ہو تے ہیں یعنی مصیبت زدہ لوگوں جیسی شکل و صورت بنائے رہیں ۔علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ نہ رکھے کیونکہ بنی امیہ اور ان کے پیروکار ان دو دنوں کو امام حسین(ع) کو قتل کرنے کے باعث بڑے بابرکت وحشمت تصور کرتے ہیں اور ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے ،انہوں نے بہت سی وضعی حدیثیں حضرت رسول کی طرف منسوب کر کے یہ ظاہر کیا کہ ان دو دنوں کا روزہ رکھنے کا بڑا اجر و ثواب ہے حالانکہ اہلبیت(ع) سے مروی کثیر حدیثوں میں ان دودنوں اور خاص کر یوم عاشور کا روزہ رکھنے کی مذمت آئی ہے ،بنی امیہ اور ان کی پیروی کرنے والے برکت کے خیال سے عاشورا کے دن سال بھر کا خرچہ جمع کر کے رکھ لیتے تھے اسی بنا پر امام رضا(ع) سے منقول ہے کہ جو شخص یوم عاشور اپنا دنیاوی کاروبار چھوڑے رہے تو حق تعالیٰ اس کے دنیا و آخرت سب کاموں کو انجام تک پہنچا دے گا ،جو شخص یوم عاشور کو گریہ و زاری اور رنج و غم میں گزارے تو خدائے تعالیٰ قیامت کے دن کو اس کیلئے خوشی و مسرت کا دن قرار دے گا اور اس شخص کی آنکھیں جنت میں اہلبیت(ع) کے دیدار سے روشن ہوں گی ،مگر جو لوگ یوم عاشورا کو برکت والا دن تصور کریں اور اس دن اپنے گھر میں سال بھر کا خرچ لا کر رکھیں تو حق تعالیٰ ان کی فراہم کی ہوئی جنس و مال کو ان کے لئے بابرکت نہ کرے گا اور ایسے لوگ قیامت کے دن یزید بن معاویہ ،عبیداللہ بن زیاد اور عمرابن سعد جیسے ملعون جہنمیوں کے ساتھ محشور ہوں گے اس لئے یوم عاشور میں کسی انسان کو دنیا کے کاروبار میں نہیں پڑنا چاہیے اور اس کی بجائے گریہ و زاری ،نوحہ و ماتم اور رنج و غم میں مشغول رہنا چاہیے نیز اپنے اہل و عیال کو بھی آمادہ کرے کہ وہ سینہ زنی و ماتم میں اس طرح مشغول ہوں جیسے اپنے کسی رشتہ دار کی موت پر ہوا کرتے ہیں ۔آج کے دن روزے کی نیت کے بغیر کھانا پینا ترک کیئے رہیں اور عصر کے بعد تھوڑے سے پانی و غیرہ سے فاقہ شکنی کریں اور دن بھر فاقے سے نہ رہیں مگر یہ کہ اس پر کوئی روزہ واجب ہو جیسے نذر وغیرہ آج کے دن گھر میں سال بھر کیلئے غلہ و جنس جمع نہ کرے ،آج کے دن ہنسنے سے پرہیز کریں، اور کھیل کود میں ہرگز مشغول نہ ہوں اور امام حسین(ع) کے قاتلوں پر ان الفاظ میں ہزار مرتبہ لعنت کریں:

اَللّٰھُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ الْحُسَیْنِ

اے اللہ:امام حسین (ع)کے قاتلوں پر لعنت کر

                مؤلف کہتے ہیں اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوم عاشور کا روزہ رکھنے کے بارے میں جو حدیثیں آئیں وہ سب جعلی اور بناوٹی ہیں اور ان کو جھوٹوں نے حضرت رسول ﷺکی طرف منسوب کیا ہے :

اَللَّھُمَّ انَّ ھَذَا یُوْمَ تَبَرَکْتَ بِہ بَنُوْ اُمَیَّةِ ۔

اے اللہ ! یہ وہ دن ہے جس کو بنی امیہ نے بابرکت قرار دیا ہے ۔

                صاحب شفا ء الصدور نے زیارت کے مندرجہ بالا جملے کے ذیل میں ایک طویل حدیث سے اس کی تشریح فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی امیہ آج کے منحوس دن کو چند وجوہات کی بنا پر بابرکت تصور کرتے تھے ۔

(۱) بنی امیہ نے آج کے دن آیندہ سال کے لئے غلہ و جنس جمع کر رکھنے کو مستحب جانا اور اس کو وسعت رزق اور خوشحالی کا سبب قراردیا چنانچہ اہلبیت(ع) کی طرف سے ان کے اس زعم باطل کی باربار تردید اور مذمت کی گئی ہے ۔

(۲)بنی امیہ نے آج کے دن کو روز عید قرار دیا اور اس میں عید کے رسوم جاری کیے ۔جیسے اہل و عیال کے لئے عمدہ لباس و خوراک فراہم کرنا ،ایک دوسرے سے گلے ملنا اور حجامت بنوانا وغیرہ لہذا یہ امور ان کے پیروکاروں میں عام طور پر رائج ہو گئے ۔

(۳)انہوں نے آج کے دن کا روزہ رکھنے کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وضع کیں اور اس دن روزہ رکھنے پر عمل پیرا ہوئے ۔

(۴)انہوں نے عاشور کے دن دعا کرنے اور اپنی حاجات طلب کرنے کو مستحب قرار دیا اس لئے اس سے متعلق بہت سے فضائل اور مناقب گھڑ لیے ،نیز آج کے دن پڑھنے کے لئے بہت سی دعائیں بنائیں اور انہیں عام کیا تاکہ لوگوں کو حقیقت واقعہ کی سمجھ نہ آئے چنانچہ وہ آج کے دن اپنے شہروں میں منبروں پر جو خطبے دیتے ،ان میں یہ بیان ہوا کرتا تھا کہ آج کے دن ہر نبی کے لئے شرف اور وسیلے میں اضافہ ہوا مثلا نمرود کی آگ بجھ گئی حضرت نوح کی کشتی کنارے لگی ،فرعون کا لشکر غرق ہوا حضرت عیسیٰ کو یہودیوں کے چنگل سے نجات حاصل ہوئی یعنی یہ سب امور آج کے دن وقوع میں آئے ۔تاہم ان کا یہ کہنا سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اس بارے میں شیخ صدوق نے جبلہ مکیہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے میثم تمار سے سنا وہ کہتے تھے: خدا کی قسم ! یہ امت اپنے نبی کے فرزند کو دسویں محرم کے دن شہید کرے گی اور خدا کے دشمن اس دن کو بابرکت دن تصور کریں گے یہ سب کام ہو کر رہیں گے اور یہ باتیں اللہ کے علم میں آچکیں ہیں یہ بات مجھے اس عہد کے ذریعے سے معلوم ہے ،جو مجھ کو امیرالمؤمنین(ع) کی طرف سے ملا ہے جبلہ کہتے ہیں کہ میں نے میثم سے عرض کی کہ وہ لوگ امام حسین(ع) کے روز شہادت کو کس طرح بابرکت قراردیں گے ؟تب میثم رو پڑے اور کہا لوگ ایک ایسی حدیث وضع کریں گے جس میں کہیں گے کہ آج کا دن ہی وہ دن ہے کہ جب حق تعالیٰ نے حضرت آدم (ع)کی توبہ قبول فرمائی۔ حالانکہ خدائے تعالیٰ نے ان کی توبہ ذی الحجہ میں قبول کی تھی وہ کہیں گے آج کے دن ہی خدانے حضرت یونس(ع) کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا حالانکہ خدانے ان کو ذی القعدہ میں شکم ماہی سے نکالا تھا وہ تصور کریں گے کہ آج کے دن حضرت نوح (ع) کی کشتی جودی پر رکی ،جبکہ کشتی ۱۸ ذی الحجہ کو رکی تھی وہ کہیں گے کہ آج کے دن ہی حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (ع)کیلئے دریا کو چیرا ،حالانکہ یہ واقعہ ربیع الاول میں ہوا تھا خلاصہ یہ کہ میثم تمار کی اس روایت میں مذکورہ تصریحات وہ ہیں جو اصل میں نبوت و امامت کی علامات ہیں اور شیعہ مسلمانوں کے برسر حق ہونے کی روشن دلیل ہیں ۔ کیونکہ اس میں ان باتوں کا ذکر ہے جو ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں پس یہ تعجب کی بات ہے کہ اس واضح خبر کے باوجود ان لوگوں نے اپنے وہم وگمان کی بنا پر قراردی ہوئی جھوٹی باتوں کے مطابق دعائیں بنا لی ہیں جو بعض بے خبر اشخاص کی کتابوں میں درج ہیں کہ جن کو ان کی اصلیت کا کچھ بھی علم نہ تھا ۔ان کتابوں کے ذریعے سے یہ دعائیں عوام کے ہاتھوں میں پہنچ گئی ہیں، لیکن ان دعاؤں کا پڑھنا بدعت ہونے کے علاوہ حرام بھی ہے ان بدعت و حرام دعاؤں میں سے ایک یہ ہے۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، سُبْحانَ اللهِ مِلءَ الْمِیزانِ، وَمُنْتَھَی الْعِلْمِ، وَمَبْلَغَ الرِّضا، وَزِنَةَ الْعَرْشِ

خدا کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے پاک ہے اللہ ترازو کے پورا ہونے علم کی آخری حدوں اور خوشنودیکی رسائی اور وزن عرش کے برابر ۔

                دو تین سطروں کے بعد یہ ہے کہ دس مرتبہ صلوات پڑھے پھر یہ کہے :

یَا قَابِلَ تَوْبَةِ آدَمَ یَوْمَ عاشُوراءَ یَارافِعَ إِدْرِیسَ إِلَی السَّماءِ یَوْمَ عاشُوراءَ یَا مُسَکِّنَ سَفِینَةِ

اے روز عاشور آدم(ع) کی توبہ قبول کرنے والے اے عاشور کے دن ادریس (ع)کو آسمان پر لے جانے والے ایاے روز عاشور

نُوحٍ عَلَی الْجُودِیِّ یَوْمَ عاشُوراءَ، یَا غِیاثَ إِبْراھِیمَ مِنَ النَّارِ یَوْمَ عاشُورآءَ ۔

 نوح(ع) کی کشتی کو جودی پہاڑ پر ٹکانے والے اے یوم عاشور ابراہیم (ع)کو آگ سے نجات دینے والے …

                اس میں شک نہیں کہ یہ دعا مدینے کے کسی ناصبی یا مسقط کے کسی خارجی نے یا ان کے کسی ہم عقیدہ نے گھڑی ہے ،اس طرح اس نے وہ ظلم کیا ہے جو بنی امیہ کے ظلم کو انتہاء تک پہنچا دیتا ہے یہ بیان کتاب شفاء الصدور کے مندرجات کا خلاصہ ہے جو یہاں ختم ہو گیا ہے ۔بہرحال یوم عاشور کے آخری وقت میں امام حسین(ع) کے اہل حرم انکی دختران اور اطفال کے حالات و واقعات کو نظر میں لانا چاہیے کہ اس وقت میدان کربلا میں ان پر کیا بیت رہی ہے ۔جب کہ وہ دشمنوں کے ہاتھوں قید میں ہیں اور اپنی مصیبتوں میں آہ و زاری کررہے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ اہلبیت(ع) پر وہ دکھ اور مصیبتیں آئی ہیں جو کسی انسان کے تصور میں نہیں آسکتیں اور قلم دان کو لکھنے کا یارا نہیں ،کسی شاعر نے اس سانحہ کو کیا خوب بیان کیا ہے :

فاجِعةٌ إِنْ أَرَدْتُ أَکْتُبُھا       مُجْمَلَةً ذِکْرَةً لِمُدَّکِرِ      جَرَتْ دُمُوعَی فَحالَ حائِلُھا

یہ ایسی مصیبت ہے اگر اسے لکھوں     کسی یاد کرنے والے کیلئے مجمل سی یاد دھانی            تو میرے آنسو نکل پڑتے ہیں اور

مَا بَیْنَ لَحْظِ الْجُفُونِ وَالزُّبُرِ  وَقال قَلْبی بُقْیا عَلَیَّ فَلاَ         وَاللهِ مَا قَدْ طُبِعْتُ مِنْ حَجَرِ

میری آنکھوں اور اوراق کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں میرا دل کہتا ہے رحم کر مجھ پر نہیں میں          بخدا کو ئی پتھر کہ میری تو جان نکلے جارہی

اس پر روئے ہیں زمین و آسماں                 اور جو کچھ ان کے درمیان ہے خون کے آنسو

                یوم عاشور کے آخر وقت کھڑا ہو جائے اور رسول اللہ ﷺ، امیرالمؤمنین، جناب فاطمہ، امام حسن اور باقی ائمہ(ع) جو اولادامام حسین(ع) میں سے ہیں ،ان سب پر سلام بھیجے اور گریہ کی حالت میں ان کو پرسہ دے اور یہ زیارت پڑھے :

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ اللهِ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ

آپ پر سلام ہو اے آدم(ع) کے وارث جو برگزیدئہ خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے نوح (ع)کے وارث جو اللہ کے نبی ہیں

یَا وارِثَ إِبْراھِیمَ خَلِیلِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ

آپ پر سلام ہو اے ابراہیم (ع)کے وارث جو اللہ کے دوست ہیں آپ پر سلام ہو اے موسیٰ (ع)کے وارث جو خدا کے کلیم (ع)ہیں

عَیسی رُوحِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عَلِیٍّ

آپ پر سلام ہو اے عیسٰی (ع)کے وارث جو خدا کی روح ہیں آپ پر سلام ہو اے محمد کے وارث جو خدا کے حبیب ہیں

أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ لِیِّ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ الْحَسَنِ الشَّھِیدِ سِبْطِ رَسُولِ اللهِ اَلسَّلَامُ

آپ پر سلام ہو اے علی(ع) کے وارث جو مؤمنوں کے امیر اور ولی خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے حسن(ع)کے وارث جو شہید ہیں

عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ وَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ

 اللہ کے رسول کے نواسے ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول کے فرزند آپ پر سلام ہو اے بشیر و نذیر اور وصیوں کے سردار کے فرزند آپ پر سلام

عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِ اللهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا 

 ہو اے فرزند فاطمہ(ع) جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں آپ پر سلام ہو اے ابو عبدا(ع)للہ آپ پر سلام ہو اے خدا کے

خِیَرَةَ اللهِ وَابْنَ خِیَرَتِہِ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ اللهِ وَابْنَ ثارِہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّھَا الْوِتْرُ الْمَوْتُورُ،

 پسند کیے ہوئے اور پسندیدہ کے فرزند آپ پر سلام ہو اے شہید راہ خدا اور شہید کے فرزند آپ پر سلام ہو اے وہ مقتول جس کے قاتل ہلاک ہوگئے

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا الْاِمامُ الْھادِی الزَّکِیُّ وَعَلَی أَرْواحٍ حَلَّتْ بِفِنائِکَ وَأَقامَتْ فَی جِوارِکَ

 آپ پرسلام ہو اے ہدایت و پاکیزگی والے امام اور سلام ان روحوں پر جوآپ کے آستاں پر سوگئیں اور آپ کی قربت میں رہ رہی ہیں

وَوَفَدَتْ مَعَ زُوَّارِکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مِنِّی مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ،فَلَقَدْ عَظُمَتْ بِکَ

اور سلام ہو ان پر جو آپکے زائروں کیساتھ آئیں میرا آپ پر سلام ہو جب تک میں زندہ ہوں اور جب تک رات دن کا سلسلہ قائم ہے

الرَّزِیَّةُ وَجَلَّ الْمُصابُ فِی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ وَفِی أَھْلِ السَّمٰوَاتِ أَجْمَعِینَ وَفِی سُکَّانِ

یقینا آپ پر بہت بڑی مصیبت گزری ہے اور اس سے بہت زیادہ سوگواری ہے مومنوں اور مسلمانوں میں آسمانوں میں رہنے والی

الْاَرَضِینَ فَإِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ راجِعُونَ، وَصَلَواتُ اللهِ وَبَرَکاتُہُ وَتَحِیَّاتُہُ عَلَیْکَ وَعَلَی آبائِکَ

ساری مخلوق میں اور زمین میں رہنے والی خلقت میں پس اللہ ہم ہی کیلئے ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹ کر جائیں گے خدا کی رحمتیں

الطَّاھِرِینَ الطَّیِّبِینَ الْمُنْتَجَبِینَ وَعَلَی ذَرارِیھِمُ الْھُداةِ الْمَھْدِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ

ہوں اس کی برکتیں آپ پر سلام ہو اور آپ کے آباء واجداد پر جو پاک نہاد نیک سیرت اور برگزیدہ ہیں اور ان کی اولاد پر کہ جو ہدایت یافتہ پیشوا ہیں

وَعَلَیْھِمْ وَعَلَی رُوحِکَ وَعَلَی أَرْواحِھِمْ،وَعَلَی تُرْبَتِکَ وَعَلَی تُرْبَتِھِمْ اَللّٰھُمَّ لَقِّھِمْ رَحْمَةً 

آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اور ان سب پرسلام ہو آپ کی روح پر اور ان کی روحوں پراور سلام ہو آپکے مزار پر اور ان کے مزاروں پر اے اللہ !ان سے

وَرِضْواناً وَرَوْحاً وَرَیْحاناً اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ اللهِ یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ،وَیَابْنَ

 مہربانی خوشنودی مسرت اور خوش روئی کے ساتھ پیش آئے آپ پر سلام ہو اے میرے سردار اے ابوعبد(ع)اللہ اے نبیوں کے خاتم کے فرزند

سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، وَیَابْنَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَھِیدُ، یَابْنَ الشَّھِیدِ، یَا أَخَ

اے اوصیاء کے سردار کے فرزند اے جہانوں کی عورتوں کی سردار کے فرزند آپ پر سلام ہو اے شہید اے فرزند

الشَّھِیدِ،یَا أَبَا الشُّھَداءِ ۔ اَللّٰھُمَّ بَلِّغْہُ عَنِّی فی ھذِہِ السَّاعَةِ وَفِی ھذَا الْیَوْمِ وَفِی ھذَا الْوَقْتِ

 شہید اے برادر شہید اے پدر شہیداں اے اللہ! پہنچا ان کو میری طرف سے اس گھڑی میں آج کے دن میں اور موجودہ وقت میں

وَفِی کُلِّ وَقْتٍ تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً،سَلامُ اللهِ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکاتُہُ یَابْنَ سَیِّدِ الْعالَمِینَ

اور ہرہر وقت میں بہت بہت درود اور سلام، آپ پر اللہ کا سلام ہواللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں اے جہانوں

وَعَلَی الْمُسْتَشْھَدِینَ مَعَکَ سَلاماً مُتَّصِلاً مَا اتَّصَلَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ

کے سردار کے فرزند اور ان پرجو آپ کے ساتھ شہید ہوئے سلام ہو لگاتار سلام جب تک رات دن باہم ملتے ہیں

عَلِیٍّ الشَّھِیدِ،اَلسَّلَامُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ الشَّھِیدِ،اَلسَّلَامُ عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ

حسین(ع) ابن علی(ع) شہید پر سلام ہو علی(ع) ابن حسین(ع) شہید پر سلام ہو

الشَّھِیدِ اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّھَداءِ مِنْ وُلْدِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّھَداءِ مِنْ وُلْدِ الْحَسَنِ،

عباس(ع) ابن امیر المؤمنین(ع) شہید پر سلام ہوان شہیدوں پر سلام ہو جو امیرالمؤمنین(ع) کی اولاد میں سے ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّھَداءِ مِنْ وُلْدِ الْحُسَیْنِ،اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّھَداءِ مِنْ وُلْدِ جَعْفَرٍ وَعَقِیلٍ اَلسَّلَامُ

ان شہیدوں پر سلام ہو جواولاد حسن(ع) سے ہیں ان شہیدوں پر سلام ہو جو اولاد حسین(ع) سے ہیں ان شہیدوں پر سلام ہو جو جعفر

عَلَی کُلِّ مُسْتَشْھَدٍ مَعَھُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْھُمْ عَنَّی

(ع)اور عقیل (ع)کی اولاد سے ہیں مومنوں میں سے ان سب شہیدوں پر سلام ہو جو ان کے ساتھشہید ہوئے اے اللہ! محمد و آل(ع) محمد پر رحمت نازل کر اور پہنچا ان

تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً۔اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللهِ أَحْسَنَ اللهُ لَکَ الْعَزاءَ فَی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ،

 کو میری طرف سے بہت بہت درود اور سلام آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول خدائے تعالیٰ آپ کے فرزند حسین (ع) کے بارے میں آپ کے ساتھ بہترین

اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَةُ أَحْسَنَ اللهُ لَکِ الْعَزاءَ فَی وَلَدِکِ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ 

تعزیت کرے آپ پر سلام ہو اے فاطمہ (ع) خدائے تعالیٰ آپ کے فرزند حسین (ع) کے بارے میں آپ کے ساتھ بہترین تعزیت کرے آپ پر سلام ہو اے

الْمُؤْمِنِینَ أَحْسَنَ اللهُ لَکَ الْعَزاءَ فِی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ

امیرالمؤمنین (ع) خدائے تعالیٰ آپ کے فرزند حسین (ع)کے بارے میں آپ کے ساتھ بہترین تعزیت کرے آپ پر سلام ہو اے ابومحمد(ع) حسن(ع) خدائے تعالیٰ

أَحْسَنَ اللهُ لَکَ الْعَزاءَ فَی أَخِیکَ الْحُسَیْنِ، یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ اللهِ أَنَا ضَیْفُ اللهِ وَضَیْفُکَ

آپکے بھائی حسین (ع)کے بارے میں آپکے ساتھ بہترین تعزیت کرے اے میرے سردار اے ابوعبد(ع)اللہ میں اللہ کا مہمان اور آپ کا مہمان ہوں اور خدا کی

وَجارُ اللهِ وَجارُکَ، وَ لِکُلِّ ضَیْفٍ وَجارٍ قِریً وَقِرایَ فِی ھذَا الْوَقْتِ أَنْ تَسْأَلَ اللهَ سُبْحانَہُ

 پناہ اور آپکی پناہ میں ہوں یہاں ہر مہمان اور پناہ گیر کی پذیرائی ہوتی ہے اور اس وقت میری پذیرائی یہی ہے کہ آپ سوال کریں اللہ سے جو پاک تر اور

وَتَعَالی أَنْ یَرْزُقَنِی فَکَاکَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ إِنَّہُ سَمِیعُ الدُّعاءِ قَرِیبٌ مُجِیبٌ ۔

 عالی قدر ہے یہ کہ میری گردن کو عذاب جہنم سے آزاد کردے بے شک وہ دعا کا سننے والا ہے نزدیک تر قبول کرنے والا ۔

پچیسویں محرم کا دن

                بہت سے علما کے نزدیک ۲۵ محرم ۹۴ھ کے دن امام زین العابدین(ع) کی شہادت واقع ہوئی تھی، بعض علماء نے آپکی شہادت کا دن ۱۲ محرم ۹۵ھ بیان کیا ہے، کہ جس سال کو سنةالفقہاء کا نام دیا گیا ہے ۔

 

آٹھویں فصل:ماہ صفر کے اعمال

PDF

                یہ مہینہ اپنی نحوست کے ساتھ مشہور ہے اور نحوست کو دور کرنے میں صدقہ دینے ،دعا کرنے اور خدا سے پناہ طلب کرنے سے بہتر کوئی اور چیز وارد نہیں ہوئی اگر کوئی شخص اس مہینے میں وارد ہونے والی بلاؤں سے محفوظ رہنا چاہے تو جیسا کہ محدث فیض اور دیگر بزرگوں نے فرمایا ہے، وہ اس دعا کو ہر روز دس مرتبہ پڑھتا رہے :

یَا شَدِیدَ الْقُویٰ وَیَا شَدِیدَ الْمِحالِ یَا عَزِیزُ یَا عَزِیزُ یَا عَزِیزُ ذَ لَّتْ بِعَظَمَتِکَ جَمِیعُ خَلْقِکَ

اے زبردست قوتوں والے اے سخت گرفت کرنے والے اے غالب اے غالب اے غالب تیری بڑائی کے آگے تیری ساری

فَاکْفِنِی شَرَّ خَلْقِکَ، یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ یَا لاَ إِلہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إِنِّی 

مخلوق پست ہے پس اپنی مخلوق کے شر سے بچائے رکھ اے احسان والے اے نیکی والے اے نعمت والے اے فضل والیاے کہ نہیں کوئی معبود سوائے تیرے

کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنا لَہُ وَنَجَّیْناہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ، وَصَلَّی اللهُ 

 تو پاک تر ہے بے شک میں ظالموں میں سے ہوں پس ہم نے اسکی دعا قبول کی اور اسے نجات دے دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں خدا

عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ ۔

 محمد اور ان کی آل(ع) پر رحمت نازل کرے جو پاک و پاکیزہ ہیں ۔

سید نے اس مہینے کا چاند دیکھنے کے وقت کی ایک دعا بھی نقل کی ہے

پہلی صفر کادن

                ۳۷ھ میں اس دن امیرالمؤمنین(ع) اور معاویہ کے درمیان جنگ صفین لڑی گئی ،ایک قول کے مطابق ۶۱ ھ میں،اس دن امام حسین(ع) کا سر مبارک دمشق پہنچایا گیا جس سے بنی امیہ کو خوشی ہوئی اور انہوں نے عید منائی یہی وجہ ہے کہ اس روز رنج و غم تازہ ہو جاتا ہے ،اس دن عراق کے مومنین کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوتی ہے اور شام میں بنی امیہ اس کو عید قرار دے رہے ہوتے ہیں اس دن یا ایک قول کے مطابق ۱۲۱ھ میں تیسری صفر کے دن امام زین العابدین (ع)کے فرزند زید کو شہید کیا گیا ۔

تیسری صفر کا دن

                سید ابن طاؤس ہمارے علماء کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں کہ اس دن دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے اس کی پہلی رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد سورۃ انا فتحنا اور دوسری رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد سورۃ توحید پڑھے پھر سو مرتبہ صلوات پڑھے اور سو مرتبہ کہے :

اَللَّھُمَّ الْعَنْ آَلَ اَبِیْ سُفْیَانَ۔

اے اللہ! آل ابو سفیان پر پھٹکار بھیج ۔     

         اس کے بعد سو مرتبہ استغفار کرے اور اپنی حاجات طلب کرے ۔                                                                      

ساتویں صفر کا دن

                شہید اور کفعمی کے قول کے مطابق ۷ صفر ۱۲۸ھء کو مکہ مدینہ کے درمیان ابواء کے مقام پر حضرت امام موسیٰ کاظم (ع)کی ولادت باسعادت ہوئی ۔

بیسویں صفر کا دن

                یہ امام حسین(ع) کے چہلم کا دن ہے، بقول شیخین، امام حسین (ع)کے اہل حرم نے اسی دن شام سے مدینہ کی طرف مراجعت کی، اسی دن جابر بن عبداللہ انصاری حضرت امام حسین(ع) کی زیارت کیلئے کربلا معلی پہنچے اور یہ بزرگ حضرت امام حسین(ع) کے اولین زائر ہیں، آج کے دن حضرت امام حسین(ع) کی زیارت کرنا مستحب ہے، حضرت امام حسن عسکری (ع) سے روایت ہوئی ہے کہ مومن کی پانچ علامتیں ہیں:

 (۱)رات دن میں اکاون رکعت نماز فریضہ و نافلہ ادا کرنا

 (۲)زیارت اربعین پڑھنا            

(۳)دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا               

(۴)سجدے میں پیشانی خاک پر رکھنا،

(۵)اور نماز میں بہ آواز بلند بِسْمِ اللهِ الرَحْمنِ الرَحیمْ  پڑھنا، نیز شیخ نے تہذیب او ر مصباح میں اس دن کی مخصوص زیارت حضرت امام جعفر صادق (ع)سے نقل کی ہے جسے ہم انشاء اللہ باب زیارات میں درج کریں گے ۔

اٹھائیسویں صفر کا دن

                ۱۱ ھ ۲۸ صفر سوموار کے دن رسول اکرم ﷺکی وفات ہوئی ،جبکہ آپ کی عمر شریف تریسٹھ ۶۳ سال تھی ۔چالیس سال کی عمر میں آپ تبلیغ رسالت کیلئے مبعوث ہوئے ،اس کے بعد تیرہ سال تک مکہ معظمہ میں لوگوں کو خدا پرستی کی دعوت دیتے رہے ترپن برس کی عمر میں آپ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پھر ان کے دس سال بعد آپ نے اس دنیاء فانی سے رحلت فرمائی امیرالمؤمنین(ع) نے بنفس نفیس آپ کو غسل و کفن دیا حنوط کیا اور آپ کی نماز جنازہ پڑھی پھر دوسرے لوگوں نے بغیر کسی امام کے گروہ در گروہ آپ کا جنازہ پڑھا، بعد میں امیرالمؤمنین(ع) نے آنحضرت ﷺکو اسی حجرے میں دفن کیا، جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی ۔انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے دفن کے بعد جناب سیدہ (سلام اللہ علیھا) میرے قریب آئیں اور فرمایا اے انس ! تمہارے دلوں نے یہ کس طرح گوارا کیا کہ آنحضرت کے جسد مبارک پر مٹی ڈالی جائے ۔پھر آپ نے روتے ہوئے فرمایا

یٰا اَبَتَاہُ اَجٰابَ رَبّاً دَعٰاہُ         یَا اَبَتَاہُ مِنْ رَبِہِ مَا اَدْنٰاہُ

بابا جان نے رب کی آواز پر لبیک کہا            بابا جان آپ اپنے رب کے کتنے قریب ہیں

                ایک معتبر روایت کے مطابق بی بی (سلام اللہ علیھا) نے آنحضرت کی قبر مبارک کی تھوڑی سی مٹی لے کر آنکھوں سے لگائی اور فرمایا:

مَاذا عَلَی الْمُشْتَمِّ تُرْبَةَ أَحْمَدٍ           أَنْ لاَ یَشَمَّ مَدَی الزَّمانِ غَوالِیا

                             جو احمد مجتبی کی تربت کی خوشبو سونگھے                          وہ تا زندگی دوسری خوشبو نہ سونگھے گا

صُبَّتْ عَلَیَّ مَصائِبٌ لَوْ أَنَّھا           صُبَّتْ عَلَی الْاَیّامِ صِرْنَ لَیالِیا

مجھ پر وہ مصیبتیں پڑی ہیں اگر وہ                 دنوں پر آتیں تو وہ کالی راتیں بن جاتے

                شیخ یوسف شامی نے درالنظیم میں نقل کیا ہے کہ جناب سیدہ (سلام اللہ علیھا)نے اپنے والد بزرگوار پر یہ مرثیہ پڑھا :

قُلْ لِلْمُغَیِّبِ تَحْتَ أَطْباقِ الثَّریٰ   إِنْ کُنْتَ تَسْمَعُ صَرْخَتِی وَنِدائِیا        صُبَّتْ عَلَیَّ مَصائِبٌ لَوْ أَنَّھا 

خاک پردوں میں غائب ہونے والے سے کہو      اگر تو میری فریاد اور پکار سن رہا ہے  مجھ پر وہ مصیبتیں پڑی ہیں کہ اگر وہ

        صُبَّتْ عَلَی الْاََیَّامِ صِرْنَ لَیالِیا                  قَدْکُنْتُ ذاتَ حِمیً بِظِلِّ مُحَمَّدٍ                 لاَأَخْشَی مِنْ ضَیْمٍ وَکانَ حِمیً لِیا

دنوں پر آتیں تو وہ کالی راتیں بن جاتے                       میں محمد کی حمایت کے سائے میں تھی                مجھے کسی کے ظلم کا ڈر نہ تھا ان کی پناہ میں

فَالْیَوْمَ أَخْضَعُ لِلذَّلِیلِ وَأَتَّقِی                  ضَیْمِی وَأَدْفَعُ ظالِمِی بِرِدائِیا فَإِذا بَکَتْ قُمْرِیَّةٌ فِی لَیْلِھا

لیکن آج پست لوگوں کے سامنے حاضر ہوں ظلم کا خوف ہے اپنی چادر سے ظالم کو ہٹاتی ہوں رات کی تاریکی میں جب قمری شاخ پر روئے

 شَجَناً عَلی غُصْنٍ بَکَیْتُ صَباحِیا    فَلَاَجْعَلَنَّ الْحُزْنَ بَعْدَکَ مُؤنِسِی  وَلَاَجْعَلَنَّ الدَّمْعَ فِیکَ وِشاحِیا

میں شاخ پر صبح کے وقت روتی ہوں بابا آپ کے بعد میں نے غم کو اپنا ہمدم بنا لیا آپ کے غم میں اشکوں کے ہار پروتی ہوں

                شہید اور کفعمی کے بقول ۵۰ھ میں اٹھائیسویں صفر کو امام حسن(ع) کی شہادت ہوئی جبکہ جعدہ بنت اشعث نے معاویہ کے اشارے پر آپ کو زہر دیا تھا ۔

صفر کا آخری دن

                شیخ طبرسی وابن اثیر کے بقول ۲۰۳ھ میں اسی دن امام علی رضا (ع)کی شہادت اس زہر سے ہوئی جو آپ کو انگور میں دیا گیا ۔جب کہ آپ کی عمر ۵۵ برس تھی آپ کا روضہ مبارک سناباد نامی بستی میں حمید بن قحطبہ کے مکان میں ہے ،جو طوس کا علاقہ ہے اب وہ مشہد مقدس کے نام سے مشہور ہے جہاں لاکھوں افراد زیارت کو آتے ہیں ،ہارون الرشید عباسی کی قبر بھی وہیں ہے ۔

 

 

 
اپنے خیالات بھیجنے کی زحمت کریں